کل کی فکر یا آج کا نوحہ؟

آج صبح جب کھڑکی سے باہر دیکھا تو مئی کی تپتی دھوپ نے یہ احساس دلایا کہ ہم جس ‘مستقبل’ کے خوف میں جی رہے تھے، وہ اب ہمارے دروازے پر دستک نہیں دے رہا بلکہ گھر کے اندر داخل ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہیٹ ویو کی وارننگز ہوں یا ٹی وی چینلز پر گلیشیئرز پگھلنے کی خبریں، ہم شاید ان الفاظ کے عادی ہو چکے ہیں۔

لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ محض ‘کرنٹ افیئرز’ کے خشک اعداد و شمار نہیں، بلکہ ہماری بقا کا سوال ہے؟

پاکستان، جو عالمی آلودگی میں ایک فیصد سے بھی کم کا حصہ دار ہے، آج موسمیاتی آفات کی فہرست میں صفِ اول میں کھڑا ہے۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جس کا شکار صرف غریب کسان نہیں، بلکہ شہروں میں رہنے والا وہ طبقہ بھی ہے جو ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر یہ سمجھتا ہے کہ وہ محفوظ ہے۔ مئی 2026 کی یہ غیر معمولی تپش ہمیں یاد دلا رہی ہے کہ فطرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا بدلہ کتنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔

حالیہ دنوں میں خیبر پختونخوا سے لے کر کراچی تک، آب و ہوا میں جو تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں، وہ کسی سیاسی بحران سے کم نہیں۔ سیاسی ٹاک شوز میں تو ہم گھنٹوں ضائع کر دیتے ہیں کہ کس کی حکومت آئے گی اور کون جائے گا، لیکن کیا کبھی کسی نے اس ‘خاموش قاتل’ پر بات کی جو ہماری زمین کو بنجر اور ہمارے دریاؤں کو بے لگام کر رہا ہے؟

صحافت کا کام صرف خبر دینا نہیں، بلکہ شعور بیدار کرنا بھی ہے۔ آج کے اردو کالم نگار کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو بتائے کہ شجرکاری صرف ایک فوٹو سیشن نہیں، بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے آکسیجن کا قرض ہے۔ اگر ہم نے آج اپنے طرزِ زندگی، پانی کے ضیاع اور درختوں کی کٹائی پر قابو نہ پایا، تو شاید چند سالوں بعد ہمارے پاس لکھنے کے لیے کالم تو ہوں گے، لیکن پڑھنے کے لیے وہ ہریالی اور سکون نہیں ہوگا جس کی تمنا میں ہم جیتے ہیں۔

وقت ہاتھ سے ریت کی طرح پھسل رہا ہے۔ حکومتیں اپنی پالیسیاں بناتی رہیں گی، عالمی ادارے فنڈز دیتے رہیں گے، لیکن جب تک ایک عام شہری اس مسئلے کو اپنا مسئلہ نہیں سمجھے گا، تب تک تبدیلی کی کوئی بھی لہر ہمیں اس تپش سے نہیں بچا پائے گی۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے: کیا ہم نے صرف خبروں کا حصہ بننا ہے یا تاریخ بدلنے کا عزم کرنا ہے؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے