پٹواریو، ہوش کے ناخن لو

لو جی۔۔۔ اب یہی کسر رہ گئی تھی، ان پٹواریوں نے لندن میں ہمارے کپتان کی پہلی (سابقہ) بیوی کے گھر کے سامنے مظاہرہ کر دیا۔۔ کیا سوچتی ہوں گی اپنی جمائمہ بھابھی، یہ کیسے ان پڑھ اور جاہل لوگ ہیں جو عمران خان کے خلاف مظاہرہ کر نے پہنچ گئے۔

ہم نے تو مظاہرہ کیا تھا شرافت کے ساتھ گو نواز گو کے نعرے لگائے، چند گالیاں دیں۔۔ بس۔۔ اس سے پہلے امریکہ میں آپ کو یاد ہوگا ایک طرف سکھ اور کشمیری مظاہرہ کر رہے تھے بھارتی وزیر اعظم کے خلاف تو ہم نے ایک شاندار احتجا ج کیا اپنے وزیر اعظم کے خلاف۔۔ اس احتجاج کی کامیابی کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ وہاں انڈین ہائی کمیشن کے لوگ ہمارے ورکرز کو شاباشی دے رہا تھے۔اسی طرح ہم نے اپنی روایت قائم رکھتے ہوئے پھرلندن میں تخت لاہور والوں کے خلاف مظاہرہ کیا ۔۔ زیادہ سے زیادہ ہم انہیں گنجا کہتے ہیں، پٹواری کہتے ہیں، گو نواز گو کے نعرے لگاتے ہیں، گالیاں دیتے ہیں ، ان بدتمیزوں کو دیکھئے خاموش احتجاج کر رہے تھے۔

مجھے کہنے دیجئے، میں ضرور کہوں گا کہ جمائمہ خان کے گھر کے باہر ہونے والے ن لیگ کے بدتمیز ورکروں کے مظاہرے سے انسانی حقوق کی شدید پامالی ہوئی ہے۔۔۔ دیکھیں ناں۔۔ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ ہم لوگ تو پڑھے لکھے لوگ ہیں مظاہرہ کرتے ہیں تو زیادہ گالیاں انگریزی اور اردو میں دیتے ہیں۔۔ اس سے کسی کو کیا فرق پڑسکتا ہے اور ان پٹواریوں کو دیکھیں انہوں نے ایک گالی بھی نہیں دی۔

گالی دیں بھی تو کیسے؟ ہمارے کپتان نے ایسا کیا ہی کیا ہے۔۔ جس پر انگلی اٹھ سکے۔۔ ہم تو شرافت کے ساتھ دیکھئے روز آتے تھے اسلام آباد کے ڈی چوک میں میاں برادران کے خلاف تقریریں کرتے تھے، گالیاں دیتے تھے، سوشل میڈیا کے علاوہ ہم نے وہاں سب جگہ بینرز بھی لگائے تھے ان کے خلاف۔۔۔ کوئی ایک پتہ بھی نہیں ٹوٹا تھا۔۔ بس ہم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے بورڈ میں کچھ ترامیم کی تھیں، پارلیمنٹ ہاؤس کا جنگلا توڑا تھا، پی ٹی وی میں گھس کر توڑ پھوڑ کی ، کیمرے چرائے تھے۔۔ اس کے علاوہ سڑکوں پر پولیس والوں کی دھنائی کی تھی۔۔۔ بس ۔۔ اس سے زیادہ ہم نے کبھی کچھ نہیں کیا۔۔ پھر بھی یہ لوگ ہمیں بدمعاش اور ہمارے کپتان کو ڈکٹیٹر کہتے ہیں، اسے ہٹلر کہتے ہیں، ہے ناں ان کی پٹواری سوچ۔۔
مجھے تو ہنسی آتی ہے ان لوگوں پر کتنے جاہل ہیں، ان کا لیڈر کہتا ہے کوئی عمران خان کی دوسری شادی کے ختم ہونے پر کوئی بیان نہیں دے گا۔۔ اور یہ سارے پٹواری خاموش بیٹھے رہتے ہیں۔۔ ہم مریم نواز ، حسن اور حسین نواز کو گالیاں دیتے ہیں مگر یہ لوگ۔۔ دم سادھے پڑے رہتے ہیں۔۔ کرپٹ لوگ ہیں ناں، اس لیے انہیں معلوم ہے کہ کپتان کے کھلاڑیوں میں جنون ہے،ان سے ڈرتے ہیں۔۔

ہم تو بھائی ۔۔ سیدھی سی بات ہے، مریم نواز ہو یا آصفہ بھٹو۔۔ بلاول بھٹو ہو یا پھر حسن نواز، زرداری ہو یا نواز شریف ، ان سب کے خلاف احتجاج کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے ۔۔ کوئی ہمیں روک کر دکھائے۔۔ ہم ٹانگیں توڑ دیں گے۔۔ لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ ان لوگوں نے ہماری معصوم سی سابقہ بھابھی جمائمہ کے گھر کے باہر احتجاج کیا۔ کوئی وجہ ہے اس کی؟ آخر سیاست ہمارے لیڈر کا جرم کیوں بن گئی ہے؟ کیوں اس کی فیملی کو اس میں گھسیٹا جا رہا ہے؟ گھر والوں کا کیا قصور ہوتا ہے؟

کتنا روئے ہوں گے ہمارے کپتان اس واقعہ پر۔۔ ہے بھی تو بات رونے کی۔۔ دیکھئے ناں۔ کپتان خان کے سابقہ سالے کو خود کپتان نے میئر آف لندن کا الیکشن لڑنے پر تیار کیا۔۔ کیونکہ مقابلے میں ایک پاکستانی نژاد شخص میئر کا امیدوار تھا۔۔ ہم بھی دیکھیں گے کس طرح جیتتا ہے وہ پاکستانی نژاد مسلمان برطانوی شہری۔۔ جب کپتان نے کہہ کر خود ایک یہودی کو کھڑا کیا ہے الیکشن میں تو ہم اسے جتوائیں گے۔۔ کیسے کوئی مسلمان یہ جراء ت کر سکتا ہے کہ وہ میئر بنے لندن کا۔۔ لیکن اتنا بتا دیں آئندہ اگر کسی نے جمائمہ بھابھی کے گھر کے سامنے مظاہرہ کیا ناں۔۔ تو دیکھ لینا ۔۔۔ پہلے تو ہمیں کم آتی تھیں اب مولویوں نے اپنے دھرنے میں جو گالیاں سکھائی ہیں ۔۔ وہ دیں گے تو تم سب پٹواریوں کے ہوش ٹھکانے آ جائیں گے۔ہمت ہو تو دوبارہ جمع ہو کے دکھاؤ۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے