وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے آج سپریم کورٹ کے فیصلے سے اداروں کے درمیان تصادم چاہنے والوں کو مایوسی ہوئی ہو گی۔
آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے حکومت کو 6 ماہ میں قانون سازی کرنے کا حکم دیتے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف کی مدت میں 6 ماہ کی مشروط توسیع دی ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے پر وزیراعظم عمران خان نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ آج ان کو ضرور مایوسی ہوئی ہو گی جو اداروں میں تصادم چاہتے تھے۔
وزیراعظم نے اپنی ٹوئٹ میں مزید لکھا کہ اداروں میں تصادم نہیں ہوا، بیرونی دشمن اور اندرونی مافیاز کو خصوصی مایوسی ہوئی۔
اپوزیشن کو ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ لوٹی ہوئی دولت باہر بھیجنے والے مافیاز اس لوٹ مار کے تحفظ کے لیے ملک کو غیر مستحکم کر رہے ہیں۔
Today must be a great disappointment to those who expected the country to be destabilised by a clash of institutions. That this did not happen must be of special disappointment to our external enemies & mafias within –
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) November 28, 2019
عمران خان نے کہا کہ لوٹی ہوئی دولت باہر بھیجنے والے مافیاز اس لوٹ مار کے تحفظ کے لیے ملک کو غیر مستحکم کر رہے ہیں۔
Mafias who have stashed their loot abroad and seek to protect this loot by destabilising the country.
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) November 28, 2019
وزیراعظم عمران خان نے اپنے بیان میں بطور ریکارڈ یہ بھی لکھا کہ 23 سال پہلے ہم پہلی سیاسی جماعت تھے جس نے آزاد عدلیہ اور قانون کی حکمرانی کی بات کی۔
عمران خان نے مزید بتایا کہ 2007 میں عدلیہ کی تحریک کے دوران تحریک انصاف سب سے آگے تھی اور مجھے جیل بھی جانا پڑا تھا۔
For the record, 23 yrs ago we were the first Party to advocate an independent Judiciary and Rule of Law. In 2007, PTI was in the forefront of the Movement for Independence of the Judiciary & I was jailed for it.
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) November 28, 2019
وزیراعظم پاکستان نے یہ بھی کہا کہ مجھے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ پر فخر ہے کہ ہم نے ان جیسا ایک زبردست منصف پیدا کیا۔
Also, for the record, I have the greatest respect for CJ Khosa, one of the greatest Jurists produced by Pakistan.
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) November 28, 2019
دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اللہ کا شکر ہے مسئلہ بخیر وخوبی حل ہو گیا، عدالت کے فیصلے کا احترام ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فیصلے سے متعلق کابینہ کا اجلاس ہو گا، ہم کوئی ایسا راستہ نہیں چھوڑیں گے جس سے پاکستان کے دشمنوں کو بغلیں بجانے کا موقع ملے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ تمام مسائل پر اپوزیشن سے بات کریں گے، امید ہے کہ اپوزیشن ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گی۔