میونخ: فائرنگ میں دس ہلاک، ’حملہ آور اکیلا تھا‘

جرمنی کے شہر میونخ میں حکام کے مطابق ایک شاپنگ سنٹر میں فائرنگ کے واقعے میں حملہ آور سمیت دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
جمعے کی شب ہونے والے حملے کے بارے میں میونخ پولیس کے سربراہ ہربرٹس آندرے نے ایک اخباری کانفرنس میں بتایا کہ حملہ آور 18 سالہ ایرانی نژاد جرمن تھا جو میونخ ہی کا شہری تھا اور پولیس کو اس کے بارے میں اس سے قبل معلومات نہیں تھیں۔

انھوں نے کہا کہ حملے میں حملہ آور سمیت کل دس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 21 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے تین کی حالت تشویش ناک ہے۔ہربرٹس آندرے کے مطابق حملہ آور کی لاش اولمپیا شاپنگ مال سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ملی ہے جبکہ اس حملے کے مقاصد کا قطعاً تعین نہیں ہو سکا۔ان کا کہنا تھا کہ کارروائی میں 2300 سے زائد پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا جن کی مدد کے لیے خصوصی دستے بھی موجود تھے۔

انھوں نے بتایا کہ شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ بحال کر دی گئی ہے۔پولیس نے اس سے قبل گاڑی میں فرار ہوتے ہوئے دو افراد کو بھی مشتبہ سمجھ لیا تھا لیکن اب اس کا خیال ہے کہ ایک ہی حملہ آور ملوث تھا۔میونخ پولیس نے لوگوں سے درخواست کی ہے کہ وہ حملے کی تحقیقات میں مدد دینے کے لیے تصاویر اور ویڈیو بھیجیں۔اس سے قبل پولیس نے کہا تھا کہ وہ پولیس کی کارروائی کی تصاویر شیئر نہ کریں، کیونکہ ان سے حملہ آوروں کو مدد مل سکتی ہے۔

ایک عینی شاہد لوان زیکیری نے کہا کہ فائرنگ کے وقت وہ جائے وقوعہ پر موجود تھے۔ انھوں نے جرمن ٹیلی ویژن این ٹی وی کو بتایا کہ حملہ آور نے غیرملکیوں کو گالی دی۔ زیکیری نے کہا کہ انھوں نے صرف ایک حملہ آور دیکھا، جو بوٹ پہنے ہوئے تھا اور اس کی کمر پر بیگ تھا۔ انھوں نے کہا کہ حملہ آور نے دو افراد کو سیڑھیوں پر گولی ماری۔ زیکیری ایک دکان میں چھپ گئے اور جب خطرہ ٹلا تب باہر بھاگ نکلے۔ انھوں نے راستے میں لاشیں اور زخمی دیکھے۔

ایک اور عینی شاہد ڈومینیک فاؤسٹ نے بی بی سی ورلڈ کو بتایا: ’دو گھنٹے پہلے لوگ چیختے ہوئے شاپنگ مال سے باہر نکلنے لگے۔ انھوں نے ہمیں بتایا کہ اندر فائرنگ ہو رہی ہے اور سکیورٹی حکام نے دروازے بند کر دیے ہیں اور اندر موجود لوگوں سے کہا کہ وہ پانچویں منزل پر چلے جائیں۔’اس میں وہیں ہوں اور یہاں ڈیڑھ سو کے قریب لوگ موجود ہیں۔ ہمیں کہا گیا ہے کہ عمارت سے باہر نہ نکلیں۔‘

امریکی صدر براک اوباما نے ایک بیان میں میونخ حملے کے متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے .اس واقعے کے ردعمل میں جرمنی کے صدر یوآخیم گاؤک نے کہا ہے کہ انھیں اس واقعے سے شدید صدمہ پہنچا ہے۔ ایک بیان میں صدر گاؤک نے کہا: میرے جذبات تمام متاثرین اور ان کے عزیزوں کے ساتھ ہیں۔‘انھوں نے ہنگامی خدمات انجام دینے والے عملے کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار کیا جو ’لوگوں کی مدد کر رہے ہیں اور ان کی جانیں بچا رہے ہیں۔‘

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے چیف آف سٹاف پیٹر آلٹمائر نے جرمن ٹیلیویژن آے آر ڈی سے بات کرتے ہوئے سے کہا کہ اس حملے میں دہشت گردی کے پہلو کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا: ’ہم کسی امکان کو رد نہیں کر رہے۔ میں بواریا (صوبہ جہاں میونخ واقع ہے) کے وزیرِ داخلہ سے سہ پہر اور شام بھر رابطے میں رہا ہوں۔ چانسلر کو ہمہ وقت آگاہ رکھا جا رہا ہے، اور اب تک ہم جو جانتے ہیں اس کے مطابق یہ غیرانسانی اور ظالمانہ حملہ تھا۔’ہماری نیک تمنائیں حملے کے متاثرین کے ساتھ ہیں۔ ہم دہشت گردی کے تعلق کو خارج از امکان قرار نہیں دے رہے، ہم اس کی تصدیق نہیں کر سکتے لیکن ہم ہر پہلو پر تفتیش کر رہے ہیں۔‘

امریکی صدر براک اوباما نے ایک بیان میں میونخ حملے کے متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ’جرمنی ہمارے قریب ترین ساتھیوں میں سے ایک ہے، اس لیے ہم اسے ان حالات سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن مدد کا وعدہ کرتے ہیں۔‘

امریکہ میں ڈیموکریٹ پارٹی کی جانب سے متوقع صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ وہ جرمنی کے عوام کے ساتھ ہیں: ’میں میونخ کی ہولناک صورتِ حال کا جائزہ لے رہی ہوں۔ ہم جرمنی میں اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑے ہیں جو ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے تک لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے