راولاکوٹ: جہاں معمول کی زندگی بھی سیاسی سوال بن گئی

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے پہاڑی شہر راولاکوٹ تک کا فاصلہ چند گھنٹوں میں طے ہو جاتا ہے، مگر ستمبر کے ان دنوں میں یہ چند گھنٹے ایک ایسے سیاسی بحران کی تہہ در تہہ تصویر دکھا رہے تھے جس نے کئی ماہ سے اس خطے کی معمول کی زندگی کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔

معمول کے دنوں میں اسلام آباد اور راولپنڈی سے راولاکوٹ جانے والی بسیں، ویگنیں اور نجی گاڑیاں مسلسل چلتی ہیں۔ دونوں خطوں کے درمیان خاندانوں کے رشتے ہیں، طلبہ تعلیم کے لیے آتے جاتے ہیں، مریض علاج کے لیے اسلام آباد اور راولپنڈی کا رخ کرتے ہیں، جبکہ کاروبار اور سرکاری کام کے لیے بھی یہ راستہ روزانہ استعمال ہوتا ہے۔

لیکن اب معمول کی پبلک ٹرانسپورٹ مکمل بند تھی۔ چنانچہ مجھے بھی راولاکوٹ جانے کے لیے واٹس ایپ کے ایک کارپول گروپ، “Carpool Rawalakot Rawalpindi” کا سہارا لینا پڑا۔ یہ ایک عجیب تضاد تھا کہ میں انٹرنیٹ کی مدد سے ایسی جگہ جانے کے لیے سواری تلاش کر رہا تھا جہاں پہنچنے کے بعد انٹرنیٹ اور موبائل رابطہ بحران کی زد میں تھا۔

3 ستمبر کی صبح میں راولپنڈی صدر پہنچا۔ تقریباً دس بجے ایک چھوٹی گاڑی پہاڑوں کی طرف روانہ ہوئی۔ روانگی سے پہلے ڈرائیور نے مسافروں کو ایک غیر معمولی ہدایت دی اور کہا کہ "اگر کسی کے پاس پھل یا کھانے پینے کی دوسری اشیا ہیں تو بہتر ہے کہ انہیں ساتھ نہ لے جائیں، کیونکہ راولاکوٹ کے راستے میں پنجاب پولیس انہیں روک سکتی ہے”۔

یہ بظاہر ایک معمولی تنبیہ تھی، مگر گاڑی کے اندر گفتگو کا رخ فوراً بدل گیا۔ موسم، پہاڑی سڑک یا منزل کے بجائے بات عوامی ایکشن کمیٹی، پولیس ناکوں، سڑکوں کی بندش، ہلاکتوں اور کئی ماہ سے جاری احتجاجی تحریک تک پہنچ گئی۔

اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان سفر کرنے والے عام مسافروں کے لیے بھی راولاکوٹ اب محض ایک شہر نہیں رہا تھا۔ وہ ایک ایسی جگہ بن چکا تھا جس کے بارے میں ہر شخص کے پاس کوئی نہ کوئی خبر، تجربہ یا خدشہ تھا۔

سہالہ پہنچے تو ایک مسافر نے ڈرائیور سے گاڑی روکنے کو کہا اور خاصی مقدار میں پھل خرید لیے۔ گاڑی میں موجود دوسرے افراد نے اسے خبردار کیا کہ ممکن ہے پنجاڑ کے مقام پر پولیس یہ سامان روک لے۔ اس نے زیادہ فکر نہیں کی اور کہا کہ اگر روکا گیا تو اس وقت صورت حال دیکھی جائے گی۔

بظاہر یہ ایک معمولی واقعہ تھا، لیکن آنے والے دنوں میں مجھے احساس ہوا کہ راولاکوٹ میں بظاہر معمولی کام بھی سیاسی معنی اختیار کر چکے ہیں۔

کھانا لے جانا، دکان کھولنا، گاڑی چلانا، فون کرنا یا گھر کے لیے ضروری سامان خریدنا بھی احتجاج کرنے والوں اور حکام کے درمیان جاری وسیع تر کشمکش سے جڑ سکتا ہے۔

کہوٹہ سے آگے بڑھے تو موبائل انٹرنیٹ غائب ہو گیا۔ کچھ فاصلے کے بعد عام موبائل فون سروس بھی کمزور ہوتی چلی گئی۔ چند لمحوں میں وہ فون، جو کچھ دیر پہلے ہمیں دنیا کے کسی بھی حصے سے جوڑ رہا تھا، تقریباً کیمرے اور گھڑی تک محدود ہو کر رہ گیا۔

واٹس ایپ نہیں چل رہا تھا، خبریں چیک نہیں ہو رہی تھیں اور راستے میں ملنے والی اطلاعات کی آزادانہ تصدیق مشکل ہوتی جا رہی تھی۔

باہر سبز پہاڑ، گہری وادیاں اور تنگ سڑکیں تھیں، مگر گاڑی کے اندر ایک مختلف دنیا آباد ہو چکی تھی۔ موبائل فون خاموش ہوئے تو سیاست پر گفتگو نے اس خلا کو پُر کر دیا۔ مسافر بحث کر رہے تھے کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے کیا حاصل کیا، حکومت نے احتجاج کو کس حد تک غلط انداز میں ہینڈل کیا اور کیا مذاکرات اب بھی اس بحران سے نکلنے کا راستہ بن سکتے ہیں۔

پنجاڑ پہنچے تو وہ عارضی پولیس ناکہ بھی آ گیا جس کا ذکر راولپنڈی ہی سے سن رہے تھے۔ ایک پولیس اہلکار گاڑی کے قریب آیا، ڈرائیور سے ہاتھ ملایا اور پوچھا کہ کہاں جا رہے ہیں۔

“راولاکوٹ،” ڈرائیور نے جواب دیا۔

اہلکار نے ہمیں آگے جانے کا اشارہ کر دیا۔ نہ گاڑی کی تلاشی ہوئی، نہ سامان چیک کیا گیا اور نہ ہی سہالہ سے خریدے گئے پھلوں کے بارے میں کوئی سوال ہوا۔

گاڑی کے اندر ماحول فوراً ہلکا ہو گیا۔ جن لوگوں نے ڈرائیور کی ابتدائی تنبیہ سن کر کھانے پینے کا سامان نہیں لیا تھا، انہیں اب اپنے فیصلے پر افسوس ہو رہا تھا، جبکہ پھل خریدنے والا مسافر کم از کم اس سفر میں درست ثابت ہوا۔

لیکن اس مختصر واقعے نے ایک اہم حقیقت بھی سامنے رکھی: ایسے حالات میں افواہ اور تجربہ ہمیشہ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ ایک شخص بتاتا ہے کہ سامان روکا جا رہا ہے، دوسرا بغیر کسی مشکل کے گزر جاتا ہے، جبکہ اگلے دن سفر کرنے والے کا تجربہ بالکل مختلف ہو سکتا ہے۔ جب رابطے محدود ہوں تو ہر مسافر خود معلومات کا ایک چھوٹا سا ذریعہ بن جاتا ہے۔

آزاد پتن پل پر پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر پولیس نے ہماری گاڑی روک لی۔ ایک اہلکار نے اندر جھانکا اور ڈرائیور سے پوچھا:
“فیملی یا مسافر؟”
“فیملی۔”

بس اتنی گفتگو ہوئی اور ہمیں آگے جانے دیا گیا۔

پنجاب پیچھے رہ گیا تھا اور سامنے ایک ایسا خطہ تھا جہاں کئی ماہ سے سیاسی کشمکش روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی تھی۔

گوئیں نالہ روڈ کا معمول کا راستہ بند تھا، اس لیے ہمیں منگ کے راستے سے جانا پڑا۔ متبادل راستہ تنگ اور بعض مقامات پر خراب تھا۔ مسلسل بلندی کی طرف جاتی سڑک نے سفر طویل کر دیا۔

عام حالات میں سڑک کی حالت کسی رپورٹ میں شاید ضمنی تفصیل ہو، مگر طویل شٹ ڈاؤن کے دوران سڑک خود سیاسی جغرافیے کا حصہ بن جاتی ہے۔ بند راستہ یہ طے کرتا ہے کہ خوراک کتنی دیر میں کسی آبادی تک پہنچے گی، مریض اسپتال کتنے وقت میں پہنچے گا، راولپنڈی جانے والا شخص کب تک منزل پر پہنچے گا اور چند گھنٹوں کا سفر کتنے گھنٹوں میں بدل جائے گا۔

منگ بازار پہنچا تو توقع کے برعکس بہت سی دکانیں کھلی ہوئی تھیں۔ کئی دن سے شٹ ڈاؤن کی خبریں سننے کے بعد مجھے امید تھی کہ بازار تقریباً مکمل بند ہو گا۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ صورت حال اتنی سادہ نہیں۔ ان کے مطابق کاروبار معمول کے مطابق نہیں تھا، تاہم عوام کو ضروری اشیا خریدنے کا موقع دینے کے لیے محدود اوقات میں دکانیں کھولنے کی اجازت دی جا رہی تھی۔

یہیں ایک سوال دوبارہ سامنے آیا: اگر تحریک پورے پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے لیے ہے تو پھر راولاکوٹ اور پونچھ کے لوگ اس کا معاشی اور سماجی بوجھ زیادہ کیوں اٹھا رہے ہیں؟

یہ سوال تحریک کی مخالفت سے زیادہ اس تھکن کی عکاسی کرتا تھا جو طویل احتجاج کے ساتھ پیدا ہوتی ہے۔ کوئی شخص سیاسی مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے بھی یہ پوچھ سکتا ہے کہ ان مطالبات کے لیے روزمرہ زندگی کتنی دیر تک معطل رکھی جا سکتی ہے۔

عام طور پر تقریباً تین گھنٹے میں مکمل ہونے والا سفر چار گھنٹے پندرہ منٹ سے زیادہ وقت لینے کے بعد راولاکوٹ بس ٹرمینل تک پہنچا۔ ایک مسافر نے ڈرائیور سے مزید آگے، بلدیہ بس اسٹینڈ تک چھوڑنے کو کہا، مگر ڈرائیور نے انکار کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس سمت رینجرز موجود ہیں اور وہ مزید آگے نہیں جانا چاہتا۔

یہاں تک پہنچتے پہنچتے ایک بات میرے لیے واضح ہو چکی تھی: شہر ابھی سامنے تھا، لیکن بحران پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔

بس ٹرمینل سے دریک کی طرف روانہ ہوا تو عام حالات میں دس یا بارہ منٹ کا سفر تقریباً آدھے گھنٹے میں مکمل ہوا۔ عیدگاہ کے قریب گاڑی سے اترا اور باقی راستہ پیدل طے کیا۔

تب تک میں بحران کے بیرونی جغرافیے سے اس کے مرکز میں داخل ہو چکا تھا۔

یہاں کی سڑکیں، بازار اور محلے وہی تھے، مگر ان کے معنی بدل چکے تھے۔ کچھ جگہیں اب صرف بازار یا چوک نہیں رہیں تھیں۔ انہیں احتجاجی کیمپوں، سکیورٹی پوزیشنوں، خندقوں اور ان مقامات کے حوالے سے بھی یاد کیا جا رہا تھا جہاں لوگ مارے گئے تھے۔

گھر پہنچنے کے بعد مواصلاتی بحران کی شدت مزید محسوس ہوئی۔ اگلے چار دنوں میں بمشکل تین یا چار مرتبہ مناسب فون کال کر سکا۔ بعض مقامات پر کسی ایک موبائل نیٹ ورک کا انتہائی کمزور سگنل اچانک آ جاتا تھا۔ لوگوں نے ایسے مقامات کی نشاندہی کر رکھی تھی۔ وہ وہاں کھڑے ہو کر بار بار نمبر ملاتے، فون کو مختلف سمتوں میں کرتے اور دوبارہ کوشش کرتے۔

کبھی کئی کوششوں کے بعد کال مل جاتی اور کبھی گھنٹیاں بجنے سے پہلے ہی رابطہ ختم ہو جاتا۔

اسلام آباد یا راولپنڈی میں انٹرنیٹ بند ہونا شاید واٹس ایپ، فیس بک یا یوٹیوب تک رسائی ختم ہونے کی تکلیف محسوس ہو، مگر راولاکوٹ میں اس کے اثرات کہیں وسیع تھے۔

اسلام آباد میں موجود بیٹا اپنے والدین سے بات نہیں کر پا رہا تھا۔ بیرون ملک کام کرنے والا شخص اپنے خاندان کی خیریت معلوم نہیں کر سکتا تھا۔ تاجروں کو لین دین میں مشکلات تھیں، طلبہ تعلیمی مواد تک رسائی سے محروم تھے اور کسی واقعے کی خبر پھیلنے کے بعد خاندان فوری طور پر یہ معلوم نہیں کر سکتے تھے کہ ان کے رشتہ دار محفوظ ہیں یا نہیں۔

معلومات خود غیر یقینی بن گئی تھیں۔

ایک خبر سرگوشی کے طور پر شروع ہوتی، ایک محلے سے دوسرے تک پہنچتی اور گھنٹوں تک غیر مصدقہ رہ سکتی تھی، کیونکہ جس شخص کے بارے میں خبر ہوتی، اس سے رابطہ کرنا ممکن نہیں ہوتا تھا۔

اگر سفر نے مجھے بحران کے بیرونی آثار دکھائے تھے تو ڈی چوک میں گزاری گئی ایک شام نے واضح کر دیا کہ یہ کشمکش شہر کے اندر کس حد تک سرایت کر چکی ہے۔

مرکزی احتجاجی دھرنے میں پہنچا تو تقریباً ہر گفتگو ایک ہی سوال کے گرد گھوم رہی تھی: کیا نئی حکومت عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ بامعنی مذاکرات کرے گی؟
لوگ جانتے تھے کہ میں صحافی ہوں، اس لیے بار بار مجھ سے بھی پوچھا جاتا کہ مذاکرات ہوں گے یا نہیں۔ میں پیش گوئی کرنے کے بجائے سوال واپس ان کی طرف کر دیتا۔ زیادہ تر جوابات امید سے زیادہ شکوک کا اظہار تھے اور وزیراعظم کے انتخاب پر درجنوں سوالات تھے۔

ڈی چوک کے اطراف بہت سی معمول کی دکانیں بند تھیں، لیکن احتجاج نے اپنی ایک الگ معیشت پیدا کر لی تھی۔ عارضی اسٹالوں پر چائے، پکوڑے، سگریٹ اور دوسری اشیا فروخت ہو رہی تھیں۔ پلاسٹک کی کرسیوں پر بیٹھے لوگ گرم چائے کے پیالوں کے ساتھ سیاست پر بحث کر رہے تھے۔

“دیسی دودھ کی چائے” کے اشتہارات نمایاں تھے۔

یہ منظر بظاہر معمولی تھا، مگر اس میں ایک طویل احتجاج کی پوری کہانی چھپی ہوئی تھی۔ کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحریک صرف دھرنے اور تقریروں پر قائم نہیں رہ سکتی۔ لوگوں کو کھانا، پانی، چائے، ادویات اور بیٹھنے کی جگہ بھی درکار ہوتی ہے۔ یوں احتجاج رفتہ رفتہ شہر کے روزمرہ معمولات میں شامل ہو چکا تھا۔
ڈی چوک سے عیدگاہ کی طرف جاتے ہوئے ایک سڑک پر کھودی گئی خندق نظر آئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق رینجرز نے اپنی پوزیشن کی جانب آنے والی گاڑیوں کو روکنے کے لیے اسے دفاعی اقدام کے طور پر بنایا تھا۔

سڑک، جو عام طور پر لوگوں کو ایک دوسرے سے ملاتی ہے، اب ایک رکاوٹ میں تبدیل ہو چکی تھی۔

کچھ فاصلے پر 27 اور 28 جولائی کے واقعات میں جان سے جانے والے نوجوانوں کے ناموں والی یادگاری تختیاں موجود تھیں۔ مذاکرات کا نتیجہ جو بھی ہو، لیکن یہ نام راولاکوٹ کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بن چکے تھے۔

3۔ عثمان گل کی جائے شہادت پر کتبہ۔

عیدگاہ میں تحریک کا ایک اور پہلو سامنے آیا۔ خواتین الگ احتجاجی اجتماع کرتی تھیں۔ وہ عموماً نماز ظہر کے بعد وہاں پہنچتیں اور نماز عصر تک موجود رہتیں۔

خواتین کی یہ مسلسل موجودگی اہم تھی۔ ایک نسبتاً قدامت پسند پہاڑی معاشرے میں خواتین کا اس طرح سیاسی احتجاج میں شامل ہونا اس بات کی علامت تھا کہ تحریک اب گھروں کی دہلیز تک پہنچ چکی ہے۔

مائیں بچوں کی تعلیم کے بارے میں فکرمند تھیں۔ بہنیں اور بیویاں ان مردوں کے بارے میں پریشان تھیں جو احتجاجی ناکوں یا مظاہروں میں شریک تھے۔ خاندانوں کو ٹرانسپورٹ، ضروری اشیا اور مواصلاتی مشکلات کا سامنا تھا۔

اگلا دن جمعہ تھا، ان دو دنوں میں سے ایک جن میں عوامی ایکشن کمیٹی نے مقامی بازاروں کو چند گھنٹوں کے لیے کھولنے کی اجازت دی تھی تاکہ لوگ ضروری اشیا خرید سکیں۔

نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے کھائی گلہ جاتے ہوئے چک بازار کے قریب صابر شہید کی قبر نظر آئی، جہاں 6 ستمبر کے حوالے سے صفائی کا کام جاری تھا۔
ایک ہی شہر میں دو متوازی حقیقتیں دکھائی دے رہی تھیں۔ ایک طرف پاکستان کی ریاستی علامات اور یوم دفاع کی روایتی تیاری تھی، دوسری طرف اسی آبادی کا ایک بڑا حصہ سیاسی نمائندگی، طرز حکمرانی اور حقوق کے سوالات پر ریاستی حکام سے کشمکش میں تھا۔

کھائیگلہ میں جمعہ کی نماز کے بعد مجھے اس بات کا ایک اور غیر معمولی مظہر نظر آیا کہ سیاسی تقسیم کس حد تک معاشرتی زندگی میں داخل ہو چکی ہے۔
ایک اہلِ حدیث مسجد، جس کے بارے میں مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس وقت جماعت الدعوۃ کے زیر انتظام ہے، اپنے معمول کے نمازیوں سے تقریباً خالی دکھائی دی۔

مقامی لوگوں کے مطابق مسجد کی انتظامیہ سے وابستہ ایک شخص کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی پر تنقید اور احتجاج سے متعلق اعلانات مسجد سے نشر نہ کرنے کے بعد بائیکاٹ کی صورت حال پیدا ہوئی تھی۔

مقامی افراد نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ واقعے کے بعد اس مسجد میں نماز ظہر اور نماز عصر پر الگ الگ جماعت کروائی جاتی ہے۔

میں اس تنازعے کی ہر تفصیل کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا، لیکن یہ بات قابل ذکر تھی کہ مقامی لوگ خود اس بائیکاٹ کو واضح طور پر سیاسی تناظر میں بیان کر رہے تھے۔

جب کسی احتجاج سے متعلق اختلاف اس بات پر اثر انداز ہونے لگے کہ لوگ کہاں نماز پڑھتے ہیں اور کس کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرتے ہیں تو سیاست ریلیوں، مذاکراتی میزوں اور سرکاری دفاتر سے کہیں آگے نکل چکی ہوتی ہے۔

کھائی گلہ بازار میں محدود اوقات کے لیے بازار کھولنے کے اثرات مزید واضح ہوئے۔

دکانیں کھلیں تو ایسا محسوس ہوا جیسے آس پاس کا پورا علاقہ ایک ہی وقت میں خریداری کے لیے بازار پہنچ گیا ہو۔

ایک طرح سے ایسا ہی تھا۔

جب کاروباری سرگرمی صرف مخصوص دنوں میں چند گھنٹوں تک محدود ہو جائے تو خاندانوں کو دکانیں دوبارہ بند ہونے سے پہلے کئی دنوں کا آٹا، سبزیاں، ادویات اور گھریلو سامان خریدنا پڑتا ہے۔

ہجوم اتنا زیادہ تھا کہ میں نے اپنی ضرورت کا سامان خریدنے کا فیصلہ عصر کے قریب تک مؤخر کر دیا۔

مقامی لوگوں کے لیے سیاسی جدوجہد کو آئینی اصلاحات اور ریاستی اختیار کی زبان میں بیان کیا جا سکتا ہے، لیکن بازار کے اندر یہ ایک کہیں زیادہ فوری سوال اختیار کر لیتی ہے:

کیا بازار دوبارہ بند ہونے سے پہلے ہم کافی کھانا خرید پائیں گے؟

5 ستمبر کو عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ افراد کے قائم کردہ ایک طبی مرکز کا دورہ کیا۔ وہاں موجود ڈاکٹروں کے مطابق یہ مرکز 9 جون کو ایک طبی کیمپ کے طور پر شروع ہوا تھا، جو بعد میں زیادہ منظم، اسپتال نما سہولت میں تبدیل ہو گیا۔

انتظامیہ کے مطابق دریک اور گردونواح کے تین طبی مراکز نے احتجاج کے دوران ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کو طبی امداد فراہم کی۔ اس تعداد کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 27 جولائی کے تشدد کے دوران اس مرکز میں 25 سے زیادہ لاشیں اور 100 سے زائد زخمی لائے گئے۔ یہ اعداد بھی طبی مرکز کی انتظامیہ کی فراہم کردہ معلومات تھیں۔

اعداد و شمار سے قطع نظر، ایسے مرکز کا وجود خود ایک بڑی تبدیلی کی علامت تھا۔ ایک ایسی تحریک جو ابتدا میں معاشی اور سیاسی مطالبات کے گرد منظم ہوئی تھی، اب متاثرہ آبادی کے لیے طبی امداد کا متبادل نظام بھی قائم کر چکی تھی۔

اسی شام عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 ستمبر کو مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی کال دی۔ اس کا مطالبہ تھا کہ حکام کے ساتھ 4 اکتوبر کو طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کیا جائے۔ اندازوں کے مطابق اجتماع میں تقریباً آٹھ سے دس ہزار افراد شریک تھے۔

تحریک کے لیے یہ ہڑتال صرف حکومت پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ نہیں تھی۔ یہ اس بات کا امتحان بھی تھی کہ راولاکوٹ اور پونچھ سے باہر اسے کتنی عوامی حمایت حاصل ہے۔

اس جلسے میں لوگوں سے گفتگو میں دو خدشات بار بار سامنے آئے۔

ایک حکومت کے اس فیصلے سے متعلق تھا جس کے تحت عوامی ایکشن کمیٹی کو انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت ممنوع قرار دیا گیا۔ تحریک کے حامی اسے شہری حقوق کی تحریک کو مجرمانہ سرگرمی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش قرار دیتے تھے۔

دوسرا خدشہ تعلیم کا تھا۔ والدین کا کہنا تھا کہ سیاسی کشمکش میں کوئی کردار نہ رکھنے والے بچے اس کا نقصان اٹھا رہے ہیں۔

حکومت کا مؤقف مختلف تھا۔ حکام کا کہنا تھا کہ تحریک کے بہت سے مطالبات پہلے ہی پورے کیے جا چکے ہیں یا ان پر عمل درآمد جاری ہے، جبکہ احتجاج کے دوران پرتشدد عناصر نے ریاستی اختیار کو چیلنج کرنے کے لیے صورت حال سے فائدہ اٹھایا۔

عوامی ایکشن کمیٹی ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور اپنے احتجاج کو معاشی ریلیف، بہتر طرز حکمرانی اور سیاسی اصلاحات کے لیے پُرامن تحریک قرار دیتی ہے۔
لیکن کئی ماہ کی کشمکش کے بعد اصل مطالبات اب پوری کہانی نہیں رہے تھے۔

ہلاکتیں، گرفتاریاں، مواصلاتی پابندیاں اور تشدد سے متعلق ایک دوسرے پر عائد کیے جانے والے الزامات نے بداعتمادی کی ایک نئی تہہ پیدا کر دی تھی۔

تحریک کے ابتدائی مطالبات میں سستی بجلی، سبسڈائزڈ آٹا، صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر، اشرافیہ کی مراعات میں کمی اور سیاسی اصلاحات شامل تھیں۔ خطے سے باہر مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے قانون ساز اسمبلی کی 12 نشستیں بھی اس کے متنازع سیاسی مطالبات میں شامل تھیں۔

مگر بحران اب مطالبات کی فہرست سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔

تحریک کے حامیوں کے لیے ہلاکتوں کا احتساب، زیر حراست افراد کی رہائی اور شہری آزادیوں کی بحالی اب مرکزی مطالبات بن چکے ہیں۔

حکام کے لیے معاملہ ریاستی رٹ اور معمول کی عوامی زندگی بحال کرنے سے زیادہ جڑ گیا ہے۔

یہ فرق مجھے ہر جگہ نظر آیا۔

ڈی چوک کے چائے کے اسٹالز پر لوگ سیاسی حقوق پر بات کر رہے تھے۔

کھائی گلہ بازار میں خاندان اس فکر میں تھے کہ دکانیں بند ہونے سے پہلے کافی سامان خرید سکیں گے یا نہیں۔

عیدگاہ میں خواتین اپنے سیاسی مطالبات سمیت گھروں کو درپیش معاشی مشکلات پر گفتگو کر رہی تھیں۔

طبی مرکز میں ڈاکٹر گزشتہ تین ماہ کے دوران لائی جانے والی لاشوں اور زخمیوں کا ذکر کر رہے تھے۔

اور سڑک کے کنارے موجود یادگاری تختیاں ہر شخص کو یاد دلا رہی تھیں کہ اس کشمکش نے پہلے ہی انسانی قیمت وصول کر لی ہے۔

ایک سیاسی احتجاج مطالبات کے ایک چارٹر سے شروع ہو سکتا ہے۔

لیکن راولاکوٹ میں یہ اس سے کہیں بڑی چیز بن چکا ہے۔ ایک ایسی جدوجہد جو شہر کے جغرافیے، معیشت اور سماجی تعلقات میں گہرائی تک شامل ہو چکی ہے۔

اب سوال یہ بھی تھا کہ جو کچھ ہو چکا، اس کا حساب کون دے گا؟

6 ستمبر کو جب میں راولاکوٹ کے مرکزی احتجاجی دھرنے میں دوبارہ گیا تو پہلے دیکھے گئے بڑے اجتماع کے مقابلے میں ہجوم نسبتاً کم تھا، لیکن ایک اور موجودگی کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا۔ نگرانی کرنے والے ڈرون مسلسل احتجاجی مقام کے اوپر کم بلندی پر پرواز کر رہے تھے۔

ان کی بھنبھناہٹ ماحول کا حصہ بن چکی تھی۔

میرے ہاتھ میں اتفاقاً موبائل فون کا اسٹینڈ تھا۔ اوپر منڈلاتے ڈرونز کو دیکھ کر میں نے اپنے کزن سے مذاق کیا کہ ممکن ہے کوئی پروپیگنڈا پیج جلد ہی میری ایسی تصویر شائع کر دے جس کے ساتھ یہ کیپشن ہو کہ راولاکوٹ کے دھرنے میں ایک مسلح دہشت گرد گھومتا ہوا دیکھا گیا۔

ہم ہنس پڑے، لیکن اس مذاق کے پیچھے ایک تلخ حقیقت موجود تھی۔

یہاں لوگ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ احتجاج سے متعلق متضاد بیانیے کس طرح تشکیل پاتے ہیں۔

دور سے لی گئی تصویر میں ایک موبائل اسٹینڈ کسی اور مشکوک چیز جیسا دکھائی دے سکتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے ایک اجتماع کو ایک بیانیے میں پُرامن مظاہرین اور دوسرے میں پرتشدد ہجوم قرار دیا جا سکتا ہے۔

ایسے ماحول میں جہاں مواصلاتی ذرائع محدود ہوں اور آزادانہ تصدیق مشکل ہو، متضاد بیانیوں کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔

میں نے دھرنے میں خاصا وقت گزارا اور لوگوں سے پوچھا کہ انہیں نئی حکومت سے کیا توقعات ہیں۔

جن لوگوں سے میں نے بات کی، ان میں سے بیشتر میں امید کم تھی۔

کچھ نے اس سیاسی عمل پر سوال اٹھایا جس کے ذریعے نئی حکومت وجود میں آئی، جبکہ دوسروں کا کہنا تھا کہ انتخابات کے بعد بھی پابندیوں کا برقرار رہنا عوامی ایکشن کمیٹی کے اس مؤقف کو تقویت دیتا ہے کہ حکومت کی تبدیلی لازماً بنیادی سیاسی نظام کو تبدیل نہیں کرتی۔

نئی حکومت نے ایک غیر معمولی طور پر مشکل صورت حال ورثے میں حاصل کی ہے۔

اسے سڑکیں کھولنی تھیں، مواصلاتی نظام بحال کرنا تھا، کاروباری سرگرمی معمول پر لانی تھی، تعلیمی نقصان کا ازالہ کرنا تھا اور ایسی تحریک سے رابطے کا راستہ تلاش کرنا تھا جسے ریاست نے باضابطہ طور پر ممنوع قرار دے رکھا تھا۔

مگر سب سے مشکل کام اعتماد بحال کرنا تھا۔

راولاکوٹ کے لوگوں کے لیے جون اور جولائی صرف سیاسی واقعات نہیں تھے۔ وہ انہیں ہلاکتوں، زخمیوں، گرفتاریوں، جنازوں اور کئی ہفتوں کی مواصلاتی تنہائی کے ذریعے یاد کرتے تھے۔

ایک حکومت مذاکراتی کمیٹی نسبتاً آسانی سے بنا سکتی ہے، لیکن ایسے تجربے کے بعد اعتماد کی بحالی ایک طویل عمل ہوتا ہے۔

اتوار کے روز حکومتی رکن اسمبلی کی قیادت میں ایک وفد راولاکوٹ پہنچا اور مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے امکانات پر ابتدائی رابطے کیے۔ میرے وہاں سے روانہ ہونے تک کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی تھی۔

اس کے باوجود ایک بات مختلف حلقوں سے ہونے والی گفتگو میں مشترک تھی، کوئی بھی دوبارہ پرتشدد تصادم نہیں چاہتا تھا۔

تحریک کے حامی مذاکرات کی ضرورت محسوس کرتے تھے، جبکہ طویل شٹ ڈاؤن پر تنقید کرنے والے بھی سیاسی مذاکرات کو ناگزیر سمجھتے تھے۔

یوں اختلاف اب صرف یہ نہیں رہا تھا کہ تحریک درست ہے یا غلط۔ اصل بحث یہ بن چکی تھی کہ معاہدے کی شرائط کیا ہوں گی، جو کچھ ہو چکا اس کا احتساب کیسے ہو گا اور کیا دونوں فریق ایک دوسرے کی یقین دہانیوں پر اعتماد کر سکیں گے۔

پھر واپسی کا دن آ گیا۔

اس مرتبہ گوئیں نالہ روڈ کھل چکی تھی، اس لیے اسلام آباد اور راولپنڈی کا سفر منگ کے راستے آنے کے مقابلے میں کہیں آسان تھا۔ میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھے تمام لوگ اجنبی تھے، لیکن چند ہی منٹوں میں گفتگو پھر انہی موضوعات پر پہنچ گئی جنہوں نے شہر میں داخل ہوتے وقت سفر پر غلبہ حاصل کیا تھا۔
تحریک، مذاکرات، شٹ ڈاؤن، بازار، اسکول، سڑکیں، پولیس اور عام شہریوں پر پڑنے والا دباؤ۔

ایک مسافر، جو ٹرانسپورٹر تھا، کا خیال تھا کہ اگر شٹ ڈاؤن سیاسی دباؤ ڈالنے کا ذریعہ ہے تو پھر نجی گاڑیوں سمیت ہر چیز رکنی چاہیے۔ دوسرے نے سوال کیا کہ خطے کے کچھ علاقوں میں پابندیاں نسبتاً کم سخت کیوں ہیں جبکہ راولاکوٹ کو زیادہ بوجھ کیوں اٹھانا پڑ رہا ہے۔

ان کی گفتگو سنتے ہوئے محسوس ہوا کہ خطے کے اندر ایک دوسری سیاسی بحث بھی جنم لے چکی ہے کہ مزاحمت کی قیمت کتنی ہے؟ کاروبار کتنے عرصے تک بند رہ سکتے ہیں؟ بچے مزید کتنے دن تعلیم سے محروم رہیں گے؟ ٹرانسپورٹ ہڑتال کے دوران نجی گاڑیوں کو چلنا چاہیے یا نہیں؟ بار بار کے شٹ ڈاؤن تحریک کو مضبوط کر رہے ہیں یا اسی آبادی کو تھکا رہے ہیں جس کی حمایت اسے درکار ہے؟

یہ سوالات لازماً تحریک کی مخالفت نہیں تھے۔ بہت سے سوال کرنے والے لوگ اب بھی اس کے بنیادی مطالبات کے حامی تھے۔ ان کے سوالات دراصل طویل کشمکش سے پیدا ہونے والی تھکن کی علامت تھے۔

واپسی کے دوران ہم کھانے کے لیے سڑک کنارے ایک ہوٹل پر رکے تو میں نے دیگر سواروں سے الگ میز کا انتخاب کیا۔ سفر دوبارہ شروع ہوا تو ایک مسافر نے آخرکار براہ راست پوچھ لیا کہ میں کیا کام کرتا ہوں۔

میرا کم بولنا، اردگرد کا مشاہدہ کرنا اور کبھی کبھار فون استعمال کرنا شاید اسے مشکوک لگا تھا۔ اسے شبہ تھا کہ میرا تعلق کسی سکیورٹی ادارے سے ہو سکتا ہے۔

جب میں نے بتایا کہ میں صحافی ہوں تو ماحول فوراً بدل گیا۔ ایک مسافر نے میرا نام پہچان لیا اور میری بعض رپورٹس کا حوالہ دیا۔ چند لمحوں کے لیے جو گفتگو تفتیش جیسی محسوس ہو رہی تھی، وہ دوبارہ عام بات چیت میں بدل گئی۔

یہ چھوٹا سا واقعہ بھی اس بحران کے ایک بڑے اثر کو ظاہر کر رہا تھا۔

جب عدم اعتماد طویل ہو جائے تو اجنبی صرف اجنبی نہیں رہتے۔ وہ ایک دوسرے کو کارکن، پولیس اہلکار، سرکاری افسر، صحافی، انٹیلی جنس اہلکار یا مخبر سمجھنے لگتے ہیں۔

پہاڑوں سے اترتے ہوئے اسلام آباد اور راولپنڈی قریب آنے لگے۔ فون کا سگنل بتدریج واپس آیا۔ واٹس ایپ کے پیغامات ایک ساتھ آنے لگے۔ نیوز الرٹس ظاہر ہوئے۔ وہ دنیا جس سے کئی دن تک رابطہ مشکل تھا، اچانک دوبارہ فون کی اسکرین پر موجود تھی۔

راولاکوٹ اور اسلام آباد جغرافیائی طور پر چند گھنٹوں کے فاصلے پر ہیں، مگر ان دنوں سیاسی اور نفسیاتی اعتبار سے یہ دونوں ایک دوسرے سے کہیں زیادہ دور دکھائی دیتے تھے۔

اسلام آباد میں اس بحران کو سرکاری نوٹیفکیشنز، حکومتی بیانات، مذاکرات، قانونی فیصلوں اور ہلاکتوں کے اعداد و شمار کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے۔
راولاکوٹ میں اس کی شکل مختلف ہے۔

یہ ڈرائیور کی وہ تنبیہ ہے کہ کھانا ساتھ نہ لے جائیں۔
یہ سہالہ سے پھل خریدنے والا مسافر ہے۔
یہ پنجاڑ کا پولیس ناکہ ہے۔
یہ آزاد پتن پر چند سیکنڈ کی پوچھ گچھ ہے۔
یہ بند راستے کی وجہ سے کئی گھنٹے طویل ہو جانے والا سفر ہے۔
یہ چند گھنٹوں کے لیے کھلنے والا بازار ہے۔
یہ اپنے بچوں کی تعلیم کے بارے میں فکرمند ماں ہے۔
یہ کمزور سگنل کی تلاش میں سڑک کنارے کھڑا شخص ہے۔
یہ جولائی میں جان سے جانے والے نوجوان کے نام والی یادگاری تختی ہے۔
یہ عارضی طبی مرکز میں کام کرنے والا ڈاکٹر ہے۔
اور یہ دھرنے کے اوپر منڈلاتا ہوا ڈرون ہے۔

یہاں تک کہ بند دکانوں کے درمیان فروخت ہونے والی دیسی دودھ کی ایک کپ چائے بھی اس طویل سیاسی تحریک کی کہانی کا حصہ بن چکی ہے۔

راولاکوٹ سے واپس آتے ہوئے یہ تاثر نہیں تھا کہ پورا شہر کسی ایک جذبے میں ڈوبا ہوا ہے۔ غصہ موجود ہے، غم موجود ہے، سیاسی مزاحمت موجود ہے، مگر اس کے ساتھ تھکن بھی واضح ہے۔

تاجر معمول کی کاروباری سرگرمی چاہتے ہیں۔
والدین بچوں کی ضائع ہونے والی تعلیم سے پریشان ہیں۔
نوجوان مواصلاتی پابندیوں سے تنگ ہیں۔
ٹرانسپورٹر سڑکیں کھلی دیکھنا چاہتے ہیں۔

خاندان چاہتے ہیں کہ وہ دوسرے شہروں اور ملکوں میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں سے آزادانہ بات کر سکیں۔

لیکن عوام کی اکثریت یہ بھی سمجھتے ہیں کہ سیاسی سوالات حل کیے بغیر معمول کی زندگی کی طرف واپسی گزشتہ کئی ماہ کی قربانیوں کو بے معنی بنا دے گی۔
شاید یہی راولاکوٹ کی اصل کشمکش ہے۔

لوگ معمول کی زندگی چاہتے ہیں، لیکن ہر قیمت پر نہیں۔

وہ چاہتے ہیں کہ بازار کھلیں، بچے اسکول جائیں، سڑکیں رواں ہوں اور موبائل فون کام کریں۔ لیکن وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ سیاسی نمائندگی، طرز حکمرانی، احتساب اور معاشی حقوق سے متعلق سوالات کا جواب دیا جائے۔

اس لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ معمول کب واپس آئے گا۔

اصل سوال یہ ہے کہ لوگ کس نوعیت کے معمول کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوں گے؟

عوامی ایکشن کمیٹی یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ اس کی حمایت راولاکوٹ اور پونچھ تک محدود نہیں۔ حکومت یہ دیکھ رہی ہے کہ معمول بحال کرنے اور تحریک کے ساتھ معاملہ کرنے کے لیے کتنی سیاسی گنجائش موجود ہے۔

اور عام شہری اس سب کے درمیان ایک نسبتاً سادہ راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ ایسا حل جس میں ان کے مطالبات بھی سنے جائیں، ان کے نقصانات کا حساب بھی ہو اور ان کی روزمرہ زندگی بھی دوبارہ چل سکے۔

جب میں راولپنڈی صدر سے روانہ ہوا تھا تو میرے ذہن میں یہ ایک رپورٹنگ ٹرپ تھا۔ واپسی پر یہ سفر چند گھنٹوں کی پہاڑی سڑک سے جدا دو مختلف حقیقتوں کے درمیان سفر محسوس ہونے لگا۔

ایک حقیقت میں انٹرنیٹ کام کرتا ہے، بازار کھلے ہیں، ٹریفک رواں ہے اور پھلوں کا تھیلا گاڑی میں رکھنے پر کوئی خاص توجہ نہیں دیتا۔

دوسری حقیقت میں انہی معمولی چیزوں کو سیاسی معنی حاصل ہو سکتے ہیں۔

راولاکوٹ کوئی ایسا شہر نہیں جو ہمیشہ کے لیے تصادم میں منجمد ہو گیا ہو۔ بچے اب بھی کھیلتے ہیں۔ لوگ چائے پیتے ہیں۔ عوام بازار کھلنے پر خریداری کرتے ہیں۔ شادیاں بھی ہوتی ہیں، رشتہ دار ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ یہاں تک کہ نگرانی کرنے والے ڈرونز کے سائے میں بھی مزاح باقی ہے۔
زندگی حالات کے مطابق ڈھل جاتی ہے۔

لیکن حالات کے مطابق ڈھل جانا معمول کی زندگی نہیں ہوتا۔

سڑکیں دوبارہ کھولی جا سکتی ہیں۔ خندقیں ایک دن بھر دی جائیں گی۔ دکانوں کے شٹر دوبارہ اٹھ سکتے ہیں۔ موبائل ٹاورز دوبارہ فعال ہو سکتے ہیں۔ حکومت مذاکرات کا اعلان کر سکتی ہے اور کمیٹیاں نئے معاہدوں پر دستخط کر سکتی ہیں۔

مگر اعتماد واپس لانا زیادہ مشکل ہو گا۔

اسلام آباد کی طرف اترتی ہوئی گاڑی میں جب موبائل فون کا سگنل بالآخر مکمل طور پر واپس آیا تو واٹس ایپ کے پیغامات اور نیوز الرٹس ایک ساتھ اسکرین پر نمودار ہونے لگے تو راولاکوٹ پیچھے رہ گیا تھا۔

لیکن وہاں سنے گئے سوالات، دیکھے گئے مناظر اور محسوس کی گئی بے یقینی پہاڑوں کے اس پار نہیں چھوٹی۔
موبائل سگنل کی طرح وہ پہاڑ عبور کرتے ہی غائب نہیں ہوئے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے