بیجنگ میں شام ڈھل رہی ہے

اِس مرتبہ بیجنگ لینڈ کیا تو خوشگوار حیرت ہوئی کہ گوگل اور وٹس ایپ سمیت ہر چیز نہ صرف چل رہی تھی بلکہ دوڑ رہی تھی۔ وجہ اِس کی ای سِم تھی جو میں نے پاکستان سے ہی چالو (active) کروا لی تھی۔ اپنے اِس دانشمندانہ فیصلے پر میں نے خود کو اُس شاعر کی طرح داد دی جو شعر سنانے سے پہلے ’توجہ کا طالب ہوں‘ کہتا ہے اور پھر ایسی نظروں سے سامعین کو دیکھتا ہے کہ اگر داد نہ ملی تو وہ فوت ہی ہو جائے گا۔لیکن میری یہ خوشی دو دن بعد ہی ایکسپائر ہو گئی جس کا ذکر بعد میں۔ملک کا پہلا تعارف اُسکا ہوائی اڈہ ہوتا ہے۔ بیجنگ کے ہوائی اڈے پر اترنے سے لیکر باہرآنے تک مجھے دو گھنٹے لگے۔کسی بھی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے مقابلے میں یہ وقت بہت زیادہ ہے۔ سب سے پہلے آپ کو اپنی آمد کی پوری تفصیل ایک مشین میں اسکین کرکے ڈالنی پڑتی ہے، اِس کام میں اچھا خاصا وقت لگتاہے، اُس کے بعد امیگریشن کی طویل قطار اور پاکستانیوں کی مزید پڑتال کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ باقی دنیا میں امیگریشن کاؤنٹر پر جو کام ایک سے دو منٹ میں ہوتا ہے، اُس پر یہاں دس سے پندرہ منٹ لگائے جاتے ہیں۔ یہ لوگ پاسپورٹ اُلٹا سیدھا کرکے یوں دیکھتے ہیں جیسے اُس میں سے کوئی کیڑا نکالنا ہو، وہ پوری تفصیل جو آپ پہلے ہی مشین میں بھر چکے ہوتے ہیں، یہاں نہ صرف دوبارہ پوچھی جاتی ہے بلکہ بعض اوقات اُس کی تصدیق کیلئے میزبانوں کو فون بھی کیے جاتے ہیں۔ اب رات کے بارہ بجے کوئی شریف آدمی فون نہ اٹھائے تو بندہ کیا کرے۔

پاکستانی طلبا تو اور بھی خوار ہوتے ہیں، اپنی طرف سے وہ بیچارے پورے کاغذات لے کر آتے ہیں مگر یہاں انہیں علیحدہ قطار میں کھڑا کرکے نہ جانے کیا چیک کیا جاتا ہے۔ منکر نکیر بھی وہ سوال نہیں پوچھتے ہوں گے جو پاکستانی بچوں سے یہاں پوچھے جاتے ہیں۔ نہ انہیں ہماری انگریزی سمجھ آتی ہے اور نہ ہمیں اُن کی۔ اور یاد رہے کہ یہ تمام لوگ چین کا ویزہ لے کر آتے ہیں جو علیحدہ سے ، جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ امیگریشن کے بعد سامان حاصل کرنے اور پھر اُسے دوبارہ اسکین کروانے میں مزیدپون گھنٹالگتا ہے۔ لیکن کوئی بات نہیں ’چلتے ہو تو چین کو چلیے‘۔ابنِ انشا نے یہ سفرنامہ لکھ کر قلم توڑ دیا تھا۔ اب مجھ ایسا بندہ لکھے بھی تو کیا لکھے۔ چینی میزبانوں نے مجھے لینے کیلئے ایک نوجوان کو بھیجا تھا جو پیکنگ یونیورسٹی میں اردو کا طالب علم تھا۔ کسی چینی کی زبان سے اردو کا نام سنتے ہی طبیعت رواں ہو گئی۔ اُس نے بتایا کہ کُل ملا کر یہاں دس طلبا ہیں جو اردو میں گریجوایشن کر رہے ہیں۔ میرؔ، غالبؔ اور اقبال ؔکے ناموں سے وہ واقف تھا۔ میری فرمائش پر اُس نے میر کا شعر بھی ٹوٹی پھوٹی اردو میں سنایا کہ بوٹا بوٹا پٹا پٹا حال جانے ہے۔ میں نے مزید فرمائش نہیں کی۔ اُس سے پوچھا کہ یہاں چین میں مشاعرے ہوتے ہیں۔ ”وہ کیا ہوتے ہیں؟“ میں نے سمجھایا کہ شاعر لوگ اکٹھے ہو کر ایک مجمع کے سامنے اپنا کلام پڑھتے ہیں اور لوگ انہیں جھوم جھوم کر داد دیتے ہیں۔ اُس نے میری طرف ایسے دیکھا کہ جیسے میں کسی اور سیارے سے آیا ہوں۔ ”ایسا بھی ہوتا ہے؟“ اُس نے حیرت سے پوچھا۔ ”ہاں“۔ میں نے جواب دیا۔ ”چین میں شاعر اپنا کلام کیسے سناتے ہیں؟“ وہ ہنستے ہوئے بولا ”یہاں لوگ اپنی شاعری لکھ کر کتاب میں شائع کروا دیتے ہیں۔ لیکن مجھے اِس بارے کچھ زیادہ علم نہیں۔“

بیجنگ میں کبھی سردی مزاج پوچھتی ہے تو کبھی گرمی۔ اِس وقت بیجنگ کی گرمی دیکھ کر کوئی یہ نہیں سوچ سکتا کہ ٹھیک دو ماہ بعد ایسی شدید ٹھنڈ پڑے گی کہ باہر نکلنا محال ہو جائے گا۔ لیکن چینیوں کا مزاج عجیب ہی ہے۔ گاڑی میں، کمرے میں یا کانفرنس روم میں اے سی نہ ہونے کے برابر چلاتے ہیں۔ ہوٹل کی ریسپشنسٹ نے جیکٹ پہن رکھی تھی اور میرا گرمی سے برا حال ہو رہا تھا۔ شاید یہ اتفاق ہو کیونکہ آپ کسی بھی ملک میں محض ایک آدھ بات کی بنیاد پر کسی کے مزاج سے متعلق فیصلہ صادر نہیں کر سکتے۔ آپ بھی سوچ رہے ہوں گے یہ میں کیا مسئلہ لے کر بیٹھ گیا ہوں، لوگ بیجنگ جاتے ہیں تو بتاتے ہیں کہ دیوار چین کیسا عجوبہ ہے یا فاربیڈن سٹی کے محلات کتنے شاندار ہیں۔ دراصل جب آپ کسی ملک میں پانچویں مرتبہ آئیں تو وہ ملک آپ کو گھر کی طرح لگنے لگتاہے، بیجنگ کی کم و بیش تمام مشہور جگہیں میں دیکھ چکا ہوں اور اُن کے گُن بھی گا چکا ہوں۔ اِس شہر کی feel ایک طاقتور سرکاری شہر کی ہے اور تاریخ اِس کی فضاؤں میں بکھری پڑی ہے۔ مگر میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ چین میں گوگل اور وٹس ایپ کی بندش کی وجہ سے بندہ یہاں خودکو بے دست و پا محسوس کرتا ہے۔ میری ای سِم نے دو دن تو خوب کام کیا مگر اُس کے بعد کسی مردِ مجاہد نے چینی فائر وال کو فُل اسپیڈ پر چلا دیا جس کے بعد اب یہ حال ہے کہ جو وی پی این پاکستان سے خرید کر انسٹال کرکے لائے تھے وہ بھی جواب دے گیا ہے۔ نہ کوئی ویب سائٹ کھل رہی ہے اور نہ کوئی ایپ چل رہی ہے۔

چینیوں کو اِس بات کی پروا نہیں کہ اِس سے اُن کی سیاحت کتنی متاثر ہوتی ہے۔ اِس بات کا اندازہ یوں لگالیں کہ اگر آپ محض چین کی سیر کیلئے آنا چاہتے ہیں تو آپ کو پانچ بندوں کا اکٹھ کرکے سیاحتی ویزے کی درخواست دینی پڑے گی اور وہ بھی کسی چینی ٹور آپریٹر کی وساطت سے، باقی کڑی شرائط علیحدہ ہوں گی۔ اور اپنی سیاحت کا حال یہ ہے کہ گندھارا تہذیب اور بدھ مت کا گڑھ ہونے کے باوجود سال میں کُل دو ہزار زائرین چین سے پاکستان آتے ہیں۔ اِدھر نیپال میں لمبینی نام کا ایک چھوٹا سا شہر ہے جہاں سال میں ایک لاکھ چالیس ہزار بندہ آتا ہے جس میں سے دس ہزار چینی ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ ٹیکسلا، تخت بائی اور سوات جیسی جگہیں پاکستان میں ہیں۔ یہ تمام باتیں اپنی جگہ مگر چین بہرحال ایک حیرت کدہ ہے۔ یہ سمجھ نہیں آتی کہ غربت کی دلدل میں گوڈے گوڈے ڈوبا ہوا ملک کیسے ایک عظیم معاشی قوت بنا۔ نہ یہاں کوئی بھکاری نظر آتا ہے اور نہ کوئی بندہ ویلا پھرتا ہوا۔ شخصی آزادی ہر کسی کو میسر ہے اور رہی بات سیاسی آزادی کی تو اُس کا پیمانہ تو مقرر کرنا مشکل ہے البتہ ہانگ کانگ سے موازنہ کیا جا سکتا ہے جہاں چین کی گرفت ہونے کے باوجود اب بھی سیاسی آزادی باقی چین سے زیادہ ہے، لیکن یہ عجیب بات ہے کہ چین سے ہانگ کانگ سکونت اختیار کرنے کا کسی کو کوئی شوق نہیں۔ جس زمانے میں برلن دو حصوں میں تقسیم تھا تو مشرقی برلن سے مغربی برلن جانے والوںکو نہ صرف روکا جاتا تھا بلکہ دیوارِ برلن پار کرنے کی کوشش کی پاداش میں گولیاں بھی ماری جاتی تھیں۔ بیجنگ میں شام ڈھل رہی ہے، آج ہلکی ہلکی بارش نے موسم قدرے خوشگوار کر دیا ہے مگر میرا مسئلہ موسم نہیں، انٹرنیٹ ہے، کالم تو لکھ لیا ہے مگر یہ سمجھ نہیں آرہی کہ اسے ای میل کیسے کروں۔ اگر آپ اسے بدھ کے روز پڑھ رہے ہیں تو سمجھ لیں کہ مسئلہ حل ہو گیا ورنہ یار زندہ صحبت باقی۔

بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے