ایپل نے 9 ستمبر کو اپنے نئے آئی فون 18 پرو،،آئی فون 18 پرو میکس اور فولڈ ایبل آئی فون ڈو متعارف کرائے۔
عام طور پر اس کمپنی کی جانب سے نئے آئی فونز متعارف کرانے کے ساتھ پرانے ماڈلز کی قیمتوں میں کمی کی جاتی ہے۔
مگر اس سال کمپنی نے بالکل الٹا کام کیا ہے اور پرانے ماڈلز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
جی ہاں واقعی ایپل نے خاموشی سے آئی فون 16، 17، 17 ای اور آئی فون ائیر کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
درحقیقت اب تک کچھ پرانے فونز کی قیمت انہیں متعارف کرانے کے وقت کی قیمت سے زیادہ ہوگئی ہے۔
اس سال ایپل نے آئی فون 18 اور 18 پرو میکس کی قیمت گزشتہ سال کے ماڈلز کے مقابلے میں 100 ڈالرز زیادہ رکھی تھی۔
ایسا ہی پرانے فونز کے ساتھ بھی ہوا اور ان کی قیمتوں میں بھی 100 ڈالرز کا اضافہ کیا گیا ہے۔
9 ستمبر کے ایونٹ سے قبل آئی فون 16 کی قیمت 699 ڈالرز تھی جو گزشتہ سال آئی فون 17 کو متعارف کرانے کے بعد رکھی گئی تھی اور اب اس کی قیمت ایک بار پھر 799 ڈالرز ہوگئی ہے۔
اسی قیمت پر آئی فون 16 کو 2024 میں متعارف کرایا گیا تھا۔
آئی فون 17، 17 ای اور آئی فون ائیر اپنے لانچ کے مقابلے میں زیادہ مہنگے ہوگئے ہیں۔
آئی فون 17 ای کو مارچ میں 599 ڈالرز میں متعارف کرایا گیا تھا اور اب 100 ڈالرز اضافے سے وہ 699 ڈالرز کا ہوگیا ہے۔
آئی فون 17 کو گزشتہ سال ستمبر میں 799 ڈالرز کی قیمت کے ساتھ پیش کیا گیا تھا اور اب وہ 899 ڈالرز میں دستیاب ہوگا۔
اسی طرح آئی فون ائیر 999 ڈالرز کی بجائے 1099 ڈالرز میں فروخت کیا جائے گا۔
قیمتوں میں اضافے کی وجہ چپس اور دیگر پرزہ جات کی قیمتوں میں اضافہ ہونا ہے جس کا عندیہ کمپنی کے سابق چیف ایگزیکٹو ٹم کک نے کچھ عرصے قبل ایک بیان میں دیا تھا۔