چودھری نثار علی خان جیل سپرنٹنڈنٹ

نیو یارک میں گزرے ماہ سال کے واقعات میری یادوں پر نقش ہیں لیکن ایک واقعہ آج مجھے پھر یاد آگیا ۔

میں کوئینز بورو میں جمیکا ایونیو پر رہتا تھا ۔ میری ساتھ والی گلی میں اس وقت کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک کے قریبی عزیز بھی رہائش پزیرتھے جن سے گاہے بگاہے ملاقات ہوتی رہتی تھی ۔ایک بار مجھے ان کی ایک عزیزہ نے بڑا دلچسپ واقعہ سنایا کہ اس بار جب وہ پاکستان گئیں تو اپنے ساتھ اپنے بڑے بیٹے کو بھی لے گئیں جو ہائی سکول کا طالب علم تھا اور کم و بیش دس سال بعد پاکستان جا رہا تھا ۔اسلام آباد ائیر پورٹ پر انھیں سرکاری پروٹو کول کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا۔ وہ الصبح جب رحمٰن ملک کے گھر پہنچیں تو وہ ابھی نیند سے بیدار نہیں ہوئے تھے ۔ دو گھنٹے بعد ان کا بڑا بیٹا جو پہلی بار پاکستان آیا تھا انھیں رحمٰن ملک کی خواب گاہ میں بھیجا گیاکہ جاکر ماموں کو جگاؤ۔ جیسے ہی نوجوان اندر گیا اور انھیں جگانے کی کوشش کی تورحمٰن ملک ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھے اور زور زور سے چلانے لگے دہشت گرد ، دہشت گرد ،میرے کمرے میں کیسے گھس آیا اور مدد کے لئے پکارنے لگے ۔اسی اثنا میں باقی گھر والے اندر آئے اور انھیں بتایا کہ یہ دہشت گرد نہیں بلکہ آپ کا بھانجا ہے جو آج صبح ہی امریکہ سے آیا ہے ۔

یہ واقعہ آج دوبارہ اس لئے یاد آ گیا کہ آفس آتے ہوئے ایک برگ شخص جو میری ساتھ والی سیٹ پر تشریف فرما تھے میرے ساتھ ایک اور سواری سے پوچھ رہے تھے کہ کیا یہ گاڑی سیکرٹریٹ جائے گی ؟انھوں نے کہا کہ جی بزرگو ، آگے سے انھوں نے کہا کہ وہ وزیر پانی و بجلی عابد شیر علی سے ملنے تیسری بار ان کے دفتر جا رہے ہیں لیکن ملاقات ہی نہیں ہوتی ۔انھوں نے پو چھا کہ آپ کیوں ملنا چاہتے ہیں ؟ جس پر بزرگ نے جواب دیا کہ میں تربیلہ سے آیا ہوں اور اپنے بیٹے کو نوکری دلوانا چاہتا ہوں ۔ پھر بزرگ کہنے لگے کہ پچھلی بار جب عابد شیر علی سے ملاقات نہیں ہوئی تو کسی نے ان سے کہا کہ وہ چودھری نثار سے مل لیں شاید وہ میرا کام کر دیں ۔ انھوں نے کہا کہ جب وہ سیکرٹریٹ میں استقبالیہ پر موجود لائن میں لگے اور اپنی باری آنے پر مدعا بیان کیا تو آگے سےجواب دیا گیا کہ سامنے شیشہ ہے اس میں اپنا منہ دیکھ کر آئیں ۔ سادہ لوح بزرگ نے سوچا کہ شاید میرے چہرے پر کچھ لگ گیا ہے ۔وہ شیشے کے پاس گئے اور اپنا بغور جائزہ لینے کے بعد پھر لائن میں لگ گئے ۔ اب جب استقبالیہ پر موجود شخص نے ان کو دوبارہ دیکھا تو کہا کہ تم گئے نہیں ۔ بزرگ نے جواب دیا کہ میں شیشہ دیکھ کر آیا ہوں ۔میرے چہرے پر کچھ نہیں لگا ہوا ۔ استقبالیہ کارکن نے کہاکہ میرا یہ مطلب نہیں تھا ۔ میرا مطلب تھا کہ اپنی شکل دیکھو کیا وزیر داخلہ تم سے ملے گا ۔ یہ جواب سن کر بزرگ کی حالت رونے والی ہو گئی ۔استقبالیہ پر موجود کارکن کو بزرگ پر ترس آگیا اور کہا کہ وہ سیڑھی ہے فلاں منزل پر وزیر داخلہ بیٹھتا ہے ۔کوئی پوچھے تو میرا نہیں بتانا کہ میں نے اجازت دی ہے ۔ بزرگ سیڑھیاں چڑھ کر وزیر داخلہ کے پی ایس کے پاس پہنچ گئے۔جیسے ہی انھوں نے بزرگ کو دیکھا تو ساتھ ہی کہا کہ تم اندر کیسےآگئے ؟فوراً سیکورٹی والوں کو بلا لیا کہ یہ دہشت گرد ہے اس کی تلاشی لو ۔ سیکورٹی والے بزرگ کو گھسیٹتے ہوئے لے گئے ۔کئی مشینوں سے تلاشی لی ۔بزرگ کہتا رہا کہ میں دہشت گرد نہیں میں تو اپنے بیٹے کی نوکری کی سفارش کرانے آیا تھا مگر اس کی ایک نہ سنی گئی۔ اسے استقبالیہ پر لا کر کہا گیا کہ اسے کس نے اوپر جانے کی اجازت دی تھی مگر بزرگ نے بات گول مول کر دی کہ وہ شخص اب سیٹ پر نہیں ہے ۔اس کے بعد اسے دھکے دے کر باہر نکال دیا گیا۔

میں سوچ رہا ہوں کہ ہمارے حکمران عوام سے کس قدر فاصلے پر جا چکے ہیں ۔ ایک وزیر داخلہ صاحب اپنے قریبی رشتہ دار کو پہچان نہ سکنے کہ وجہ سے اسے دہشت گرد قرار دے دیتے ہیں اور دوسرے وزیر داخلہ اس عام شخص کو دہشت گرد قرار دے کر باہر پھینکوا دیتے ہیں جو اپنی داد رسی کے لئے آیا تھا ۔جس ملک کے وزرائے داخلہ اس قدر عدم تحفظ کا شکار ہوں کہ انھیں ہر ان دیکھا شخص دہشت گرد لگےتو پھر اس کا ایک ہی حل ہے کہ 20 کروڑ عوام کو دہشت گرد قرار دے کر جیلوں میں ڈال دو ۔اس طرح اپنی جان بھی محفوظ رہے گی اور کوئی نوکری بھی نہیں مانگے گا ۔لیکن ایک بات تو میں بھول ہی گیا کہ جب ساری عوام ہی جیلوں میں ہو گی تو پھر وہاں پر وزیر داخلہ کی پوسٹ کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی ۔ وہاں تو صرف جیل سپرنٹنڈنٹ کی پوسٹ ہوتی ہے جسے اس لئے کوئی خطرہ نہیں ہوتا کہ وہاں سارے خطرناک لوگ سلاخوں کے پیچھے ہوتے ہیں ۔

اگر ہو سکے تو وزیر داخلہ صاحب بھی اپنے دفتر پر لگی اپنی نیم پلیٹ تبدیل کروا کر یہ کندہ کروا سکتے ہیں ۔

چوہدری نثار علی خان جیل سپرنٹنڈنٹ پاکستان ۔

کیونکہ پاکستان جیل ہی تو ہے جہاں ہر شہری کے ساتھ دہشت گردوں جیسا برتاؤ کیا جاتا ہے ۔جس طرح قیدیوں کے کوئی حقوق نہیں ہوتے اسی طرح شہریوں کے بھی کوئی حقوق نہیں ہیں ۔جو حق مانگے اسے دہشت گرد قرار دے کر جیل میں ڈال دو ۔اسی لئے تو یہاں کہا جاتا ہے ”پاکستان سے زندہ بھاگ“۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے