شہرت کی بھوک یا عزت کی نیلامی؟

آج کے دور میں سوشل میڈیا نے شہرت کو اتنا آسان بنادیا ہے کہ اب لوگ نام بنانے کے لیے محنت نہیں، بلکہ تنازع تلاش کرتے ہیں۔
پاکستان میں ہر دوسرے ہفتے کسی نہ کسی ٹک ٹاکر یا انفلوئنسر کا اسکینڈل سامنے آجاتا ہے، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ بدنامی کے بعد اُن کے فالوورز کم نہیں بلکہ زیادہ ہوجاتے ہیں۔

ایک وقت تھا جب عزت انسان کی سب سے بڑی پہچان سمجھی جاتی تھی۔
لوگ اپنی نجی زندگی چھپاتے تھے، خاندان کی عزت کا خیال رکھتے تھے۔
مگر آج کچھ لوگ خود اپنی پرائیویسی کو تماشا بناکر سوشل میڈیا پر ڈال رہے ہیں، کیونکہ اُنہیں معلوم ہے کہ اس معاشرے میں ٹیلنٹ سے زیادہ اسکینڈل بکتا ہے۔

اب سوشل میڈیا پر کامیابی کا فارمولا بدل چکا ہے۔
جتنا متنازع مواد ہوگا، اتنے زیادہ ویوز آئیں گے۔
کپڑے چھوٹے ہوں، زبان بے شرم ہو، یا ذاتی زندگی سرِعام ہو، لوگ فوراً وائرل ہوجاتے ہیں۔
پھر یہی لوگ چند دن بعد انٹرویوز دیتے ہیں، برانڈز پروموٹ کرتے ہیں اور لاکھوں کماتے ہیں۔

سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ عوام بھی اس گندگی کا حصہ بن چکی ہے۔
وہی لوگ جو اخلاقیات کے لیکچر دیتے ہیں، رات کو انہی اسکینڈلز کی ویڈیوز سرچ کررہے ہوتے ہیں۔
کیونکہ اگر دیکھنے والے نہ ہوں تو بکنے والے بھی ختم ہوجائیں۔

یہ صرف چند انفلوئنسرز کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے اخلاقی زوال کی نشانی ہے۔
آج نوجوانوں کو یہ پیغام مل رہا ہے کہ عزت سے زیادہ ضروری مشہور ہونا ہے، چاہے اُس کے لیے اپنی غیرت ہی کیوں نہ بیچنی پڑے۔

سوال یہ ہے کہ اگر شہرت حاصل کرنے کے لیے انسان کو اپنی عزت قربان کرنی پڑے، تو کیا ایسی شہرت واقعی کامیابی کہلانے کے قابل ہے؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے