چھری عوام کی گردن پر، اور ثواب اشرافیہ کے کھاتے میں!

کل شام میں اور میری ساس پچھلے سال کا بچا کھچا سامان نکال کر ڈیپ فریزر صاف کر رہی تھیں کہ میرے شوہر مسکراتے ہوئے بولے: ‘علیشبہ! اتنی محنت نہ کرو، اس بار مہنگائی کے جو حالات ہیں، لگتا ہے اس فریزر میں گوشت کی جگہ صرف قربانی کی نیت اور ثواب ہی فریز کرنا پڑے گا!’ یہ محض میرے گھر کا مکالمہ نہیں، بلکہ ہر اس سفید پوش گھرانے کی کہانی ہے جس کے لیے سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی اب کسی مالیاتی مہم جوئی سے کم نہیں۔ روزنامہ ایکسپریس کی ایک تفصیلی رپورٹ گواہ ہے کہ اس بار مویشی منڈیوں میں جانوروں اور چارے کی قیمتوں میں گزشتہ برس کی نسبت ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ خریداروں کے پسینے چھوٹ رہے ہیں؛ منڈی جا کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بیوپاری بکرے کے ساتھ اپنی جائیداد کے کاغذات بھی فروخت کر رہے ہوں۔

دوسری طرف ہماری اشرافیہ کی عیدوں کا رنگ ہی نرالا ہے۔ میاں شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری، جو سارا سال غریب عوام کو معاشی استحکام کے دلاسے دیتے نہیں تھکتے، عید کے دن اپنے ڈیزائنر سوٹوں میں ملبوس ہو کر قوم کو ‘ایثار اور قربانی’ کا بھاشن دیں گے۔ مولانا فضل الرحمان صاحب کے ہاں بھی دنبے کی کڑاہی کھاتے ہوئے ‘نفس کی قربانی’ پر بھرپور زور دیا جائے گا۔ مگر ان سے کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ جس غریب کے نفس کو مہنگائی کی چھری نے پہلے ہی ذبح کر دیا ہو، وہ مزید کیا قربان کرے؟ جاوید چوہدری نے بجا طور پر اپنے کالم ‘زیرو پوائنٹ’ میں لکھا تھا کہ اس ملک میں غریب صرف ٹیکس دینے اور اشرافیہ کی غلطیوں کا تاوان بھرنے کے لیے پیدا ہوا ہے۔ اسی اثنا میں، ‘ایک خاص ادارہ’ بھی اپنی تمام تر توانائیاں اور وسائل ملکی سیاست کی بساط کو اپنے مخصوص زاویے سے بچھانے میں اس قدر مگن ہے کہ اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ عام آدمی کی ہانڈی میں گوشت پک رہا ہے یا صرف پانی ابل رہا ہے۔ ریاست کا کام عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنا تھا، مگر اب یہ رشتہ محض وصولی اور اطاعت تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

برصغیر کی ثقافت میں عید الاضحیٰ محبتیں بانٹنے، روٹھے ہوئے رشتہ داروں کو منانے اور محلے بھر میں گوشت تقسیم کرنے کا تہوار ہے، مگر ظالمانہ معاشی پالیسیوں نے اسے محض ایک طبقاتی نمائش بنا دیا ہے۔ مشتاق احمد یوسفی نے کیا خوب کہا تھا کہ ہمارے ہاں غریب کو صرف دو ہی چیزیں میسر ہیں: ایک امید اور دوسرا صبر۔ آج حالت یہ ہے کہ قصابوں کے نخرے سیاستدانوں سے زیادہ اور بکروں کی قیمتیں ہمارے روپے کی قدر سے بھی زیادہ اوپر جا چکی ہیں۔ اگر اربابِ اختیار کا یہی من مانیوں والا رویہ رہا تو وہ دن دور نہیں جب عید پر غریب کی دہلیز پر گوشت کے بجائے صرف حسرتیں دستک دیں گی۔

حبیب جالب کا یہ شعر آج کے طبقاتی اور معاشی استحصال پر کس قدر صادق آتا ہے:
دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
ایسے دستور کو، صبحِ بے نور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے