احساسِ کمتری

اُس ذہنی کیفیت کو کہتے ہیں جس میں انسان اپنے آپ کو دوسروں سے کم تر، ناکام، کم اہم یا نااہل سمجھنے لگتا ہے، چاہے حقیقت میں ایسا نہ بھی ہو۔ ایسا شخص اکثر اپنی صلاحیتوں، شخصیت، شکل، مالی حالت، تعلیم، عہدے یا سماجی حیثیت کو دوسروں سے کم سمجھتا رہتا ہے۔

یہ ایک مسلسل اندرونی احساس ہوتا ہے کہ “میں دوسروں جتنا اچھا نہیں ہوں”۔

احساسِ کمتری میں مبتلا شخص کی عام علامات اور رویے یہ ہیں جو ہم اپنے آس پاس معاشرے میں محسوس کرتے ہیں۔

1: ایسا شخص ہر وقت اپنے آپ کا دوسروں سے موازنہ کرتا ہے،
دوسروں کی کامیابی دیکھ کر خود کو ناکام سمجھتا ہے۔

2: ضرورت سے زیادہ حساس ہو جاتا ہے
معمولی تنقید پر بھی دل برداشتہ ہو جاتا یا غصہ کرتا ہے۔

3: خود کو کم تر ظاہر کرنا بھی اس کی ایک نشانی ہے
بار بار اپنے آپ سے کہنا: “میں کچھ نہیں کر سکتا”، “میرے بس کی بات نہیں”۔ حالانکہ اس شخص میں کئی ایسی صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں کہ وہ بہت کچھ کر سکتا ہے۔

4: حد سے زیادہ دکھاوا یا بڑائی کرتا رہتا ہے۔
بعض لوگ اپنی کمزوری چھپانے کے لیے بہت زیادہ شیخی، دولت، تعلقات یا عہدے کا اظہار کرتے ہیں۔ اگر خود عہدے دار نہ بھی ہوں تو مختلف نامی گرامی شخصیات کے ساتھ اپنے تعلقات ظاہر کرتا ہے، جیسے انہیں مبارکباد دینے اور ان کے ریپلائے پر بھی بڑے بڑے دعوے، اور کئی ایک مرتبہ جعلی اسکرین شاٹ شیئر کرتا ہے تا کہ لوگوں کو پتہ چل سکے کہ میرے فلاں فلاں سے بڑے بڑے تعلقات ہیں۔ جبکہ حقیقی ملاقات و محافل کی تفصیلات شئیر کرنا یا سفر نامہ لکھنا نفسیاتی و احساسِ کمتری نہیں بلکہ تخلیقی صلاحیتوں میں سے ایک ہے۔

5: احساس کمتری میں مبتلا شخص حد سے زیادہ دکھاوا اور بڑائی شئیر کر کے دوسروں کو نیچا دکھاتا ہے۔
تنقید، طنز، حسد یا دوسروں کی کامیابی کو کم اہم ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔

6: ایسا شخص لوگوں سے کٹ جاتا ہے
محافل ، تقریبات یا نئے لوگوں سے ملنے سے گھبراتا ہے کہ کہیں لوگ مذاق نہ اڑائیں۔

7: ایسا شخص فیصلہ کرنے میں کمزوری محسوس کرتا ہے۔
ہر کام میں اعتماد کی کمی اور دوسروں کی منظوری کا انتظار کرتا ہے۔

8: بہت زیادہ خوشامد یا ہر کسی کو خوش کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے
“نہ” کہنے سے ڈرنا، صرف قبولیت حاصل کرنے کے لیے اپنی رائے قربان کرتا ہے۔

9: دوسروں کی ترقی یا تعریف بھی برداشت نہیں کرتا۔

10. ناکامی کے خوف سے کوشش ہی نہیں کرتا۔
یہ سوچ کر پیچھے ہٹ جاتا ہے کہ “میں ویسے بھی کامیاب نہیں ہوں گا”۔

یہ ضروری نہیں کہ ہر شخص میں یہ تمام علامات ہوں۔ بعض لوگ خاموش اور اندر سے ٹوٹے ہوئے نظر آتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ بظاہر بہت پراعتماد لگتے ہیں مگر اندر سے شدید احساسِ کمتری کا شکار ہوتے ہیں۔

احساسِ کمتری کی وجوہات میں بچپن کی مسلسل تنقید، غربت، ناکامیاں، دوسروں سے موازنہ، ظاہری شکل و صورت، معذوری یا سماجی دباؤ شامل ہو سکتے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ احساسِ کمتری ایک مستقل بیماری نہیں ہے، بلکہ ایک ذہنی کیفیت ہے جس پر کام کیا جا سکتا ہے۔ خود اعتمادی، مثبت ماحول، اپنی صلاحیتوں کی پہچان، اور بعض صورتوں میں ماہرِ نفسیات سے رہنمائی مفید رہتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے