اجڑے جزیرے میرے شہر کے

حیدری مارکیٹ سے خریداری کرکے میں رکشہ کے انتظار میں کھڑی تھی کہ اچانک میری نظر ایک اداس سے بچے پر جا کے ٹہر گئی۔ جو فٹ پاتھ پراداس بیٹھا سڑک کےپار خالی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ایسا لگتا تھا جیسے اس کا کوئی کھو گیا ہو۔ اس کی اداسی اور پریشانی محسوس کرتے ہوئے میں نے اپنے قدم اس کی طرف بڑھائے اور میں اس سے اداسی کی وجہ پوچھے بنا نہیں رہ سکی۔ جس پراس نے کہا ” آنٹی ، میں اس پارک میں اپنے امی ابو اور بہن کے ساتھ کھیلنے آتا تھا ، اب یہ بڑی بڑی مشینیں اس کو توڑ کر پتہ نہیں یہاں کیا بنا رہے ہیں۔ بچے کے معصومانہ جواب نےمجھے نظر اٹھا کردیکھنے پرمجبور کر دیا ا ور مجھے محسوس ہوا کہ واقعی جہاں پیڑوں کی قطاریں تھیں جن کے پاردیکھنا ممکن نہ تھا ۔۔وہ تو سب اب ناپید تھے اور ان سب درختوں میں گھرا ایک خوبصورت پارک بھی تھا ۔ جس کا اب کوئی نشان نظر نہیں آ رہا تھا ۔ اب دوردورتک ٹوٹا، روڑے پتھرسے بھرا تعمیراتی کام ہوتا نظرآرہا تھا۔ اس بنجر، ریتیلے منظر نے مجھے اند سے سہما دیا۔ یہ میرا شہر تھا ، میرا کراچی تھا ،جہاں ہم نے بچپن گذارا ، جسکی گلیوں میں پل کر اور پارکوں میں کھیل کر ہم جوان ہوئے۔۔۔ جہاں درخت ، پارک، گرین بیلٹ کا اب کوئی وجود نہیں اور ان کی جگہ کنکریٹ کے ان کمرشل محلات نے لے لی ہے ۔ جسے عرف عام میں شاپنگ پلازہ کہا جاتا ہے ۔ میرے شہر سے درخت کیا ختم ہوئے ، کہ بھولے بھٹکے بادل بھی ہم سے روٹھ گئے ۔بارشوں نے منہ موڑ لیا اور ہیٹ اسٹروک جیسے شیطانی موسم نے میرے شہر پر تاتاریوں کی طرح یلغار کردی ہے ۔ کہ اب فروری میں بھی اس شہر میں اے سی کے بغیر گذارہ نہیں ۔ کمرشل ازم نے ہمارے درخت اور پارک اجاڑ دئےاور بے ہنگم تعمیرات نے ہم سے ہمارے موسم بھی چھین لئے ۔

شہر کے بڑے بوڑھے بتاتے ہیں کہ ہم پرائمری کی کتابوں میں ایک سبق پڑھتے تھے کراچی کی طوفانی بارشیں ۔ اور واقعی اس زمانے میں کراچی میں خوب بارشیں ہوتی تھیں ۔ جسکی وجہ شہر کے ارد گرد گھنے جنگلات تھے ۔ مگر یہ سب اب خواب و خیال کی باتیں ہیں ۔

آئی-یو-سی-این (انٹرنیشنل یونین فور کنزرویشن آف نیچر) کی رپورٹ کے مطابق ۱۹۴۷ میں کراچی کے کل رقبے کا ۱۸فیصدمختلف قسم کے شہری جنگلات پر مشتمل تھا۔ جو علاقائی درختوں پر مشتمل تھے ۔

۱۹۵۰ میں ملیرندی اور لیاری کے اطراف میں جنگل اور کھیت جگہ جگہ نظرآتے تھے۔ اس کے علاوہ ڈملوٹی ، کاٹھوڑ، کونکر اور گڈاپ کے علاقے میں بھی خوب ہریالی نظر آتی تھی۔بندر روڈ سے لے کر ناظم آباد اور نارتھ ناظم آباد تک نیم اورچنارکے۸۰ سال بوڑھے درختوں سے ڈحکی یہ سڑکیں اور انکے گرد گرین بیلٹس ان کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی تھی۔
۲۰۰۸ میں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی کے مطابق یہ تعداد گھٹ کر ۷ فیصد رہ گئی۔ ۲۰۱۵ کی رات کے اندھیرے میں کراچی میونسپل کارپوریشن کے عملے نے کراچی پریس کلب کے قریب سر غلام حسین ہدایت اللہ روڈ پر موجود ۲۵۰ سال پرانا برگد کا درخت چند منٹوں میں کاٹ ڈالا۔یہ ظلم فروری کے مہینے میں ہوا جب شہر میں بہار کی آمد آمد ہوتی ہے۔ اور منصوبہ بندی کے ساتھ نت نئے پودے لگائے جاتے ہیں ۔بجائے اس کے کہ عوامی محکموں کے ذمہ دار شہر میں نئے درخت اور پودےلگاتے، انہوں نے شہر کےپرانے تاریخی درختوں کا قتل عام شروع کرا دیا۔

مینگرووزکے جنگلات جو کسی شہر کے لیے پھیپڑوں کاکام کرتے ہیں،ماہرین کے مطابق یہ ساحلی شہروں کے لیے سمندری طوفان کے آگے دیوار بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔۱۲۹ کلومیٹرلمبی کراچی کی ساحلی پٹی پراگے یہ قدرتی مینگروز کے جنگلات بھی تباہی کے دہانے پر ہیں۔ان میں سے زیادہ تر ختم ہو چکے ہیں۔۔۔۔۔۔ ایک طرف سمندری آلودگی، اور صنعتی فضلات نے جہاں انہیں نقصان پہنچایا وہیں دوسری جانب اس کی لکڑی کو استعمال میں لانے کے لیے یا تجارتی مقاصد کے لیے زمین حاصل کرنے کے لیے انہیں بڑے پیمانے پر کاٹا جانے لگا جس کی وجہ سے یہ مینگروز اب معدومی کے خطرے سے دو چار ہیں۔

آئی-یو-سی-این "انٹرنیشنل یونین فور کنزرویشن آف نیچر” کی ۲۰۱۵ کی رپورٹ کے مطابق شہر کراچی میں اب ان جنگلات اور قدرت کے عطیے کی شرح ۱-۲ فیصد رہ گئی ہے جوہر عام و خاص کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

سابق سٹی ناظم مصطفی کمال نے اپنے دورِحکومت میں 8.34 ارب روپے کا تخمیہ صرف کراچی کی گمشدہ ہریالی کو واپس لانے کے لیےلگایا تھا کہ اس وقت کے ۷فیصد درختوں کو اگلے ۱۰ سالوں میں بڑھا کر ۱۴فیصد تک لے جا سکیں ، ان میں نیم، پیپل، امل تاس، ناریل، بادام،گل موہر ، پام کے درختوں کی شجر کاری کا منصوبہ شامل تھا۔ مگر افسوس صدافسوس ہمیشہ کی طرح یہ ایک خیالی پلاو ء ہی رہا اور جیسے ہی مصطفیٰ کمال نظامت سے گئے ، یہ منصوبہ بھی ہمیشہ کی طرح فائلوں کے سرخ فیتے کا شکار ہو گیا ۔ بین الاقوامی اصولوں کے تحت ہرشہر اورگاوں کے کل رقبے پر کم از کم ۲۵فیصد درخت اورپودے ہونے چاہیں ۔ جبکہ حالت زار یہ ہے کہ اس وقت پورے ملک میں 4.5فیصد جنگلات ہیں اور کراچی میں یہ شرح ۲-۳ فیصد۔{آئی یو سی این کی رپورٹ}

اور گنجے کراچی کی بھیانک تعبیر ۲۰۱۶میں اس وقت سامنے آئی جب شہر کی شیر شاہ سوری روڈجو کراچی کی ان چند سڑکوں میں سے ہےجس پر اونچے، گھنے ،سایہ دار درختوں کی لمبی قطاریں تھیں۔ وہ سارے درخت ، آج یعنی مئی ۲۰۱۶سے میٹرو بس کی نذر ہو گئے۔ہمارے ماحول کو پاک صاف رکھنے والے،آلودہ فضا میں ہمیں آکسیجن پہنچانے والے ان رکھوالوں کو برسہا برس کی انسانی خدمت کا یہی صلہ ملنا چاہیے تھا جو اس ملک اوراس شہرمیں ہر مخلص کو ملتا ہے۔ہر اس جاندار کا نام صفحہ ہستی سے مٹا دینا ہی اس شہر کا شیوہ ہےجسکی مرہون منت یہاں کا سماج سانس لیتا ہے ۔

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا اور اہم تجارتی مرکز ہے ، جس کے پھیلاو کو روکنا نا ممکن سا ہو چکا ہے ، اب دنیا کا پانچواں آلودہ ترین شہر بن چکا ہے۔ بغیر منصوبہ بندی کے کنکریٹ کی دیو قامت بلڈنگوں اورڈھانچوں سے دل نہیں بھرا کہ اب مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے بچی کھچی ہریالی کو بھی مٹایا جا رہا ہے۔ اس شہر کے ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیےجہاں مزید ہریالی اور قدرتی ماحول کی اشد ضرورت ہے ۔۔جہاں نہ صرف بلدیاتی نظام درہم برہم ہے بلکہ شہر کی ہریالی کے ذمہ دار یہی محکمے کسی نہ کسی بہانے سے ۔۔۔ کبھی اشتہاری بورڈلگانے کے لیے، تو کبھی فٹ پاتھ کی مرمت کے بہانےاور کبھی بجلی کی تاروں کو بچانے کے لیے ، آئے دن درختوں کا صفایا کرنے میں مصروف نظرآتے ہیں۔ کیایہ منصوبے ان درختوں کو بچاتے ہوئے پورے نہیں کیے جا سکتے تھے یا ان منصوبوں میں شجر کاری کے منصوبے شامل نہیں کیے جا سکتے تھے ۔ میں حیران ہوں کہ منصوبہ سازوں نے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور گرین بیلٹ پر ہونے والے اثرات کی اسٹڈی کو منصوبے میں شامل کیوں نہیں کیا ۔ اس جرم میں ان منصوبہ سازوں کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہئیے۔

ان نام نہاد منصوبہ سازوں کو کم از کم سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات جیسے صحرائی ممالک سے کچھ سیکھنا چاہیے تھا جن کا دنیا کے گرم ترین خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ مگر آج جدید اور سادہ ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ ملک گرم علاقوں کے پیڑ پودوں {جیسے کھجور کے درخت}کے علاوہ سخت جان درختوں کی شجر کاری میں بھی کامیاب ہیں۔ جہاں سڑک پر سفر کرتے ہوئے احساس نہیں ہوتا کہ ہم زمین کےایک بڑے صحرائی علاقے میں گھوم رہے ہیں۔جہاں سالوں بارشیں نہیں ہوتی تھیں ، اب وہاں سال کے زیادہ تر مہینوں میں برکھا رت کا سماں گذرتا ہے اور مینہ کھل کربرستاہے۔ اس کے برعکس کراچی کی انتظامیہ کی بے حسی کو چھوتی بد عنوانی ۔۔۔اس شہر کے باسی ہی بھگت رہے ہیں۔ بارش کی شدید قلت اور ہرقسم کی فضائی آلودگی کی وجہ سے یہ شہر بیماریوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ سپارکو کی ایک رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی کی وجہ سے کراچی کے شہریوں میں بڑے پیمانے پر کینسر پھیل رہا ہے ۔ نیز ھارٹیکلچرڈیپارٹمنٹ کے غلط فیصلوں ۔۔۔ یعنی غلط جگہوں پر غلط پودے اور درخت لگانا اورپھر ان کو کاٹ دینا ، بھی نقصاندہ ثابت ہوا ہے۔اب ایک ہی قسم کے جھاڑی نما چھوٹے درخت ” کونوکارپس” ہی سڑکوں پرنظر آتے ہیں۔ یہ درخت اتنے چھوٹے ہیں کہ پرندے اپنے گھونسلے ان پر نہیں بنا سکتے۔۔ پرندوں کا ہربار مختلف قسم کے درختوں پر گھونسلے بنانا بھی انکی فطرت میں شامل ہے۔یہی وجہ ہے کہ کراچی سےمختلف انواع کے پرندے دوسرے شہروں کو کوچ کر رہے ہیں۔ اور میرے شہر کے بچے چڑیوں کی چہہچہاہٹ سننے کو بھی ترس گئے ہیں ۔ اور بہت تیزی کے ساتھ نہ صرف کراچی کا حسن ماند پڑ رہا ہے بلکہ نباتاتی و حیاتیاتی زندگی ختم ہوتی جا رہی ہے۔

اور اس بلاگ کو لکھتے ہوئے نہ جانے کیوں یہ سوچ میرے ذہن میں پختہ ہو گئی کہ رب کریم جو رزاق ہے ، اس نے چرند ، پرند ، انسان اور حیوان سب کو رزق دینا ہوتا ہے وہ بارش برسا کر گھنے جنگلوں میں موجود درختوں کےلئے ان کے رزق کا بندو بست کرتا ہے ، یہ بارش ان درختوں کا رزق ہے ۔۔اور فضا میں موجود بادل ان درختوں کا رزق لیکر آتے ہیں ۔ اور ہم نے درخت ہی ختم کر دئے تو اب ان کا رزق بادل کیوں کر لے کے آئینگے ، اور کیوں کر رب کائنات ہم گنہ گاروں پر مینہ برسائے گا ۔ہم بھول گئے کہ ان درختوں کے صدقے بارش کی چند بوندیں ہم پر بھی برس جایا کرتی تھیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے