سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی نے EPBD کی معاشی دستاویزات کو پالیسی سازی میں نجی شعبے، ماہرین اور عوامی آواز کی شمولیت کی اہم پیش رفت قرار دے دیا
اسلام آباد : سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی زاہد اقبال چوہدری نے اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ تھنک ٹینک کی جانب سے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شیڈو پالیسی دستاویزات پیش کرنے کو ایک تاریخی، جرات مندانہ اور قومی ضرورت کے عین مطابق اقدام قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوشش محض تنقید نہیں بلکہ حکومت، پالیسی سازوں، کاروباری برادری اور عوام کے لیے ایک متبادل، قابلِ عمل اور شواہد پر مبنی معاشی روڈ میپ ہے، جو پاکستان کو استحکام سے پائیدار ترقی کی طرف لے جانے میں مدد دے سکتا ہے۔ FPCCI اور EPBD کی دستاویزات میں اسے پاکستان میں کسی تھنک ٹینک کی جانب سے پہلی جامع شیڈو پالیسی/پلاننگ کوشش قرار دیا گیا ہے۔
زاہد اقبال چوہدری نے کہا کہ شیڈو فیڈرل بجٹ، شیڈو اکنامک سروے، شیڈو فائیو ایئر ڈویلپمنٹ پلان اور ٹیکس پالیسی و ایڈمنسٹریشن ریفارمز پر مشتمل یہ پالیسی پیکج ملک میں پالیسی مکالمے کا معیار بلند کرے گا۔ ان کے مطابق پاکستان کو ایسے ہی غیر جانبدار، تحقیقی اور کاروبار دوست پالیسی فریم ورک کی ضرورت تھی جو نجی شعبے کو محض ریونیو ٹارگٹ نہیں بلکہ روزگار، برآمدات، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کا اصل پارٹنر سمجھے۔ شیڈو بجٹ میں بھی نجی شعبے کو شراکت دار بنانے، کاروباری لاگت کم کرنے، ٹیکس نظام کو معقول بنانے اور برآمدات کے لیے مسابقتی ماحول پیدا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ EPBD کا پانچ سالہ شیڈو ڈویلپمنٹ پلان خاص طور پر قابلِ تحسین ہے، جس میں 21 اہم شعبوں کا تجزیہ، تقریباً 18.5 ٹریلین روپے کی سرمایہ کاری کا تخمینہ، PSDP منصوبوں کی عقلی جانچ، اور جی ڈی پی گروتھ کو FY31 تک 8.5 فیصد تک لے جانے کا ہدف شامل ہے۔ ان کے مطابق یہ اہداف صرف خواہشات نہیں بلکہ سرمایہ کاری، صنعتی ترقی، برآمدات، انسانی سرمائے، ٹیکنالوجی اور گورننس اصلاحات سے جڑے ہوئے قابلِ عمل نکات ہیں۔
زاہد اقبال چوہدری نے مزید کہا کہ ٹیکس پالیسی اصلاحات میں سیلز ٹیکس کی شرح کو مرحلہ وار 18 فیصد سے 15 فیصد تک لانے، ریفنڈز کی خودکار ادائیگی، AI-based آڈٹ، ٹیکس دہندگان کے حقوق، وفاقی و صوبائی سیلز ٹیکس ہم آہنگی، اور غیر ضروری پیچیدگیوں کے خاتمے جیسی تجاویز کاروباری اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موجودہ ٹیکس نظام وسعتِ ٹیکس نیٹ کے بجائے پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر بوجھ بڑھاتا رہا ہے، اس لیے ایسی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
انہوں نے اس بات کو بھی سراہا کہ شیڈو اکنامک سروے نے معیشت کو صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں رکھا بلکہ غربت، بے روزگاری، برین ڈرین، صنعتی پیداواری لاگت، برآمدات، نجی سرمایہ کاری اور انسانی ترقی کو پالیسی بحث کا مرکز بنایا ہے۔ سروے کے مطابق معیشت کو 452 ارب ڈالر سے 688 ارب ڈالر تک لے جانے، زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں تیز رفتار ترقی، اور نجی شعبے کے کریڈٹ و سرمایہ کاری میں اضافہ جیسے اہداف اصلاحات کے تسلسل سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
زاہد اقبال چوہدری نے پیٹرن انچیف پونائیٹڈ بزنس گروپ ایس ایم تنویر ، عاطف اکرام شیخ صدر ایف پی سی سی آئی ، ڈاکٹر گوہر اعجاز، سردار احمد نواز سکھیرا، EPBD بورڈ، ریسرچ ٹیم اور اس عمل میں شامل ماہرین و کاروباری اداروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پاکستان میں پالیسی سازی کو زیادہ شفاف، مشاورتی اور نتیجہ خیز بنانے کی سمت ایک مضبوط قدم ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان تجاویز کو سنجیدگی سے زیرِ غور لایا جائے، بجٹ سازی کے عمل میں نجی شعبے اور پارلیمانی مشاورت کو مؤثر بنایا جائے، اور پاکستان کو صرف معاشی استحکام نہیں بلکہ روزگار، برآمدات، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی پر مبنی ترقی کی راہ پر ڈالا جائے۔