قائم علی شاہ پر قیامت ، 12 سالہ اقتدار کا سورج غروب

پیپلزپارٹی کا وزیراعلیٰ سندھ کی تبدیلی کا اعلان

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے سندھ میں وزیراعلیٰ سمیت صوبائی کابینہ میں تبدیلیوں کا اعلان کردیا۔

پیپلز پارٹی کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ خان بابر نے ایک جاری بیان میں کہا ہے کہ دبئی میں پارٹی قیادت نے ایک اجلاس کے دوران سندھ میں نیا وزیراعلیٰ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مذکورہ اجلاس طلب کیا تھا۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے علاوہ پارٹی کی دیگر اعلیٰ قیادت بھی موجود تھی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی رواں ہفتے کے آغاز میں دبئی سے کراچی آمد متوقع ہے، جہاں وہ سندھ کی نئی کابینہ کے ناموں کو حتمی شکل دینے سے قبل پارٹی کی صوبائی قیادت اور صوبائی وزراء سے ملاقاتیں کریں گے۔

یاد رہے کہ قائم علی شاہ 3 مرتبہ وزیراعلیٰ سندھ کے منصب پر فائز رہ چکے ہیں اور وہ 1988، 2008 اور 2013 کے عام انتخابات کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے۔

رپورٹس کے مطابق وزیر اعلیٰ کے استعفے کے ساتھ ہی سندھ کابینہ بھی تحلیل ہو جائے گی، جس کے بعد کابینہ میں نئے چہرے بهی سامنے آنے کے امکانات ظاہر کیے جارہے ہیں۔

نئے وزیراعلیٰ کے لیے میڈیا میں کئی نام گردش کرتے رہے ہیں، جن میں نثار کھوڑو، آغا سراج درانی اور مراد علی شاہ شامل ہیں، جبکہ مراد علی شاہ کے وزیراعلیٰ بننے کا قومی امکان ظاہر کیا جارہا تھا.

خیال رہے کہ دبئی جانے سے قبل سندھ میں رینجرز کے اختیارات کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار سے ملاقات بھی کی تھی۔

سنده حکومت کی جانب سے ہر 3 ماہ بعد رینجرز کے اختیارات میں اضافہ ہوتا رہا ہے، لیکن گزشتہ برس اگست میں صوبائی حکومت نے اس وقت اختیارات میں توسیع پر پس و پیش سے کام لیا جب سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین اور آصف علی زرداری ڈاکٹر عاصم حسین کو اجلاس سے گرفتار کیا گیا، ڈاکٹر عاصم تاحال سیکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہیں جبکہ ان کے خلاف کئی مقدمات کی تفتیش جاری ہے۔

دوسری جانب کور کمانڈر کراچی اور وزیر اعلیٰ سندھ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات پر سمجھوتہ ہوچکا ہے کہ رینجرز اندرون سندھ صرف سنگین جرائم میں ملوث افراد اور دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرے گی اور وزیر اعلیٰ سندھ اور فریال تالپور اس پر آصف زرداری کی رضامندی حاصل کرنے گئے ہیں۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ رینجرز کو پورے سندھ میں اختیارات دینے کیلئے نئی سمری کی ضرورت ہوگی اور اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت بعض شرائط کے ساتھ اس کی بھی منظوری دے دے۔

یہ بھی یاد رہے کہ سندھ حکومت اور رینجرز کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال کے قریبی ساتھی اسد کھرل نے جمعرات کو خود کو حیدرآباد کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) کے حوالے کردیا تھا، جس کے بعد انہیں رینجرز کی تحویل میں دے دیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق اسد کھرل نے صوبائی وزیر داخلہ کی وجہ سے خود کو تین روز قبل لطیف آباد پولیس کے حوالے کیا تھا جس کے بعد ایس ایس پی عرفان بلوچ نے انہیں رینجرز کے سنیئر آفسر کے حوالے کردیا، اس وقت وہ نیم فوجی فورس کی حراست میں ہیں۔

واضح رہے کہ اسد کھرل کا نام اس وقت سامنے آیا جب لاڑکانہ میں ایک مشتبہ شخص سے تفتیش کے دوران رینجرز نے دعویٰ کیا کہ انہیں ‘بااثر شخصیات’ کی جانب سے مداخلت کا سامنا کرنا پڑا, اسد کھرل کو منگل کی رات رینجرز اہلکاروں نے لاڑکانہ کے ماسن روڈ کے علاقے سے تحویل میں لیا اور سول لائنز پولیس اسٹیشن لے گئے۔

پولیس اسٹیشن میں رینجرز اہلکار نے کچھ دیر تک اسد کھرل سے تفتیش کی تاہم صورتحال اس وقت ڈرامائی ہوگئی تھی جب پیپلز پارٹی کی بااثر شخصیات سے بحث کے بعد رینجرز کو اسد کھرل کو چھوڑنا پڑا۔

بعد ازاں نیم فوجی فورس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسد کھرل کے بااثر ساتھیوں نے تفتیش کے دوران مداخلت کی اور رینجرز کے کام میں رکاوٹ ڈالی۔

رینجرز کے مطابق اسد کھرل پر سنگین جرائم میں ملوث کم سے کم 12 ملزمان کو سہولت فراہم کرنے کا الزام ہے جن میں سے 8 کے سر پر حکومت نے انعام مقرر کررکھا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے