کل شام جب میں اپنے ماس کمیونیکیشن کے اسائنمنٹ سے بمشکل نظریں ہٹا کر ٹی وی لاؤنج میں آئی تو سکرین پر امریکا اور ایران کی ممکنہ جنگ کی بریکنگ نیوز چل رہی تھیں۔ والد صاحب نے چائے کا کپ میز پر رکھتے ہوئے ٹھنڈی سانس لی اور بولے: ‘بیٹا! میزائل چاہے تہران پر گرے یا واشنگٹن پر، مجھے تو بس یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ کل صبح ہمارا پرچون والا اور سبزی فروش اسی جنگ کا بہانہ بنا کر گھی اور دال کا بھاؤ ضرور بڑھا دیں گے!’ والد محترم کی یہ بات محض ایک لطیفہ نہیں، بلکہ اس قوم کی تلخ ترین حقیقت ہے، جس کا معاشی ڈھانچہ ریت کی دیوار سے بھی زیادہ کمزور ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں پٹاخہ بھی چلے تو ہمارے ہاں ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کی عید ہو جاتی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تو ہفتوں بعد بڑھتی ہیں، مگر ہمارے پٹرول پمپس پر ‘سپلائی بند ہے’ کے بورڈ چند منٹوں میں لٹک جاتے ہیں۔
ہماری اشرافیہ کا حال تو یہ ہے کہ بیگانے کی شادی میں عبداللہ دیوانے کی طرح ناچ رہے ہیں۔ روزنامہ ڈان کی ایک حالیہ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ کے اس بحران میں پاکستان کے لیے معاشی اور سفارتی سطح پر سنگین خطرات چھپے ہیں، مگر ہمارے ایوانوں میں بیٹھے فیصلہ سازوں کو دیکھیے۔ ایک طرف اسحاق ڈار اور خواجہ آصف جیسے وزراء خارجہ پالیسی کے محاذ پر روایتی اور کھوکھلے بیانات داغ کر اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہو رہے ہیں، تو دوسری جانب ہماری مذہبی قیادت، بالخصوص مولانا فضل الرحمان صاحب، اپنے مخصوص انداز میں جذباتیت کا چورن بیچنے میں مصروف ہیں۔ انہیں عوام کے روزگار اور معاشی تباہی سے کوئی خاص سروکار نہیں، بس ایک نیا بیانیہ چاہیے تاکہ اپنی سیاسی دکان چمکتی رہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ ان سب کی اپنی اولادیں اور اثاثے مغربی ممالک کے محفوظ اور ٹھنڈے ساحلوں پر موجود ہیں، اور ‘جذباتی قربانی’ کے وقت انہیں ہمیشہ اسی غریب عوام کا خون یاد آتا ہے۔
ایسے سنگین عالمی حالات میں، ‘ایک خاص ادارہ’ بھی اپنی تمام تر توانائیاں ملک کے اندرونی سیاسی معاملات کو ہانکنے اور من پسند نتائج حاصل کرنے پر صرف کر رہا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ گھر کی چھت پر طوفان منڈلا رہا ہو، اور پہرے دار صحن میں بیٹھ کر ککڑ لڑانے میں محو ہوں۔ برصغیر کی پرانی کہاوت ہے کہ جب ہاتھی لڑتے ہیں تو گھاس ہی کچلی جاتی ہے، مگر ہم وہ بدقسمت گھاس ہیں جو ہاتھیوں کے لڑنے سے پہلے ہی سوکھنا شروع کر دیتی ہے۔ مرزا غالب کو شاید ایسے ہی کسی عالمی تنازعے اور ہماری اجتماعی بے حسی کا ادراک تھا، تبھی تو فرما گئے:
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
ہوئے تم دوست جس کے
دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
خدا کے لیے اب دوسروں کی جنگوں کا ایندھن بننا اور اسے مقامی سطح پر مہنگائی کا جواز بنانا بند کیجیے، ورنہ اس بار جو معاشی دھماکہ ہوگا، اس کی گونج واشنگٹن یا تہران میں نہیں، سیدھا ہمارے غریب کے دسترخوان پر سنائی دے گی۔