ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں انسان کی بنیادی ضرورت—یعنی صحت—بھی اب طبقاتی تقسیم کا شکار ہو چکی ہے۔ خوراک، جو کبھی صرف بھوک مٹانے کا ذریعہ تھی، آج حیثیت، شعور اور وسائل کی علامت بن چکی ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو “آرگینک زندگی” گزار رہے ہیں، اور دوسری طرف وہ عوام ہیں جنہیں صرف زندہ رہنے کے لیے کچھ بھی کھانے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔
آج کا ایلیٹ طبقہ اپنی صحت کے معاملے میں غیر معمولی حد تک حساس ہو چکا ہے۔ ان کے دسترخوان پر وہی چیزیں سجتی ہیں جو کبھی ہمارے گھروں میں عام ہوا کرتی تھیں—دیسی مرغی، خالص دودھ، بغیر کیمیکل کے اگائی گئی سبزیاں، اور دیسی گھی۔ وہ مرغی کھاتے ہیں جو کھلے ماحول میں پلی ہو، جو قدرتی خوراک پر زندہ رہی ہو۔ وہ دودھ پیتے ہیں جو ملاوٹ سے پاک ہو۔ ان کی خوراک فطرت کے قریب اور انسانی جسم کے لیے موزوں ہوتی ہے۔
مگر یہی چیزیں عام آدمی کی پہنچ سے کیوں دور ہو چکی ہیں؟
عام انسان کے حصے میں جو خوراک آئی ہے، وہ بظاہر سستی ضرور ہے، مگر درحقیقت وہ سب سے مہنگی ہے—کیونکہ اس کی قیمت انسان اپنی صحت سے ادا کرتا ہے۔ فارمی مرغیاں، جنہیں چند ہفتوں میں بڑا کرنے کے لیے ہارمونز سے بھرا جاتا ہے، وہ گوشت جو فطری نہیں بلکہ مصنوعی رفتار سے تیار ہوتا ہے، وہ پھل اور سبزیاں جو زہریلے اسپرے اور کیمیکلز سے اگائی جاتی ہیں—یہ سب کچھ ہمارے جسم میں جا کر ایک خاموش تباہی پیدا کرتا ہے۔
ہم نے کبھی سنجیدگی سے سوچا ہے کہ یہ ہارمونز اور کیمیکلز ہمارے جسم کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں؟ یہ ہمارے نظامِ ہاضمہ کو بگاڑتے ہیں، ہمارے ہارمونز کا توازن خراب کرتے ہیں، اور آہستہ آہستہ ہمیں جسمانی اور ذہنی طور پر کمزور بنا دیتے ہیں۔ تھکن، سستی، موٹاپا اور مختلف بیماریاں—یہ سب ہماری زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہیں، اور ہم انہیں معمول سمجھ کر قبول کر چکے ہیں۔
یہ المیہ صرف خوراک تک محدود نہیں۔
لباس بھی اب صحت کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ عام آدمی کے لیے جو کپڑے دستیاب ہیں، ان میں پولی ایسٹر، پولیتھین اور دیگر مصنوعی مادوں کی بھرمار ہے۔ یہ کپڑے نہ صرف جسم کے درجہ حرارت کو غیر متوازن کرتے ہیں بلکہ ان میں موجود مائیکرو پلاسٹکس آہستہ آہستہ جلد کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر زہریلے اثرات پیدا کرتے ہیں۔ خاص طور پر بچوں اور خواتین کے لیے یہ ایک سنگین مگر نظر انداز کیا جانے والا خطرہ ہے۔
دوسری طرف، امیر طبقہ آج بھی خالص کاٹن، لینن اور قدرتی کپڑے استعمال کرتا ہے—وہی لباس جو کبھی ہر انسان کی پہنچ میں تھا۔ مگر اب ان کی قیمتیں اس قدر بڑھا دی گئی ہیں کہ عام آدمی کے لیے یہ صرف ایک خواہش بن کر رہ گئے ہیں۔
تو کیا یہ سب محض ایک اتفاق ہے؟
یا پھر ایک ایسا نظام تشکیل دیا جا چکا ہے جہاں صحت مند رہنا بھی ایک مہنگی عیاشی بن گیا ہے؟
یہ سوال تلخ ضرور ہے، مگر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا:
کیا ہمیں دانستہ طور پر ایسی خوراک اور طرزِ زندگی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جو ہمیں کمزور، بیمار اور غیر فعال بنا دے؟
اور کیا ایک مخصوص طبقہ اپنے لیے وہی خالص اور قدرتی چیزیں محفوظ رکھ کر خود کو مضبوط اور محفوظ بنا رہا ہے؟
ہم نے ترقی کے نام پر اپنی اصل کھو دی ہے۔ ہم نے وہ سب کچھ چھوڑ دیا جو کبھی ہماری طاقت تھا—سادگی، قدرتی خوراک، اور فطرت کے قریب زندگی۔ اور اس کے بدلے ہم نے ایسی مصنوعی دنیا کو اپنا لیا ہے جو ہمیں وقتی سہولت تو دیتی ہے، مگر مستقل نقصان پہنچاتی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم رک کر سوچیں۔
ہم کیا کھا رہے ہیں؟
ہم کیا پہن رہے ہیں؟
اور سب سے اہم—ہم اپنے جسم اور اپنی نسلوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟
یہ محض ایک کالم نہیں، ایک آئینہ ہے۔
اگر ہم نے آج خود کو نہ پہچانا، تو کل شاید پہچاننے کے قابل بھی نہ رہیں۔