نہ تو آئے گی نہ ہی چین آئے گا 

اسی کی دہائی تھی او رمجھے نہ صرف موسیقی سننے کا بے حد شوق تھا بلکہ گانا گانے سے بھی دلچسپی تھی ، وائٹل سائنز کا نغمہ ’’دل دل پاکستان ‘‘بہت مشہور تھا ، اس وقت تو میں اتنی چھوٹی تھی کہ ان کے میوزیکل گروپ کا نام بھی درست انداز سے نہیں لے سکتی تھی ، میری بہن کی ایک سہیلی تھیں جن کے پاس جنید جمیشد کے بہت سے کیسٹس تھے ، ہم بچپن میں ان کے گھر اکثر و بیشتر جایا کرتے تھے ۔

شاید اس وقت پیپسی اور وائٹل سائنز کا سانگ پروموشن کے لئے ایک معاہدہ بھی ہوا تھا اور جنید جمشید کی کیسٹ بھی پیپسی کی بوتل کے ساتھ ملا کرتی تھی۔ سو ایک ٹکٹ میں دو مزے ہوا کرتے تھے کہ ایک تو ہم سب بچے من پسند مشروب پیتے اور ایک بہت ہی سافٹ آواز میں گائے ہوئے گانوں کے مزے لیتے ۔اس کیسٹ میں دل دل پاکستان کے علاوہ ایک بہت اچھا گانا تھا

’’سانولی سلونی سی محبوبہ ، تیری چوڑیاں شڑنگ کر کے‘‘ ۔
جامنی ہونٹ سرائیکی بولیں ، کیا کریں گے پسند کر کے

اور ہم سب بچے اکٹھے ہو کر یہ گانے گایا کرتے تھے ، کالج میں آئی تو ہمارے گروپ میں فوزیہ کے پسندیدہ گلوکار بھی جنید جمیشد ہی تھے اور فوزیہ سے میری دوستی کی وجہ بھی یہی تھی کہ ہم دونوں کی پسند مشترک تھی ۔ اس وقت ٹین ایج میں ہم سب کا پسندیدہ گانا ’’ نہ تو آئے گی نہ ہی چین آئے گا ‘تھا‘

اگر یہ کہوں کہ جنید جمشید نے ان گانوں کے بولوں کے ذریعے ہم ٹین ایج بچیوں کے جذبات کو ایک آواز دے دی تھی تو یہ غلط نہ ہو گا ، میں سوچتی ہوں کہ کاش مجھے اپنے پسندیدہ گلوکار کے بارے میں ان کے انتقال کے بعد نہ لکھنا پڑتا کاش یہ مختصر بلاگ جو ان کی کامیابیوں ، گائیکی اور بطور ایک قابل تقلید مسلمان ہوتا میں ان کی زندگی میں ہی لکھ لیتی

میری سماعتیں تو اسی خوب صورت آواز کی منتظر رہیں گی ناں لیکن اب وہ اپنے گائے ہوئے گانے کی طرح کبھی واپس نہیں آئیں گے ناں اور نہ ہی ان کے پرستاروں کو کبھی چین آئے گا ۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے