پچھلے دنوں میرے علاقے میں چند گھنٹے انٹرنیٹ بند رہا۔ میں نے محسوس کیا کہ گھر میں بیٹھے سب لوگ پہلے بے چین ہوئے، پھر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے . جیسے پرانے وقتوں میں ہوتا تھا۔ اس لمحے میں ایک سوال اٹھا: اگر یہ بندش ایک پورے دن کے لیے ہو جائے . پوری دنیا میں . تو کیا ہو؟
سب سے پہلا اور سب سے گہرا اثر معیشت پر پڑے گا۔ آج کروڑوں ڈالر کا لین دین ہر سیکنڈ آن لائن ہوتا ہے۔ بینک، سٹاک ایکسچینج، ای کامرس، لاجسٹکس . سب ایک دن میں معطل۔ پاکستان میں لاکھوں فری لانسرز کی روزی صرف چند گھنٹوں میں رک جائے گی۔ ماہرین کے اندازے کے مطابق ایک دن کی عالمی بندش سے اربوں ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔
لیکن ہر سکے کے دو رخ ہوتے ہیں۔ اس بندش کا ایک پہلو وہ بھی ہے جو شاید بہتوں کو سکون دے۔ سوشل میڈیا کا شور بند۔ کوئی جھوٹی خبر نہیں، کوئی آن لائن جھگڑا نہیں، کوئی موازنہ نہیں۔ لوگ مجبور ہوں گے کہ آمنے سامنے بیٹھیں، بات کریں۔ بچے شاید گھر سے باہر نکلیں، خاندان کھانے کی میز پر اکٹھے ہوں اور اسکرین کے بجائے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھیں۔
اسپتالوں اور سرکاری اداروں کی صورتحال تشویشناک ہوگی۔ آج کل ریکارڈ رکھنا، ایمرجنسی رابطہ، ادویات کی سپلائی چین ، سب ڈیجیٹل ہے۔ بیک اپ نظام موجود ہوتے ہیں، لیکن اچانک اور وسیع بندش میں افراتفری ناگزیر ہے۔ یہ سوچ کر رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں کہ ہم نے اپنا سارا انحصار ایک ہی ڈیجیٹل تار پر رکھ دیا ہے۔
اس فرضی تجربے کا سب سے بڑا سبق یہی ہے .ہم انٹرنیٹ کے غلام بن چکے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی ایک بہترین ذریعہ تھی، لیکن ہم نے اسے ضرورت بنا لیا، اور ضرورت بنا کر اس کے سامنے بے بس ہو گئے۔ ایک دن کی بندش کا خیال ہی جب کانپا دیتا ہو، تو سمجھ لیجیے . اصل آزادی کہیں گم ہو گئی ہے۔