مجھے یاد ہے بچپن میں اسلام آباد کی مئی کی دوپہر بھی برداشت کے قابل ہوتی تھی۔ چھت پر بیٹھ کر کتاب پڑھنا ممکن تھا، پنکھے کی ہوا کافی ہوتی تھی اور گھر کی دیواریں ٹھنڈی رہتی تھیں۔ اپریل میں تو باقاعدہ بارشیں ہوتی تھیں، مارگلہ کی پہاڑیوں سے بادل اترتے تھے، مٹی کی خوشبو اٹھتی تھی اور لگتا تھا کہ موسم ابھی ہمارا ساتھی ہے۔ رات کو کھلے آسمان تلے سونا ایک عام بات تھی۔ آج صبح جب میں باہر نکلی تو چند منٹ میں محسوس ہوا جیسے ہوا نہیں، آگ چل رہی ہو اور ساتھ ایک ایسی گھٹن ہو جو سانس کو بھاری کر دے۔ میں سوچتی رہی کہ کیا واقعی موسم بدل گیا ہے یا بس میری یادیں دھوکہ دے رہی ہیں۔ نہیں، یادیں درست ہیں، موسم بدل گیا ہے۔
اس سال گرمی مارچ ہی سے شروع ہو گئی تھی، جب لاہور کا درجہ حرارت اوسط سے نو ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ اب مئی میں جنوبی پنجاب میں باون ڈگری تک پہنچنے کی خبریں آ رہی ہیں۔ اسلام آباد میں بھی درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے، مگر گرمی کے ساتھ گھٹن نے اسے مزید ناقابلِ برداشت بنا دیا ہے۔ بارشیں، جو پہلے اپریل اور مئی میں باقاعدگی سے ہوتی تھیں، اب یا تو کم ہو گئی ہیں یا اپنی سابقہ تازگی کھو چکی ہیں۔ یہ محض موسم کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک واضح انتباہ ہے۔ مگر سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ہم اس تبدیلی کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ ہر سال ہم کہتے ہیں کہ "اس سال بہت گرمی ہے”، اور اگلے سال یہی جملہ ایک نئے ریکارڈ کے ساتھ دہرایا جاتا ہے۔
پاکستان دنیا کے مجموعی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، مگر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سب سے زیادہ شدید انداز میں یہی ملک برداشت کر رہا ہے۔ یہ صورتحال غیر منصفانہ ضرور ہے، لیکن حقیقت بھی ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف سرکاری اعلانات یا موسمیاتی انتباہات میں نہیں، بلکہ اجتماعی شعور اور عملی اقدامات میں پوشیدہ ہے۔ ہر گھر میں ایک درخت، ہر گلی میں سایہ دار جگہ اور ہر شہر میں پانی کے مؤثر انتظام جیسے اقدامات بظاہر چھوٹے دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔ معلوم نہیں آنے والی نسلوں کو اسلام آباد کی اپریل کی وہ بارشیں اور مئی کی وہ ٹھنڈی شامیں نصیب ہوں گی یا نہیں، مگر یہ طے ہے کہ بڑی تبدیلی کا آغاز ہمیشہ چھوٹے قدموں سے ہوتا ہے۔