شیخ سعدیؒ نے اپنی مشہور نعتیہ غزل جس کا مطلع ہے "ماہ فرو ماند از جمالِ محمدﷺ” کے آخری شعر میں اپنے آپ کو مخاطب کیا:
سعدی اگر عاشقی کنی و جوانی
عشقِ محمدﷺ بس است و آلِ محمدؑ
یعنی: سعدی! اگر عشق اور جوانی کا لطف چاہتے ہو تو محمدﷺ اور آلِ محمدؑ کی محبت ہی کافی ہے۔ صدیاں گزر گئیں، مگر یہ ایک مصرع آج بھی ہر اُس دل پر دستک دیتا ہے جو محبت کا مفہوم ڈھونڈ رہا ہو۔
اس شعر میں سب سے بڑا لفظ "کافی” ہے۔ دنیا ہمیں عمر بھر یہی سکھاتی ہے کہ جو ہے وہ کم ہے اور جو مل جائے وہ ناکافی ہے۔ سعدیؒ نے اس ساری دوڑ پر ایک لکیر کھینچ دی اور کہا: ایک نسبت ایسی بھی ہے جس کے بعد طلب ختم ہو جاتی ہے۔
اللہ کریم نے اس دنیا میں کیسے کیسے خوبصورت لوگوں کا ظہور فرمایا کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ ہم مٹی کے بنے ہوئے لوگ ہیں، ہمارے اندر کمزوری بھی ہے، لالچ بھی، خوف بھی۔ اور پھر اسی مٹی سے ایسے وجود اٹھے جن کے سامنے تاریخ اپنا سر جھکا کر گزرتی ہے۔ یہ اللہ کی صناعی ہے کہ اُس نے انسان کو انسان ہی کا نمونہ عطا کیا۔ فرشتہ بھیج دیتا تو ہم کہتے: ہم اُس جیسے کیسے ہوں؟ اُس نے ہم میں سے ایک کو چُنا، اُسے رحمتِ عالم بنایا، اور ہمارے بس میں کر دیا کہ ہم اُس کے نقشِ قدم پر چل سکیں۔
وہ نسبت جو مٹی کو انساں بنا دے
وہی اک صدا ہے جو رستہ دکھا دے
سبز گنبد کی ایک تصویر سامنے آئے تو نظر وہیں رک جاتی ہے۔ آنکھ دیکھتی ہے، دل کچھ اور دیکھتا ہے۔ یہ عجیب معاملہ ہے کہ ہم نے اُنہیں دیکھا نہیں، پھر بھی اُن کی تصویر سینے میں موجود ہے۔ بغیر دیکھے محبت کرنا ایک لاجواب سی کیفیت کا نام ہے۔ دنیا کی ہر محبت آنکھ سے شروع ہو کر دل تک پہنچتی ہے، یہ واحد محبت ہے جو دل سے شروع ہو کر آنکھ تک آتی ہے۔ اسی لیے یہ محبت پرانی نہیں پڑتی۔ جو چیز آنکھ نے دیکھی ہو، وہ آنکھ کے ساتھ دھندلا جاتی ہے۔ جو چیز دل نے دیکھی ہو، وہ دل کے ساتھ بڑھتی رہتی ہے۔
اور یہ اللہ کی کتنی بڑی نعمت ہے کہ اُس نے ہمیں اس نسبت سے وابستہ کر دیا۔ عشق محنت سے کمائی جانے والی چیز نہیں، یہ عطا ہے۔ اسی لیے اہلِ محبت شکر کرتے ہیں، فخر نہیں کرتے۔
سعدیؒ نے صرف محمدﷺ پر بات ختم نہیں کی، آلِ محمدؑ کا ذکر ساتھ رکھا۔ یہ اضافہ نہیں، تکمیل ہے۔ گھر کے بغیر چراغ کا ذکر ادھورا ہے۔ اللہ نے اس گھرانے کو ایک الگ حیثیت عطا فرمائی، اور پھر اُن پر آنے والے امتحانات بھی ایسے رکھے جو دنیا کے عام پیمانوں سے ناپے ہی نہیں جا سکتے۔ عام لوگوں کا امتحان یہ ہوتا ہے کہ اُنہیں کیا ملتا ہے، اِن ہستیوں کا امتحان یہ ٹھہرا کہ اِن سے کیا کیا لیا جاتا ہے۔ گھر، پانی، عزیز، جوان بیٹے، شیرخوار، اور آخر میں چادر تک۔ اور ہر بار جواب ایک ہی رہا: راضی ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں کربلا محض ایک واقعہ نہیں رہتی، ایک تعلیم بن جاتی ہے۔ حسینؑ نے بتایا کہ انسان کی اصل دولت اُس کی گردن ہے کہ وہ کس کے سامنے جھکتی ہے اور کس کے سامنے نہیں۔ اور زینبؑ نے بتایا کہ فتح ہمیشہ میدان میں طے نہیں ہوتی۔
اِن ہستیوں سے عشق کرنے والے بھی الگ ہی مٹی کے لوگ ہوتے ہیں۔ روایت میں وقتاً فوقتاً ایسے جان فدا کرنے والے عشاق آئے ہیں کہ وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ ایک بوڑھا جو دوستی کا وعدہ نبھانے دور دراز سے چلا آیا۔ ایک سپہ سالار جو صبح دشمن کے لشکر میں تھا اور دوپہر سے پہلے سچ کی طرف لوٹ آیا کہ توبہ کا دروازہ آخری سانس تک بند نہیں ہوتا۔ ایک حبشی غلام جس نے کہا: میرا رنگ کالا ہے، میرا نسب معمولی ہے، مجھے جنت میں داخلہ چاہیے۔ اور اُسے مل گیا۔ اِس دربار کی یہی خوبی ہے: یہاں شجرہ نہیں دیکھا جاتا، دل دیکھا جاتا ہے۔
جسے مل گئی اُن کے در کی غلامی
اُسی کو ملی ہے سکونِ مدامی
اور یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ عشاق آتے رہے ہیں اور آتے رہیں گے۔ ہر دور اپنے حبیبؓ، اپنے حُرؓ، اپنے جونؓ خود پیدا کرتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہر دور کا میدان بدل جاتا ہے۔ آج تلوار نہیں اٹھانی، آج جھوٹ کے سامنے سچ بولنا ہے۔ آج پیاسا نہیں مرنا، آج کسی اور کی پیاس کا خیال رکھنا ہے۔ آج خیمے نہیں جلتے، آج لوگوں کی عزتیں جلتی ہیں اور ہم خاموش تماشائی بن جاتے ہیں۔ عشق اگر کردار میں نہ اترے تو وہ عشق نہیں، دعویٰ ہے۔ اور دعویٰ کبھی کسی کو کربلا تک نہیں لے گیا۔
عشقِ نبیﷺ کی بات ہی کچھ اور ہے۔ یہ ایسا درد ہے جو خود دل چاہتا ہے کہ ہو۔ دنیا کے ہر درد سے آدمی چھٹکارا مانگتا ہے، یہ واحد درد ہے جس کے لیے دعا کی جاتی ہے کہ کم نہ ہو۔
اور کیوں نہ ہو، جب خالق خود درود پڑھتا ہے نبی کریمﷺ پر۔ ذرا اندازہ لگائیے کہ اُس ذات نے ایسی تخلیق فرمائی کہ خود بھی اُن پر درود و سلام بھیجتی ہے۔ ایسی نفیس شخصیت دیکھیے! یہ عزت کا تقاضا ہے۔ یہ اللہ کی سنت ہے، نبی کریمﷺ اور اُن کی آلؑ سے محبت۔ یا رب! بات بہت گہری ہے۔
یہاں دو باتیں الگ الگ سمجھ لینی چاہئیں ایک عشق کی عزت کیا ہے، اور عشق کا تقاضا کیا ہے۔ عزت یہ ہے کہ نام آئے تو دل جھک جائے۔ تقاضا یہ ہے کہ نام کے مطابق زندگی بھی جھکے۔ عزت ایک لمحے کا معاملہ ہے، تقاضا عمر بھر کا۔یہی فرق نسبت اور تعظیم میں بھی ہے۔ نسبت عطا ہے، تعظیم عمل ہے۔ نسبت اللہ کی طرف سے ملتی ہے، تعظیم بندے کو خود کرنی پڑتی ہے۔ اور نسبت اُسی وقت سلامت رہتی ہے جب تعظیم ساتھ چلے۔
اس سفر میں ادب، علم اور عشق تینوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ عشق اگر علم کے بغیر ہو تو جوش بن جاتا ہے، علم اگر عشق کے بغیر ہو تو خشک لکیر رہ جاتا ہے، اور دونوں اگر ادب کے بغیر ہوں تو بے قابو ہو جاتے ہیں۔ تینوں جہاں اکٹھے ہو جائیں، وہیں سے راستہ نکلتا ہے۔
ہم نے آنکھوں سے نہیں دیکھا، تو ہمیں اُن کی سنتوں سے محبت کرنی ہے اور اُن کی آلؑ کے راستوں کو اپنانا ہے۔ اور یہ راستے نہیں ہیں، یہ منزلیں ہیں۔ آنکھ سے ایک دفعہ دیکھ کر دل سے ہزار بار دیکھنا ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ رسولِ خداﷺ سے جو محبت ہے، وہی کامیابی ہے اور اُسی میں شفا ہے۔ اس راستے میں کسی قسم کی ناکامی نہیں یہی راہِ راست ہے۔ اور یہ محبت آلِ محمدؑ پر آ کر ختم نہیں ہوتی، بلکہ وہیں سے دوبارہ شروع ہوتی ہے اور پھر نبی کریمﷺ تک جا پہنچتی ہے۔ یہ ایک دائرہ ہے، جس کا نہ سرا ہاتھ آتا ہے نہ اختتام۔
مگر آج ہمیں ایک عجیب بیماری لگ گئی ہے۔ یہ محبت جو ہم رسول اللہﷺ اور اُن کی آلؑ سے کرتے ہیں، ہمیں ایک گہرا سبق دیتی ہے، اور وہ یہ کہ اُن سے بغض یا نفرت نہ کریں جو مسلمان ہیں اور نبیﷺ کی سنت کو ہمارے مسلک کے مطابق ادا نہیں کر رہے، بلکہ اپنے مسلک اور اپنی سوچ کے مطابق نبی کریمﷺ اور اُن کی آلؑ کے طور طریقوں کو اپنائے ہوئے ہیں اور اُس میں خوش ہیں۔
کوئی اہلِ حدیث ہے اور وہ رفع یدین کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہے، تو اُس سے عداوت کیوں؟ اور اگر کوئی احناف کے طریقے کے مطابق بغیر رفع یدین کے نماز پڑھ رہا ہے، تو اُس سے نفرت کیوں؟ دونوں کے ہاتھ اُسی ایک در پر اٹھے ہوئے ہیں، دونوں کا قبلہ ایک ہے، اور دونوں کی نماز اُسی ایک نام پر درود کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔
اگر نبی کریمﷺ اور اُن کی آلؑ سے محبت ہے تو اُن کے ماننے والوں سے نفرت نہیں ہونی چاہیے۔ یہ عشاق کو زیب نہیں دیتا۔ یہ عشقِ نبی کا کام نہیں، شیوہ نہیں، عادت نہیں، تربیت نہیں، مزاج نہیں۔
یہی سعدیؒ کے شعر کا اصل مطلب ہے۔ "جوانی کا لطف” کوئی عمر کا معاملہ نہیں۔ جوانی وہ کیفیت ہے جس میں دل زندہ ہو، جس میں کسی بات پر آنکھ بھیگ جائے، جس میں کسی نام پر سینہ گرم ہو جائے۔ ایسے کتنے لوگ ہیں جو بیس برس کے ہیں مگر اندر سے بوڑھے ہو چکے ہیں، اور کتنے ہیں جو ستر کے ہیں اور جن کا دل درود پڑھتے ہوئے آج بھی نوجوان ہو جاتا ہے۔ یہ نسبت آدمی کو بوڑھا نہیں ہونے دیتی۔
سو جب ایسی کوئی تصویر نظر سے گزرے اور سیدھی دل پر جا لگے، تو ہاتھ خود بخود لکھنے لگتا ہے اور زبان خود بخود درود پڑھنے لگتی ہے۔ یہ اختیار کی بات نہیں رہتی۔ اور شاید یہی سب سے بڑی سند ہے کہ نسبت قبول ہو گئی ہے کہ اب یاد کرنا ہمارا فیصلہ نہیں، ہماری فطرت بن گیا ہے۔اور سوچیے، اور جھومیے جس دن ملاقات ہو گی، کن سے ہو گی! رسولِ خداﷺ سے۔ اُن کی آلؑ سے۔ عمر بھر جن کا نام لیا، جن کا چہرہ کبھی نہ دیکھا، جن کے در پر کبھی حاضری ہوئی یا نہ ہوئی ایک دن بالکل سامنے ہوں گے۔ یہ خیال ہی دل کو بے قابو کر دینے کے لیے کافی ہے۔ عاشق کی ساری عمر دراصل اُسی ایک لمحے کا انتظار ہے۔
دعا بس اتنی ہے کہ یہ سلسلہ ٹوٹنے نہ پائے۔ نہ اِس دنیا میں، نہ اُس گھڑی جب سب کچھ چھوٹ جائے گا اور صرف نسبتیں باقی رہیں گی۔ جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ سب عارضی ہے، ایک یہی نام ہے جو ساتھ جائے گا۔ اللہ کریم اِن عاشقوں کی صف میں ہمیں بھی ایک کونہ عطا فرمائے یعنی نام کے بغیر، پہچان کے بغیر، بس ایک ادنیٰ سے غلام کی حیثیت سے۔
اور سعدیؒ ہی سے منسوب وہ سلام، جو صدیوں سے ہر محفل کا اختتام ہے:
بَلَغَ الْعُلیٰ بِکَمَالِہٖ ۔۔۔ کَشَفَ الدُّجیٰ بِجَمَالِہٖ
حَسُنَتْ جَمِیْعُ خِصَالِہٖ ۔۔۔ صَلُّوْا عَلَیْہِ وَآلِہٖ
اُن پر اور اُن کی آلؑ پر لاکھوں کروڑوں درود و سلام۔