پاکستان کی سیاسی اور انتظامی تاریخ اس وقت ایک ایسے فیصلہ کن موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں پرانے طرزِ حکمرانی کے روایتی ڈھانچے ملکی آبادی کا بوجھ اٹھانے سے قاصر نظر آتے ہیں، 25 کروڑ سے زائد آبادی کا یہ ملک اب محض چار روایتی صوبوں کے ذریعے اس طرح نہیں چلایا جا سکتا جس طرح پون صدی قبل چلایا جاتا تھا، یہی وجہ ہے کہ ملک میں نئے صوبوں اور خود مختار انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث اب پارلیمان کی راہداریوں سے لے کر عوامی حلقوں تک ایک بڑی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے، اس بحث کو حالیہ دنوں میں اس وقت مزید تقویت ملی جب حکومت کی جانب سے اسلام آباد کو صوبائی طرز کا خود مختار انتظامی یونٹ بنانے کا تاریخی مسودہ اور نیا نقشہ سامنے لایا گیا، اس نئے نقشے نے ملک کے سیاسی منظر نامے میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔
عوام کے لیے یہ بحث اس لیے اہم نہیں کہ اس سے ملک کا جغرافیہ بدلے گا، بلکہ اس لیے اہم ہے کہ نئے صوبوں کے بننے سے عوام کو براہِ راست اور فوری ریلیف کی قوی امیدیں وابستہ ہیں، موجودہ نظام میں ایک عام شہری بنیادی سہولیات جیسے صحت، تعلیم، اور انصاف کے حصول کے لیے بیوروکریسی کے پیچیدہ جال اور دور دراز کے صوبائی دارالحکومتوں کا محتاج رہتا ہے، چھوٹے انتظامی یونٹس بننے سے گورننس کا نظام براہِ راست عوام کی دہلیز پر پہنچ جائے گا،جب حکومت شہریوں کے قریب ہوگی، تو تھانے اور کچہری کے مسائل مقامی سطح پر حل ہوں گے، طویل ترین سفری اخراجات کا خاتمہ ہوگا اور سرکاری فنڈز چند مخصوص بڑے شہروں پر ضائع ہونے کے بجائے پسماندہ اضلاع کی پبلک سروس ڈیلیوری پر خرچ ہوں گے، یہ وہی حقیقی ریلیف ہے جس کی تلاش میں اس ملک کا عام شہری دہائیوں سے بھٹک رہا ہے۔
اس بڑی انتظامی تبدیلی کا آغاز اب وفاقی دارالحکومت سے ہوتا دکھائی دے رہا ہے،اسلام آباد، جو کبھی محض ایک چھوٹا سا پرسکون اور انتظامی شہر تھا، اب 24 لاکھ سے زائد آبادی کا ایک گنجان میٹروپولیٹن بن چکا ہے،سامنے آنے والے نئے مجوزہ اسٹرکچر اور نقشے کے مطابق اسلام آباد کو اب وفاق کے ماتحت محض ایک بیوروکریٹک علاقہ رکھنے کے بجائے ایک مکمل بااختیار صوبائی ماڈل میں تبدیل کیا جا رہا ہے، اس نئے نقشے اور پلان کے تحت اسلام آباد کی اپنی 27 رکنی قانون ساز اسمبلی ہوگی، جس میں 21 ارکان براہِ راست شہر کے مختلف حلقوں سے منتخب ہو کر آئیں گے،سب سے بڑی تبدیلی یہ ہوگی کہ اب اسلام آباد کا نظم و نسق کسی چیف کمشنر یا سی ڈی اے کے بیوروکریٹک فیصلوں کے بجائے ایک منتخب چیف ایگزیکٹو (وزیرِ اعلیٰ یا میئر) کے ہاتھ میں ہوگا جو براہِ راست عوام کو جوابدہ ہوگا۔
اسلام آباد کے اس نئے انتظامی نقشے کے تحت، لا اینڈ آرڈر اور ماسٹر پلاننگ کے علاوہ تمام 27 محکمے اس نئی اسمبلی اور منتخب مقامی حکومت کے ماتحت کر دیے جائیں گے، اس سے وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کو برسوں سے جاری”ترقیاتی اور انتظامی خلا“ سے نجات ملے گی اور وہ اپنے بلدیاتی و شہری فیصلے خود کر سکیں گے،ماہرین کا ماننا ہے کہ اسلام آباد کا یہ نیا ماڈل دراصل پورے پاکستان کے لیے ایک”ٹیسٹ کیس“ اور رول ماڈل ثابت ہو سکتا ہے، اگر یہ تجربہ کامیاب رہتا ہے تو جنوبی پنجاب میں سرائیکستان اور بہاولپور، خیبر پختونخوا میں ہزارہ، اور سندھ میں کراچی جیسے اہم خطوں کو بھی اسی طرز پر نئے انتظامی صوبوں کی شکل دے کر عوام کو اختیارات اور ریلیف سونپا جا سکتا ہے۔
ناقدین کا یہ اعتراض اپنی جگہ وزن رکھتا ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل سے معاشی بوجھ بڑھے گا، نئی بیوروکریسی جنم لے گی اور حکومت کو نئے مقامی ٹیکسز لگانا پڑیں گے۔ لیکن اگر سکے کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو موجودہ مرکزیت پسند (Centralized) نظام کی وجہ سے ہونے والا معاشی نقصان، فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم اور کرپشن اس نئے نظام کے ممکنہ اخراجات سے کہیں زیادہ ہے۔ چھوٹے صوبے بننے سے وفاق کمزور نہیں بلکہ زیادہ مضبوط ہوگا، کیونکہ اس سے وسائل کی تقسیم کا فارمولا ( NFC Award ) زیادہ شفاف اور متوازن ہو جائے گا۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک معاشی چیلنجز سے نبردآزما ہے، اسلام آباد سے شروع ہونے والا یہ پائلٹ پراجیکٹ معیشت پر اچانک بوجھ بننے کے بجائے معاشی انجن ثابت ہو سکتا ہے۔ جب ایک خطہ الگ انتظامی اکائی بنتا ہے، تو وہاں سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلتے ہیں اور مقامی فنڈز سیدھے عوامی فلاح پر خرچ ہوتے ہیں۔ یوں مرحلہ وار بنیادوں پر انتظامی خود مختاری کا یہ سفر معیشت کو جھٹکا دینے کے بجائے پائیدار ترقی اور عوامی خوشحالی کا ضامن بنے گا۔
پاکستان کو معاشی دلدل سے نکالنے اور عوام کی مایوسی دور کرنے کے لیے جرات مندانہ فیصلوں کی ضرورت ہے، اسلام آباد کا ابھرتا ہوا نیا نقشہ اور نئے صوبوں کا قیام محض جغرافیائی لکیریں کھینچنے کا نام نہیں، بلکہ یہ عام پاکستانی کو طاقتور بنانے اور اسے ریاست کے قریب لانے کا واحد راستہ ہے، ، تمام سیاسی جماعتیں پوائنٹ اسکورنگ سے ہٹ کر اس انتظامی اصلاحات کے ایجنڈے پر متفق ہوں تاکہ ملک کو پائیدار ترقی اور عوام کو وہ حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے جس کا وعدہ پون صدی قبل اس ملک کے معماروں نے کیا تھا۔