آزمائش،،ٹرمپ آخری مباحثہ بھی ہار گئے۔

آزمائش،،ٹرمپ آخری مباحثہ بھی ہار گئے۔

انہوں نے نوشتہ دیوار پڑھ لیا ہے۔ امریکی عوام کی اکثریت انہیں صدر بنانے کے لیے کم ازکم اس وقت تیار نہیں۔ انہوں نے امریکی معاشرے میں جو ہیجان برپا کیا تھا، وہ وبا نہیں بن سکا۔ اکثریت نے اس ہیجانی رو میں بہنے سے انکار کر دیا ہے۔ اب ان کی پوری کوشش ہے کہ وہ امریکی جمہوریت کو بے توقیر کریں۔ انتخابی نتائج کو دھاندلی زدہ قرار دینے کے لیے ابھی سے مہم کا آغاز ہو چکا۔ اس تازہ شکست کے بعد، جب ان سے پوچھاگیا کہ کیا وہ انتخابی نتائج کو قبول کرلیں گے، ان کا کہنا تھا: ”یہ میں وقت آنے پر بتاؤں گا۔ میں تجسس بر قرار رکھنا چاہتا ہوں‘‘۔

ان کی تاریخ یہ ہے کہ وہ ہار جائیں تو فیصلہ نہیں مانتے، یہ عوام کا ہو یا کسی عدالت کا۔ مو صوف ایک ٹی وی پروگرام کے میزبان رہ چکے ۔ ان کا خیال تھا کہ وہ سب سے اچھے میزبان ہیں،اس لیے ایوارڈ کے مستحق ہیں۔ ایمی ایوارڈز (Emmy Awards)کا اعلان ہوا تو حسبِ توقع ان کا نام کہیں نہیں تھا۔ کہا :”دھاندلی ہوئی ہے‘‘۔ آخری مباحثے میں بھی اس موقف پر قائم تھے۔ کہنے لگے:”ایوارڈ تو مجھے ہی ملنا چاہیے تھا‘‘۔

آج امریکا میں ٹرمپ کی وجہ سے تشویش پھیلی ہوئی ہے۔ زیادہ تشویش یہ نہیں کہ وہ جیت جائیں گے۔ تشویش یہ ہے کہ یہ صاحب ہارگئے تو کیا ہوگا؟ ان جیسا جنونی امریکی معاشرے کو کہاں لے جائے گا؟ انہوں نے امریکہ میں جنونیوں کا ایک حلقہ پیدا کر لیا ہے۔ تازہ ترین سروے کے مطابق حیرت انگیز طور پر بڑی تعداد۔ ۔ ۔ 73 فیصد ریپبلکنز ابھی سے یہ کہہ رہے ہیں کہ 8 نومبر کے انتخابات میں دھاندلی ہوگی۔ نتائج چرائے جائیں گے۔ تشویش یہ ہے کہ انتخابات کے بعد کیا ہوگا؟ ٹرمپ جیت گیا تو امریکہ کے ساتھ کیا ہوگا؟ ہار گیا تو کیا ہوگا؟ لوگ انتخابی نتائج پر تشدد کے سائے منڈلاتے دیکھ رہے ہیں۔ ایک قوم کی تاریخ میں کبھی کبھی ایسے کردارجنم لیتے ہیں جواس کے لیے آزمائش بن جاتے ہیں۔

بھارت کے لیے مودی بھی ایسی ہی ایک آزمائش ہیں۔ انہیں لایا تو تھا کارپوریٹ سیکٹر کہ دنیا کے ساتھ تجارتی امکانات میں اضافہ ہواور بھارت معاشی سرگرمیوں کا مرکز بنے۔ اب ان کے اندر کا انتہا پسند ہندو انہیں چین نہیں لینے دیتا۔ پاکستان ان کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ یہی نہیں،بھارت کا مسلمان شہری بھی۔ احمد آباد کے حادثے کے بعد تو کسی مزید ثبوت کی ضرورت نہیں، لیکن گزشتہ دنوں جب بھی کوئی گاؤ کشی جیسے کسی مذہبی الزام پر مسلمان کشی ہوئی تو ان کا ردِ عمل ایسا نہیں تھا جیسا کسی لیڈر کا اپنے مظلوم شہریوں کے لیے ہوتا ہے۔ کشمیریوں کو بھی وہ غیر کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس اپنائیت کا دور تک شائبہ نہیں جو عوام اور لیڈر کے تعلق میں ہوتا ہے۔ ایسے راہنما کے ساتھ بھارت ‘شائننگ‘ کیسے بن سکتا ہے؟ آج وہ بھارت کے لیے آ زمائش بن چکے۔ رہیں تو مشکل اور جائیں تو مشکل کہ ہندوئوں کی ایک بڑی تعداد کا انتخاب ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ بھی کچھ ایسے ہی بحران میں ہے۔ بشار الاسد کو دیکھ لیں۔ ان کے خاندان کا اقتدار اہلِ شام کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں۔ 1982ء میں، یہ حماہ شہر تھا جہاں اُن کے باپ اور چچا رفعت الاسد نے اخوان کا قتلِ عام کیا تھا۔ 27دن سرکاری فوج نے شہر کا محاصرہ کیے رکھا۔ شام کے انسانی حقوق کمیشن کا کہنا ہے کہ چالیس ہزار افراد مارڈالے گئے۔ آدمی حیرت سے سوچتا ہے:کوئی لیڈر اپنے لوگوں کے ساتھ اس بربریت کا مظاہرہ کر سکتا ہے؟ اب بشارالاسد کے اقتدار کے لیے چار لاکھ کے قریب افراد مارے جا چکے۔ اس انتشار نے کچھ ایسی صورتِ حال پیدا کر دی ہے کہ بشارا لاسد نہ ہو تو شام بکھر جائے۔ سوچیے کہ اہلِ شام اس ایک آ دمی کی وجہ سے کس آزمائش میں ہیں؟

میں اس فہرست کو طویل کر سکتا ہوں کہ کیسے قومیں لیڈروں کے ہاتھوں برباد ہوتی ہیں۔ لیڈروں کی بہت سے کمزوریاں قوموں کے زوال کا باعث بنتی ہیں لیکن انتہاپسندی ان میں سب سے ہولناک ہے۔ انتہا پسند لیڈر،مذہب میں ہوں یا سیاست میں،قوموں کو ایسی پستی میں گرا دیتے ہیں کہ ان کے لیے اٹھنا محال ہو جاتا ہے۔ انتہا پسندی ایک رویہ ہے جو کبھی مثبت نہیں ہو سکتا۔ یہ اگر خیر کے عنوان سے ہو تو بھی اس کا انجام بر بادی ہے۔ مذہب کا مقدمہ تو یہ ہے کہ انتہا پسندی اگر عبادت میں ہو تو بھی قابلِ قبول نہیں۔ سیاست میں اس کا ظہور انقلاب کے نام پر ہوا ہے۔ ہر انقلاب لاشوں کے ڈھیر پر منتج ہوا ہے۔

دنیا اس وقت جس عذاب میں مبتلا ہے،اس کا بڑا سبب انتہا پسندی ہے۔ سامراجیت وہ انتہا پسندی ہے جس کا ظہور ریاست کی سطح پر ہوتا ہے۔آج دنیا میں امریکہ اس کا عالمی مظہر ہے۔ غلبے کی بے کراں خواہش دنیا میں فساد کا ایک بڑا سبب ہے۔ دہشت گردی، وہ انتہا پسندی ہے جس کا اظہار غیر ریاستی عناصر کی طرف سے ہو تا ہے۔ انتہا پسندی حسبِ توفیق ہوتی ہے۔ کوئی گھر ، کوئی کسی ملک،کوئی کسی علاقے، ہر کوئی توفیق کے مطابق اپنے حلقہ اثر کو متاثر کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ انتہا پسندی کا بیانیہ مقبول کیوں ہوتا ہے؟

جہاں تک میں سمجھ سکا،اس کے دو اسباب ہیں۔ ایک تو یہ کہ انتہا پسندی کا موقف رومانوی ہوتا ہے۔ ایک فرد یا نظریہ خواب دکھاتا ہے اور عام آ دمی یہ خیال کرتا ہے کہ ایک ہیرو اپنی ماورائے فطرت قوت سے دنیا کو ہمارے خوابوں کی تعبیر بنا سکتا ہے۔ یہی بچوں کو کہانیوں میں پڑھایا جاتا ہے اور اسی طرح تاریخ کی تعبیر کی جاتی ہے۔ ایک شیر شاہ سوری تھا جس نے پورے ہندوستان میں امن قائم کر دیا۔ ایک علاؤالدین خلجی تھا جس نے دنیا بدل ڈالی۔ لوگ جتناپڑھ لکھ جائیں،اکثریت اجتماعی معاملات میں اسی طرح مثالیت پسند ہوتی ہے۔ ٹارزن سے لے کر سلطان راہی تک،ایسے کردار ہی مقبول ہوتے ہیں۔

دوسرا سبب یہ ہے کہ انتہاپسندی پیچیدہ معاملات کو بہت سادہ بنا دیتی ہے۔ آج ایک آ دمی جب ریاست کی پیچیدگیوں کو حل کرنا چاہتا ہے تو مسلسل الجھتا چلا جاتا ہے۔ امور ِجہاں بانی کبھی آسان نہیں ہوتے۔ انتہاپسندی مسائل کا سادہ حل پیش کرتی ہے۔ ‘کل اس ملک میں اسلامی نظام آ جائے،سب مسائل ختم ہو جائیں گے‘۔ ‘نوازشریف کا اقتدارختم ہوجائے تو کل سے کرپشن کا خاتمہ ہو جائے گا‘۔ یہ کتنا آسان نسخہ ہے کہ ایک عادل بادشاہ تخت پر بیٹھا ہے۔ سوالی آرہے ہیں اور وہ سب کو اشرفیوں سے بھری تھیلیاںدے رہا ہے۔ فریادی شکایت کرتا ہے اور اگلے لمحے ظالم کا سر تن سے جدا ہوتا ہے۔ یہ سادہ تعبیر عام آ دمی کو پسندآ تی ہے۔ مذہب کے نام پر بھی،پیش گوئیوں کے عنوان سے، اسی کو بیچا جا رہا ہے۔

انسان کے تمام تر تہذیبی سفر کا حاصل یہ ہے کہ زندگی کی پیچیدگیوں کا سامنے کیے بغیر،انسان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ لیڈر کا کام عوام کو اس کے لیے تیار کرنا ہے۔ اقبال کے الفاظ میں ‘امامِ برحق‘ وہی ہے جو زندگی کو دشوار تر بنا کر پیش کرے تاکہ انسان اپنے اندر تلخ حقیقتوں کا سامنا کرنے کا حو صلہ پیدا کرے۔ خواب فروشی سے زیادہ انسان دشمنی کوئی نہیں ہو سکتی۔

ہماری قوم کو بھی آج مشکل کا سامنا ہے۔ ایک فرد ان کے لیے آزمائش بن چکا۔ اللہ تعالیٰ سے خیر کی دعا ہے۔

(پس تحریر: عمران خان نے اپنا یہ موقف ایک سے زائد بار، بغیر کسی ابہام کے،بیان کیا ہے کہ وہ 2 نومبر کو اسلام آباد بند کر دیں گے۔ کسی سرکاری اہلکار کو اس کے دفتر نہیں جانے دیا جا ئے گا۔ شیخ رشید نے اس میں اضافہ کیا ہے کہ راولپنڈی شہر اورایئر پورٹ بھی بند کر دیے جائیں گے۔ عمران صاحب مزید یہ کہتے ہیں کہ اس ‘پُرامن احتجاج‘کو اگر روکا گیا تو پھر حالات کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔ کیا کسی مذہب، اخلاق، منطق،آئین اورقانون کی رو سے،اسے ‘پرامن احتجاج‘ کہا جا سکتا ہے؟ اگر کوئی سرکاری دفاتر بند کردے تو حکومت کی ذمہ داری کیا ہے؟ کوئی دانش ور اگر مجھے جواب دے سکے؟ )

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے