ہر قوم کی تقدیر اس کے ادراک اور فیصلوں کا مرہون منت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں اپنے حال اور مستقبل کے تقاضوں سے چشم پوشی کرتی ہیں، تو زمانہ انہیں ایسے امتحانات میں مبتلا کر دیتا ہے جن کا ادراک دیر سے ہوتا ہے اور اس کا خمیازہ آنے والی نسلیں بھگتتی ہیں۔ پاکستان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ دہشت گردی کا یہ طوفان ایک دم نہیں اٹھا بلکہ اس کی ابتدا ان بیجوں سے ہوئی جو ہم نے اپنے ہاتھوں بوئے، پھر اسے پانی دیا، اور جب وہ درخت بن گیا تو اس کے سایہ میں ہم خود بے سایہ ہو گئے۔
قرآن مجید نے فرمایا: "وَلَا تَلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ” (البقرہ: ۱۹۵) یعنی اپنے ہاتھوں اپنی تباہی میں نہ پڑو۔ مگر تاریخ کے اس باب میں ہم نے خود کو تباہی کے گھاٹ اتارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ وہ زمانہ جب ہم نے سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد میں عالمی طاقتوں کا ساتھ دیا، اس وقت ایک ظاہری فتح تو حاصل ہوئی مگر اس کے ساتھ ہی ہم نے ایک ایسا ہتھیار اپنے معاشرے میں منتقل کر دیا جو آج ہماری ہی بقا کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔ کلاشنکوف اور اوزی کا وہ ہتھیار جو کبھی مجاہدین کی طاقت تھا، آج وہی ہمارے اپنے گلی کوچوں میں دہشت پھیلانے کا ذریعہ ہے۔
افغان جہاد کے بعد جب امریکہ نے یکایک اس خطے سے اپنی توجہ ہٹائی، تو ہزاروں تربیت یافتہ جنگجو بے کار ہو گئے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کی رگوں میں جہاد کا خون دوڑتا تھا، مگر انہیں کوئی راہ نہ ملی۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے نئی تنظیموں نے جنم لیا، اور پھر وہی عمل دہرایا گیا جو پہلے بھی ہو چکا تھا۔ ۹۰ کی دہائی میں جب طالبان کا ظہور ہوا تو ہم نے انہیں اپنا سمجھا، ان کی سرپرستی کی، اور انہیں ریاستی تسلیم عطا کی۔ مگر اس دوستی کا انجام کیا ہوا؟ وہی طالبان جو کبھی ہمارے مہمان تھے، آج ہماری سرزمین پر اپنے دہشت گرد نیٹ ورک بنا چکے ہیں اور ہماری ریاست کو اپنا مرکزی دشمن قرار دے چکے ہیں۔
یہاں ایک اہم فلسفیانہ سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ہم اس حقیقت سے غافل تھے کہ جو ہتھیار ہم نے دوسروں کے خلاف استعمال کیا، وہی ہماری طرف پلٹ کر آئے گا؟ شاید ہم نے اپنے مفاد کی خاطر اس حقیقت کو نظر انداز کیا، یا ہم نے یہ سمجھا کہ ہم اس جنگ کے نتائج سے محفوظ رہیں گے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ کوئی قوم اپنے اعمال کے نتائج سے بچ نہیں سکتی۔ جیسا کہ شاعر نے کہا:
بت اپنے ہاتھوں سے توڑے تو عیب نہیں
مگر بت تراشوں کا یہ فریضہ بھی تو ہے
۹/۱۱ کا المیہ اس سلسلے کا ایک اہم موڑ تھا۔ اس واقعے نے عالمی برادری کو دہشت گردی کے خلاف جنگ پر اکٹھا کر دیا، مگر اس کا سب سے بڑا نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑا۔ ہم نے امریکہ کے ساتھ مل کر اس جنگ میں حصہ لیا، اور اس کے نتیجے میں ہماری اپنی سرزمین دہشت گردی کا میدان بن گئی۔ ہمارے شہر، ہمارے اسکول، ہماری مساجد، اور ہماری فوج سب اس جنگ کی زد میں آ گئے۔ آرمی پبلک اسکول کا سانحہ اس بات کی بین دلیل ہے کہ دہشت گردی کا یہ عفریت کسی مذہب، کسی قوم، اور کسی علاقے کا پابند نہیں رہا۔ اس نے ہمارے بچوں کو نشانہ بنایا، ہمارے مستقبل کو تباہ کیا، اور ہماری قوم کو ایک ناقابل فراموش المیے سے دوچار کیا۔
اس المیے کے بعد قومی ایکشن پلان کا تصور پیش آیا، اور کچھ عرصے کے لیے ایسا محسوس ہوا کہ ہم اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ چکے ہیں۔ مگر افسوس کہ اس پلان کا نفاذ آدھے راستے پر رک گیا، اور دہشت گردی نے اپنے پرانے نیٹ ورک کو ازسرِ نو منظم کر لیا۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ بلوچستان میں صورتحال دن بہ دن سنگین ہوتی جا رہی ہے، خیبر پختونخوا میں حملوں کا سلسلہ جاری ہے، اور پنجاب و اسلام آباد بھی خودکش حملوں سے محفوظ نہیں رہے۔
یہاں ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس صورتحال کے اسباب اور محرکات کو سمجھا؟ دہشت گردی محض ایک فوجی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک نفسیاتی، معاشی، اور فکری بحران ہے۔ یہ اس وقت جنم لیتی ہے جب معاشرے کے کسی طبقے کو انصاف نہیں ملتا، جب تعلیم کا فقدان ہو، جب غربت اور بے روزگاری اپنے عروج پر ہو، اور جب کسی کو اپنی آواز اٹھانے کے لیے کوئی راستہ نہ ملے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صرف فوجی کارروائیاں کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ایک ایسا فکری و نظریاتی محاذ بھی درکار ہے جو اس کے بیانیے کا مقابلہ کر سکے۔
قرآن مجید نے ہمیں "وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا” (آل عمران: ۱۰۳) کا حکم دیا ہے، یعنی تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور پھوٹ نہ ڈالو۔ مگر افسوس کہ ہم نے اپنی سیاسی و فکری قیادت میں پھوٹ ڈالی، اور اس پھوٹ نے دہشت گردوں کو ہمارے خلاف ہتھیار فراہم کیا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی تمام تر سیاسی و فکری قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر لا کھڑا کریں، اور ایک نیا، جامع، اور قابل عمل نیشنل ایکشن پلان تیار کریں جو صرف فوجی کارروائیوں تک محدود نہ ہو بلکہ معاشی اصلاحات، تعلیم، اور نظریاتی تربیت کو بھی اپنا حصہ بنائے۔
اسی طرح بلوچستان کا مسئلہ بھی اسی نوعیت کا ہے۔ یہ مسئلہ محض علیحدگی پسندی نہیں بلکہ یہ معاشی تفاوت، سیاسی بے چارگی، اور تاریخی مظالم کا نتیجہ ہے۔ اس کے حل کے لیے ایک قومی کانفرنس کی اشد ضرورت ہے جس میں حکومت، اپوزیشن، اور سول سوسائٹی کے نمائندے شریک ہوں تاکہ اس مسئلے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے اور اس کا ایک پائیدار حل تلاش کیا جا سکے۔
ہمیں اپنے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہوگا، اور یہ سمجھنا ہوگا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم اکیلے نہیں ہیں، اور نہ ہی یہ جنگ کسی ایک ادارے کی ذمہ داری ہے۔ یہ جنگ ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے، اور اس کے لیے ایک ایسی قومی بیانیہ کی ضرورت ہے جو ہمیں ایک پلیٹ فارم پر جمع کر سکے۔ جیسا کہ شاعر نے کہا:
ہم نے جو کیا ہے، اس کا حساب نہیں
جو ہم کو کرنا ہے، اس کا خیال کریں
آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دہشت گردی کا یہ عفریت ہماری اپنی کمزوریوں کا آئینہ ہے۔ جب تک ہم اپنی سیاسی و فکری قیادت کو متحد نہیں کریں گے، جب تک ہم اپنے معاشرے کو تعلیم اور انصاف کی روشنی سے منور نہیں کریں گے، اور جب تک ہم اپنے نوجوانوں کو ایک مثبت اور ترقی پسندانہ بیانیہ فراہم نہیں کریں گے، اس عفریت کا خاتمہ ممکن نہیں۔ وقت ہے کہ ہم اپنے ماضی کا احتساب کریں، اپنے حال کا جائزہ لیں، اور اپنے مستقبل کو ایک روشن اور پرامن راہ پر گامزن کریں۔ "إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ” (الرعد: ۱۱) یعنی اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے۔