وزیراعظم پاکستان عمران خان آج ہزارہ موٹروے فیز ٹو منصوبہ کا حویلیا ں کے مقام سے افتتاح کریں گے۔جس کے بعد ہزارہ موٹروے 62.5 کلو میٹر ای 35 کو حویلیاں شاہ مقصودہ سے مانسہرہ تک عام ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا ۔
ہزارہ موٹروے کا سنگ بنیاد سابق وزیر اعظم نواز شریف نے 29نومبر 2014 کو رکھا تھا ۔ہزارہ موٹروے برہان تا حویلیاں 47 کلو میٹر کے سکیشن کا افتتا ح 27 دسمبر 2017 کو سابق وزیر نواز شریف نے کیا، وزیراعظم عمران خان کی آمد سے ایک روز قبل ہی مسلم ن لیگ نے اپنے قائد نوازشریف کے موٹروے پربینرز اور ہولڈنگز نصب کر دئیے۔
مسلم لیگ ن کی جانب سے پہلے ہزرہ موٹروے کے افتتاح کے موقع پر موٹروے پر ریلی یا مانسہرہ جلسہ کرنے کی تجویز بھی دی گی تھی ،تاہم اس موقع پر تصادم سے بچنے کے لیے انھیں مسترد کردیا اور ہزارہ بھر میں سابق وزیر نواز شریف اور مسلم لیگ ن کے قائدین کے بل بورڈز بینرز لگانے پر اتفاق ہوا، کمشنر ہزارہ سید ظہیرالاسلام کو آج کی تقریب کے تمام انتظامات سونپے گے ہیں۔تاہم کمشنر ہزارہ ن لیگ کے قائد کے نصب کئے گے بینرز سے مکمل طور پرلاعلم نظر آئے، ہزارہ بھر میں لگائے گے بینرز پر ہزارہ موٹر وے شروع کرنے پر نواز شریف کے حق میں شکریہ کے الفاظ تحریر کیے گے ہیں، کمشنر ہزارہ ظہیر اسلام کے مطابق سی پیک منصوبے کے تحت ہزارہ ایکسپریس وے ای 35 (62.5) کلومیٹر منصوبے کا افتتاح آج ہو گا۔

اسی منصوبے کا دوسرا حصہ جنوری 2020 تک پائیہ تکمیل کو پہنچے گا ،مذکورہ منصوبے میں دنیا کی جدید ترین چھ الگ الگ ٹنل اس منصوبے کو چار چاند لگارہی ہیں، 120 کلومیٹر ہزارہ ایکسپریس وے کا منصوبہ ناصرف ہزارہ بلکہ ملک کی معیشت میں تبدیلی لے کر آئے گا،ہزارہ ایکسپریس وے E35 کا منصوبہ 131 بلین کی لاگت سے پاکستان کے لئے تیار ہوناہیں، اس منصوبہ کو تین مراحل میں رکھا گیا تھا، جس میں حویلیاں تا مانسہرہ تک 62.5 کلومیٹر جس کاافتتاح آج کیا جارہا ہے ، جس میں تین انٹر چینج حویلیاں انٹر چینج سجیکوٹ انٹر چینج اور مانسہرہ شیخ آباد انٹر چینج بنائے گئے۔
ہزارہ ایکسپریس وے منصوبہ کو 62.5 کلو میٹر میں تقسیم کر کے تین مر حلہ رکھے گئے، جس میں 47 پل اور 6ٹنل شامل ہیں اور سروسز ایریا کی اراضی پر بھی کام تیزی سے جاری ہے ،ایبٹ آباد شملہ ٹنل35 ۔17 اور دوسری 390 میٹر جبکہ مانسہرہ بیڈڑہ ٹنل ڈھائی کلو میٹر بنائی گئی ہے، جس کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے، انہوں نے کہا کہ حویلیاں سے تھاکوٹ تک مکمل ہونے پر فیز تھری میں کس پل کوزا بانڈی سے آگے 14 کلو میٹر شاہراہ قراقرم کو بہتر بنایا جائے اور اس منصوبے سے متاثر تمام سڑکوں کی تعمیر ہوگی اور کسی آبادی کا کوئی راستہ بند نہیں کیا گیا ،متبادل اوور ہیڈ برجزز دیئے گئے، جبکہ دوسرے فیز میں 15 کلومیٹر دشوار تھا، جس کو این ایچ اے اور چائینز کمپنی نے انتہائی محنت سے مکمل کیا اور کسی بھی مقام پر پہاڑوں پر بھرائی کے بجائے پل بنائے تاکہ معیار پر سمجھوتہ نہ ہوسکے ۔
جبکہ ایبٹ آباد انٹر چینج کے لئے تجویز زیر غور ہے جس کی2۔ 1 کلومیٹر کی پرپوزل تیار کی جاچکی ہے ،جس کی اراضی صوبائی اور تعمیر کے اخراجات مرکزی حکومت برداشت کرے گی،کمشنر ہزارہ ظہیر اسلام کے مطابق ہزارہ ایکسپریس وے پر 3007 مقامی اور 15 سو چائینز لیبرز کام کررہی ہے ،اس سے مقامی سطح پر روزگار ملنے سے لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی آئی ہے ،حویلیاں ڈرائی پورٹ پر وئیر ہاوسز اور انڈسٹریل زون بنیں گے اور مانسہرہ میں ٹیکنکل کالج کے لئے بھی زمیں ایکوائر کی جاچکی ہے ،اس منصوبہ سے مستقبل میں یہاں بڑے کارخانے بھی بنائے جائیں گے اور حطار انڈسٹری زون کا بھی ملک کی معیشت میں اہم کردار ہوگا، داسو اور بھاشا ڈیم کے منصوبوں کی تکمیل سے ملک کی معیشت کے لئے یہ خطہ ریڑھ کی ہڈی سی حثیت رکھتا ہے، اس حوالے سے صوبائی اور مرکزی حکومت بھی علاقہ کی ترقی اور بہتری کے لئے اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لارہی ہے ،جس سے یہاں کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر ہوں گے ،ایجوکیشنل سٹی اور سکالر شپ جیسے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔