وائی فائی نوجوان کا، ٹرینڈ سیاستدانوں کے، اور ‘فائر وال’ کسی اور کی!

گزشتہ رات کھانے کی میز پر میرے شوہر مسلسل موبائل پر شارٹس اور ریلز سکرول کرنے میں اس قدر مگن تھےکہ میری ساس نے زچ ہو کر مجھ سے کہا: ‘علیشبہ! اس کے آگے روٹی کے بجائے وائی فائی کا روٹر ہی پلیٹ میں رکھ دو، آج کل کے نوجوانوں کا پیٹ اب نوالوں سے نہیں، لائیکس اور ویوز سے بھرتا ہے!’ ساس کی اس جلی کٹی بات میں دراصل ہماری پوری نسل کا نوحہ چھپا ہے۔ آج کا نوجوان کتاب، ہنر اور میدان چھوڑ کر سکرین کی طلسماتی دنیا میں اپنا مستقبل تلاش کر رہا ہے۔ ہمارے ہاں صورتحال یہ ہے کہ گلی کا نکڑ ہو، ڈرائنگ روم ہو یا یونیورسٹی کی کینٹین، ہر نوجوان کی گردن موبائل میں یوں جھکی ہے جیسے وہیں سے کوئی غیبی خزانہ برآمد ہونے والا ہو۔

بی بی سی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں کروڑوں نوجوان روزانہ اپنے کئی قیمتی گھنٹے محض سوشل میڈیا پر تفریح اور بے مقصد سکرولنگ کی نذر کر دیتے ہیں۔ مگر اس ڈیجیٹل بے حسی پر ہمارے رہنمائوں کا کردار کیا ہے؟ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری، جو خود کو نوجوانوں کا نمائندہ کہتے ہیں، ان کی اپنی سیاسی بصیرت اب محض ٹوئٹر (ایکس) کے ٹرینڈز اور ٹک ٹاکرز سے ملاقاتوں تک محدود ہو چکی ہے۔

دوسری جانب مولانا فضل الرحمان صاحب، جو ہر تقریر میں مغربی ثقافت کو لتاڑتے ہیں، ان کی اپنی جماعت کی سوشل میڈیا ٹیمیں رات دن ‘ڈیجیٹل جہاد’ کے نام پر مخالفین کی پگڑیاں اچھالنے میں مصروف ہیں۔ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ قوم کا مستقبل کن خرافات میں الجھ گیا ہے۔ اور تو اور، ریاست کے ستون بھی اس معاملے میں عجیب کھیل کھیل رہے ہیں۔ ‘ایک خاص ادارہ’ بھی اپنی تمام تر توانائیاں اور وسائل فائر والز لگانے، انٹرنیٹ کی سپیڈ کنٹرول کرنے اور من پسند بیانیے کو ٹرینڈ کروانے پر صرف کر رہا ہے، جیسے ان کا اصل دشمن کوئی بیرونی خطرہ نہیں بلکہ اپنے ہی ملک کا کوئی بے روزگار یوٹیوبر یا فیس بک صارف ہو۔

ہماری تہذیب میں نوجوان کو وہ شاہین سمجھا جاتا تھا جو آسمانوں کی وسعتیں ناپتا تھا، مگر اب یہ ‘ڈیجیٹل شاہین’ محض وائی ٹک ٹاک کے سگنلز کے طواف میں مصروف ہے۔ علامہ اقبال نے تو کہا تھا:
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

مگر آج کے نوجوان نے اگر پہاڑوں کی چٹانوں پر جانا بھی ہے، تو صرف ٹک ٹاک کی ویڈیو بنا کر وائرل ہونے کے لیے۔ حمید میر نے اپنے ایک کالم میں بالکل درست نشاندہی کی تھی کہ جس قوم کے نوجوانوں کا ہیرو کوئی سائنسدان یا مفکر ہونے کے بجائے کوئی ٹک ٹاکر بن جائے، اس قوم کو تباہ کرنے کے لیے دشمن کو کسی ایٹم بم کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کاش ہماری اشرافیہ اور فیصلہ ساز اس سکرین کے نشے کی ہولناکی کو سمجھیں، ورنہ ہماری اگلی نسل کے پاس ڈگری اور ہنر کے نام پر صرف ‘سبسکرائب’ کا بٹن دبانے کا تجربہ ہی باقی رہ جائے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے