About the author

34 Comments

  1. 1

    verynaaik

    wallah o alam bis sawab…..
    …pata ni yeh baat sach hy k ni…..
    …Magr yeh baat sach hy k Punjab k molvi may THARAK bhot hy …..

    Reply
  2. 2

    Abu Abdullah baloch

    kindly provide contact details of affected persons.I petaonaly want to meet . I have contacted with owais he said.me that the ex wife of ghumman has contacted them and demanded some things which they denied ao after that she is blaming them. shame on mufti rehan and ibc urdu

    Reply
  3. 3

    عمر عبد الرحمن جنجوعہ

    اگر درج ذیل واقعات سچائی پر مبنی ہیں تو اس کی شدید مذمت کے ساتھ ساتھ سخت سے سخت ترین سزا دینی چاہیے جو شریعت کے عین مطابق ہو یہاں تو وہ محاورہ فٹ ہوتا ہے ہاتھی کے دانت کھانے کے کچھ اور دکھانے کے کچھ اور اللہ ہماری مائوں بہنوں کے حفظ و امان میں رکھے ایسے تمام درندے صفت انسانوں سے بچائیں آمین

    Reply
  4. 4

    راؤ سہیل

    الامان والحفیظ
    کچھ بعید نہیں ان کمرشل مولویوں سے

    Reply
  5. 5

    zn khan

    بھائی صاحب اس عورت کو بھی میں جانتا ہوں یہ فساد مچانے میں شر پھیلانے میں بڑی ماہر ہے

    یہ ان عورتوں میں سے ہے جو منتقم مزاج ہوتی ہیں اور انہیں کسی کی عزت کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی
    ایسی عورتیں ذاتی عداوت کا بدلہ لینے کیلئے کسی پر بھی گھٹیا سے گھٹیا الزام لگا سکتی ہیں یہ ایک خرانٹ عورت ہے جو پانچ جوان بچوں کے ہوتے ہوئے اپنا بیاہ رچاتی پھرتی ہے اور جب من مرضی کی آزادی عیاشی نہ ملی تو بدلہ لینے کیلئے شیطانی ہتکنڈے استعمال کرنے لگی

    یہ اپنے پہلے خاوند کو بولنے تک نہیں دیتی تھی اور جب اس کا واسطہ گھمن جیسے آدمی سے پڑا تو اس کا دماغ گھومنا ہی تھا ہر آدمی ایسی عورتوں کو برداشت نہیں کرتا
    اس کا پہلا خاوند تو بے چارہ شریف آدمی تھا یہ جو چاہے کرتی پھرتی بے چارہ چپ چاپ دیکھتا رہتا اور اس شادی سے تو اس کا پورا خاندان ناراض تھا پہلے اس نے پورے خاندان کی پرواہ نہ کی اور گھمن سے شادی کرلی اور پورے خاندان کو بدنام کیا اور اپنے والد کا نام بھی لوگوں میں اچھالا اور اب یہ گھمن صاحب کو بدنام کرنے کے مشن پر ہے
    اور یہ جھوٹ ہے کہ اسکا رشتہ خاندان والوں نے کروایا یہ اس کا اپنا شوق تھا جس کا انجام ایک دن یہی نکلنا تھا ۔
    اور سنو ہر روتی ہوئی عورت پر یقین کرنے والے بےوقوف ہوتے ہیں جیسا کہ یہ مفتی ریحان نامی بندہ ہے

    Reply
    1. 5.1

      Kata khan

      Aap Koon hain aur kitna janty hain,.

      Reply
  6. 6

    imran

    کیا آپ نے سوچا کے اس سٹوری سے مسلمانوں کو فائده هو گا یا نقصان ?

    Reply
  7. 7

    wakeel

    علماء حضرات سے استفسار ہےکہ جذبات ایک طرف رکھ کے ذرا بتائیں کہ ان تمام الزامات کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ گواہوں کے بغیر اور وہ بھی مطلوبہ مقدار میں؟موصوفہ نے جب پہلی بار گاڑی میں درندگی کرتے دیکھا تو انہیں اسی وقت ہی اس شخص سے کنارا کرنا چاہئے تھا

    Reply
  8. 8

    ماجد عبدالکریم

    سبوح سید کو سلوٹ کرنے کو دل چاہتا ہے
    اتنی جرات کون کرسکتا ہے کہ ایک بہت بڑے مذہبی لیڈر کو یوں ایکسپوز کرے اور اس کے کرتوتوں کو یوں نمایاں کرے کہ سب کچھ عیاں ہوجائے اور کوئی غبار باقی نہ رہے ۔۔۔
    بہت سارے لوگ اس مضمون پر مختلف قسم کے سوالات اٹھائیں گے ۔۔
    ٭ یہ مضمون مسلکی تعصب کا شاخسانہ ہے ۔۔۔
    ٭ اس مضمون میں خاتون نے اپنے خاوند سے ذاتی بدلہ لینے کی کوشش کی ہے
    ٭ اس مضمون میں دیوبندیت کو بطور مسلک دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی ہے
    ٭ اس مضمون میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے صرف الزامات لگائے گئے ہیں
    آیئے ان اعتراضات کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں
    ٭ یہ مضمون مسلکی تعصب کا شاخسانہ ہے
    یہ بالکل ہی بودا اعتراض ہے ، جو بھی سبوح سید کو جانتے ہیں وہ یہ اعتراض کرہی نہیں سکتے ، ان کا سارا خاندان دیوبندیت سے گہرا تعلق رکھتا ہے اور سبوح سید خود بھی نظریاتی طور پر اسی مسلک سے منسلک ہے اگر چہ وقت نے اب انہیں ان شناختوں سے اوپر اٹھادیا ہے ، خاتون خود دیوبندیوں کی تبلیغی جماعت کے سابقہ امیر کی بیٹی ہیں اور ان کے والد محترم پاکستان کی بہت معروف خطیب اور علمی شخصیت تھے ، خاتون کا سارا گھرانہ تبلیغی جماعت اور دیوبندیوں کی نظر میں احترام سے دیکھا جاتا ہے
    ٭ یہ اعتراض بھی نہایت بودا ہے ، کوئی خاتون اپنے خاوند سے کبھی اس طرح بدلہ نہیں اتارتی کہ اپنی اور اپنی بیٹیوں کا تذکرہ تک برسرمیدان کرے ، اور بدلہ وہ لیگی کس چیز کا؟ وہ زندگی کا وہ دور گذار چکی تھی جس میں انسان کو اپنی پڑی رہتی ہے اس عمر میں تو انسان اپنے سے زیادہ اپنی اولاد کے بارے میں سوچتا ہے ، پھر اسے اچھی طرح پتہ تھا کہ مولانا صاحب پہلے سے شادی شدہ ہیں ، پھر وہ خود کہہ رہی ہیں کہ میں الگ اپنے شہر اپنے گھر میں رہ رہی تھی اور مولانا سینکڑوں میل دور دوسرے شہر میں رہ رہے تھے اور یہ شرط بھی خاتون نے خود لگائی تھی ، اب انہیں کیا پرواہ مولانا ان سے سیکنڑوں میل دور کہاں رہتے ہیں کس کے ساتھ راتیں گذارتے ہیں ۔۔۔۔بات تو تب خراب ہوئی جب مولانا نے ان کی اولاد پر دست درازی کی کوشش شروع کردی
    ٭ دیوبندیت کو دیوار سے لگانے کا الزام بھی مضحکہ خیز ہے
    دیوبندیت تو نام ہی حق اور سچ کا ساتھ دینے کا ہے نہ کہ تعصب اور برادری بندی کا
    یہ تو کچھ دیوبندیوں کی غلطی تھی کہ انہوں نے مذکورہ مولانا کو شک کا فائدہ دیا اور انہیں ڈھیل دی یا سستی اور غفلت کا مظاہرہ کیا ، گربہ کشتن روز اول پر عمل کرتی ، اس بندے سے لاتعلقی کا اظہار کرتی تو آج یہ نوبت ہی نہ آتی ۔۔۔گند کو آخر قالین کے نیچے کب تک دبایا جاسکتا ہے ایک نہ ایک دن تو یہ ہونا ہی تھا
    اس مضمون میں ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے
    ارے خدا کے بندو یہ کیسا اعتراض کررہے ہو ، خاتون نے کسی عدالت میں مولانا کو بلا کر اسے قانون کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا ہے بلکہ وہ سب کچھ بیان کردیا ہے جو اس پر بیتی ہے جو اس نے محسوس کیا ہے جو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے یا جو اسے مولانا کے مدرسے اور گھر میں بتایا گیا ہے ۔ کیا یہ ممکن بھی تھا خاتون کیلئے کہ ہر جگہ سی سی ٹی وی کیمرے فٹ کرتی یا چار پانچ گاہوں کو اپنے خواب گاہ اور گھر میں چھپا کر مولانا کے کرتوتوں کو ریکارڈ کرتی ؟
    اس نے تو اپنی داستان سنائی ہے کہ یہ مجھ پر گذری یہ میں نے دیکھا یہ میں نے محسوس کیا ۔۔۔۔دوسری بات بہت قابل غور یہ ہے کہ خاتون نے کہا کہ آج بھی اعلان کردیا جائے کہ مولانا نے جن کی بھی بہنوں بیٹیوں کے ساتھ زیادتی کی ہے ان کو تحفظ دیا جائے اور ان کے نام صیغہ راز میں رکھے جائیں تو بہت سارے متاثرین سامنے آجائیں گے کہ ان کی اولاد کے ساتھ اس ظالم درندے نے کیا کیا تھا ۔۔۔ جو لوگ مولانا کے شرمناک کردار پر پردہ ڈالنے کے خواہاں ہیں ان کے پاس ہزار باتیں ہوسکتی ہیں ، مگر اگر وہ اس خاتون کی جگہ خود ہوتے تو کیا کرتے ؟
    میں تو سمجھتا ہوں کہ خاتون نے بے مثال بہادری کا ثبوت دیا ہے ، اس بے چاری نے جہاں تک ممکن تھا اپنے سب بڑوں تک اپنی فریاد پہنچائی ہے اور جب کچھ نہ ہوا تو اسے کوئی مفتی ریحان مل گیا اور اس نے مفتی صاحب کو ساری بات بتادی ، مفتی صاحب نے خاتون کے جذبات کو زبان عطاکی اور دنیا کے سامنے وہ سب دیانتداری سے رکھ دیا جو خاتون نے اسے بتایا تھا ، اب یہ اس ملک کے قانون کی ذمہ داری ہے کہ تحقیق کرے ، مسلک کے بڑوں کی ذمہ داری ہے کہ تحقیق کرے اور دودھ کو دودھ اور پانی کو پانی کردے ۔۔۔ لیکن ایک بات بڑی قابل غور ہے کہ مولانا کے کردار سے متعلق جو سوالات اٹھائے گئے ہیں آج سوشل میڈیا پر ہر طرف سے اس کیا تائید نظر آرہی ہے اور سب خاتون کی باتوں کی ڈھکے چھپے الفاظ میں تائید کررہے ہیں ۔۔۔۔ یاد رکھیں اللہ تعالیٰ کسی کو ایک دو غلطیوں پر کبھی رسوا نہیں کرتا ، مہلت دیتا ہے دیتا جاتا ہے اور جب پانی سر سے اوپر اٹھ جاتا ہے تب رسی کو کھینچا جاتا ہے ، مجھے پکا یقین ہے کہ مولانا کی رسی کھیچ لی گئی ہے اور جو لوگ مولانا کی تائید تعصب مسلکی بنیادوں یا مولانا سے ذاتی تعلقات کی بنیادوں پر کررہے ہیں خدا کے غضب سے وہ بھی بچ نہیں سکیں گے ، وما علینا الا البلاغ

    Reply
    1. 8.1

      میاں شفیق بالاکوٹی

      اگر الیاس گھمن صاحب کا یہ قضیہ سچ ہے تو پھر ایسے شخص کا دفاع کرنے والوں پر حیرت ہے۔الیاس گھمن صاحب کے متعلق اس سے قبل بھی مولانا سلیم اللہ خان،مولانا ابوبکر غازی پوریؒ اپنے ریمارکس دے چکے ہیں جو گھمن صاحب کی تاریک کے ماتھے کا جھومر ہیں۔اسی طرح مولانا احمد لدھیانوی نے بھی بائیکاٹ کا صاف اعلان کردیا ہے،دیوبندیت کی جانب سے ان علماء کا اعلان حق کافی شافی ہے۔باقی جو لوگ گھمن صاحب کا دفاع کر رہے ہیں وہ دیوبندی تو نہیں ہو سکتے بلکہ ان کو گھمنی کہا جاتا ہے۔آج کے بعد گھمن صاحب کے عقیدتمندوں کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو گھمنی ٹائٰٹل کے ساتھ پیش کریں اور جو مرضی کریں اور کہیں مگر خدا راہ اپنے جرائم میں علماء دیوبند کے تابناک ماضی کو نتھی کر کے بدنام نہ کریں۔

      Reply
  9. 9

    Hammad Umar

    Assalam o aalikium mufti sb i hope you are good. Brother if you proof like this why not you go to court and proof it why you are posting it on a website… Aagr hea toohmat hai tu us kee bhee islam main saaza hai aur aagar sach hai ti maulana. Sb kee bhee ssaaza hai…

    Reply
  10. 10

    سجاد

    ان للہ وانا الیہ راجعون،
    بہت ھی اندوہناک اور کلیجہ پھاڑ دینے والا واقعہ ھے، اللہ ایسی کالی بھیڑوں کو ساری دنیا کے سامنے ننگا کرے اور ایسا ذلیل و رسوا کرے کہ اس جیسے باقی سب درندوں کو بھی عبرت حاصل ھو جائے،
    الیاس گھمن کی گفتگو اور انداز بیان ھی انسانوں والا نہیں لگتا تھا، آج معلوم ھوا کہ یہ تو انسان نہیں بلکہ انسانی شکل میں درندہ ھے

    Reply
  11. 11

    Hammad Umar

    *جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے*
    پہلی قسط

    متکلم اسلام ، وکیل احناف، جامع شریعت و طریقت حضرت اقدس مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ کے بارے سوشل میڈیا پر لگنے والے بے بنیاد الزامات پر چند سوالات کی پہلی قسط حاضر ہے ۔ مفتی ریحان نامی فرضی نام سے فرضی کہانیاں گھڑنے والے سے گزارش ہے کہ ان سوالات کے جوابات جلد عنایت فرمائیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں سے بھی گزارش ہے جو بغیر تحقیق کے محض یک طرفہ جھوٹی کہانی پڑھ کر اپنے زبان و قلب کو علماء حق کی عداوت و نفرت کی آماجگاہ بنالیتے ہیں۔ ایسے قابل رحم لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ مفتی ریحان صاحب کو تلاش کریں جہاں ملے ان سے دوبدو ہماری بات کرائیں تاکہ ساری دنیا دیکھ لے کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے ۔

    میں سوشل میڈیا کے دانشوروں سے التماس کروں گا کہ ان سوالات کو سامنے رکھ کر مفتی ریحان کا مضمون دوبارہ پڑھیں اور جو آواز آپ کے ضمیر سے آئے اس سے ہمیں بھی آگاہ فرمائیے گا ۔

    *سب سے پہلے مفتی ریحان صاحب آپ کے بارے میں قارئین جاننا چاہتے ہیں کہ آپ*
    1. کس مدرسہ/ جامعہ کے فاضل ہیں ؟
    2. کس سن میں فراغت ہے ؟
    3. مفتی کورس کہاں سے کیا ہے ؟
    4. آج کل کہاں پر ہوتے ہیں ؟
    5. مصروفیات و مشاغل کیا ہیں ؟
    6. آپ کا آئی ڈی کارڈ نمبر ؟
    7. آئی ڈی کارڈ کی تصویر؟
    8. آپ کا موبائل نمبر ؟
    *اس کے بعد سردست مفتی ریحان صاحب !یہ بھی فرما دیجیے کہ*
    1. آپ کے دوست کا نام کیا ہے ؟
    2. دوست کے مدرسے کا نام کیا ہے ؟
    3. ان کی رہائش کہاں واقع ہے ؟
    4. ان کا موبائل نمبر کیا ہے ؟
    5. کیا وہاں جا کر ان سے گفتگو ہو سکتی ہے ؟
    6. کیا وہ اسے کمرہ عدالت میں بھی بیان کرنے کی اخلاقی جرات رکھتے ہیں ؟
    7. دوست نے ملاقات کیسے طے کرائی ؟
    *مفتی ریحان صاحب آپ کی یہ بات کہمیں مفتی صاحب کے سامنے یہ استفتا رکھنے اور ان کا جواب لینے سے قبل محترم خاتون سے خود مل کر سارا قصہ سننا چاہتا تھا۔*
    1. آپ نے کون سے مفتی صاحب کے سامنے استفتا رکھنے تھے ؟
    2. ان کا نام کیا ہے ؟
    3. کہاں ہوتے ہیں ؟
    4. دارالافتاء کا نام کیا ہے ؟
    5. کس مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں ؟
    6. کیا اب تک وہ بقید حیات ہیں ؟
    7. کیا آپ کے بڑے مفتی صاحب اس بارے گفتگو کرنے کی ہمت رکھتے ہیں ؟
    8. اور کیا کمرہ عدالت میں بھی بحیثیت ذمہ دار مفتی پیش ہونے کے لیے تیار ہیں ؟
    *اس سے بعد یہ عقدہ بھی کھول دیجیے کہ*
    1. آپ صرف خاتون سے ہی کیوں سارا قصہ سننا چاہتے ہیں ؟
    2. شریعت کیا کہتی ہے کہ کیا کسی معاملے میں بحیثیت مفتی یا قاضی صرف مدعی کی بات سننے پر فتویٰ یا فیصلہ صادر کر دینا چاہیے یا معاملے کی تحقیق فتوی یا فیصلہ کے لیے فریقین کے بیانات سنے جاتے ہیں ۔
    3. یہ بات آپ کے مفتی ہونے پرسوالیہ نشان بن رہی ہے ۔
    4. آپ کی مفتیانہ اہلیت کو سبوتاژ کرتی ہے ۔
    5. آپ کے جانبدارانہ مزاج کی چغلی کر رہی ہے ۔
    6. اور آپ کو غیر محتاط ،غیر سنجیدہ اور غیر اخلاقی جرم کا مرتکب ٹھہراتی ہے ۔
    7. مفتی ریحان صاحب کیا آپ نے صاحب واقعہ( مذکورہ خاتون کے شوہر) سے بھی اس بارے رابطہ کیا ؟
    8. اگر کیا ہے تو انہوں نے کیا گفتگو کی ؟
    9. آپ نے وہ گفتگو اپنے مضمون میں تحریر کیوں نہیں کی ؟
    10. اگر ان سے آپ نے بات نہیں کی تو کیوں ؟
    *میں اپنے والد کی لاڈلی بیٹی تھیں*.یہاں سے شروع ہونے والی داستان جو مضمون کے آخر تک پھیلی ہوئی ہے ۔ کیا وہ من و عن خاتون کے الفاظ میں ہے یا ان کی گفتگو کا مفہوم ہے ؟ جو آپ نے اپنی طرف سے بڑے “طنزیہ ادب” میں تحریر کیا ہے ؟
    کیا یہ ساری گفتگو بطور ریکارڈ آپ نے اپنے چارج شدہ بیٹری والے موبائل میں بھی محفوظ کی ؟
    کیا اب بھی کسی فورم مثلا کمرہ عدالت وغیرہ میں وہ گفتگو محترمہ کی اصل آواز میں سنائی جا سکتی ہے.
    کیا واقعتاً (شرعی پردے اور دین دار گھرانے کی عفت ماب) خاتون نے آپ کو انہی الفاظ میں یہ بھی بتایا کہ

    *مہینہ میں ایک دو بار آنے، کفالت کی ذمہ داری اٹھانے اور حقوق زوجیت اداکرنے کی اس نے حامی بھری*

    خصوصا حقوق زوجیت کی ادائیگی والی بات کیا انہوں نے بے دھڑک ایسے ہی آپ سے کہی ؟
    مفتی ریحان صاحب آپ اس محترمہ کے لیے شرعا غیر محرم ہیں انہوں نے اپنے بستر کی باتیں (جو کوئی بھی شریف النفس عورت اپنے ماں باپ بہن بھائی کسی سے ذکر نہیں کرتی)آپ سے کیسے شئیر کیں ؟
    کیا اس طرح کی بات سن کر بھی آپ نے اپنے آنسو صاف کیے ؟
    مفتی صاحب جب آپ مذکورہ خاتون سے گفتگو یا حقیقت حال معلوم کر رہے تھے جس وقت اس نے یہ کہا کہ میرے بھائیوں نے مولوی صاحب کے بارے میں کہا کہ *مگرعیب اس میں یہ ہے کہ مدرسہ کے نام پر چندہ خوری کے حوالہ سے بری شہرت کا حامل ہے.. مگر میرے کچھ رشتہ دار اس کی حمایت میں آگے بڑھے ..میری ذہن سازی کی .میں انکار نہ کرسکی*
    دریافت طلب امور یہ ہیں کہ
    محترمہ کے کتنے بھائی ہیں ؟
    ان کے نام اور تعارف؟
    وہ کہاں ہوتے ہیں ؟
    متعلقہ معاملے پر ان سے بات چیت ہو سکتی ہے ؟
    کیا آپ نے ان سے بھی اس بارے میں کوئی بات کی ہے ؟
    اگر بات کی ہے تو انہوں نے کیا کہا؟
    آپ نے محترمہ سے یہ بات کیوں نہ دریافت کی کہ
    محترمہ نے بھائیوں کی بات کو رد کیوں کیا اور رشتہ داروں کی ذہن سازی سے “مجبور” کیسے ہو گئیں ؟
    رشتہ داروں میں کون کون لوگ تھے ؟
    کیا اس موضوع پر ان سے بات اور تحقیق ہو سکتی ہے ؟
    مولوی صاحب کے حامی محترمہ کے رشتہ دار تھے جبکہ پیغام نکاح بھائیوں نے پہنچایا ، اس کی کیا وجہ ؟
    اس کے بعد آپ نے اپنے مضمون میں محترمہ کی یہ بات ذکر فرمائی*اس کی نیت کا فتور مجھ پر اس دن کھلا جب وہ مجھے سرگودھا اپنے گھر مدرسہ اور پہلی بیویوں سے ملانے لے جانے لگا۔*
    مفتی صاحب چونکہ آپ حقیقت حال معلوم کرنے گئے تھے تو کیا آپ نے محترمہ کی اس بات پر سوال کیا کہ شادی کے کتنے عرصہ بعد مولوی صاحب موصوفہ کو سرگودھا لے گئے ؟
    بقول محترمہ کے کہ میرا بیٹا گاڑی چلا رہا تھا ۔ ان کی جواں سالہ ہمشیرہ سے اسی گاڑی میں بدتمیزی ہو رہی تھی تو اس نے غیرت کا مظاہرہ کیوں نہ کیا؟
    غیرت و حمیت کا ثبوت دیتے ہوئے اسی وقت گاڑی سے اتر کر واپس فیصل آباد کیوں نہ آئے ؟
    محترمہ کو کون سی مجبوری تھی کہ سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی سرگودھا تشریف لے گئیں ؟
    اس کے بعد ایک طویل عرصہ تک عدالت سے رجوع کیوں نہ کیا؟
    اس معاملہ پر کیوں نہ استفتاء لکھا ؟
    اکابر و مشائخ کو خطوط کیوں نہ لکھے ؟
    سوشل میڈیا پر مولوی صاحب کی غلط حرکتوں کی بروقت تشہیر کیوں نہ کی ؟
    آپ کےمضمون کے مطابق محترمہ کا یہ بیان کہ *جب میں نے پیچھے دیکھا تو یہ میری بڑی بیٹی کے ساتھ چپک چپک کر اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کررہا تھا، میں نےدیکھا، میری بیٹی کے چہرے پر اذیت کے آثار تھے اور مولوی صاحب کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ۔ ۔۔میں خون کے گھونٹ پی کر رہ گئی۔ ۔۔ گاڑی رکوائی اور بہانہ کرکے انہیں آگے بیٹھنے پر مجبور کیا۔ ۔۔۔اس کے بعد اذیت کا یہ نہ ختم ہونے والا سفر شروع ہوگیا۔*
    دریافت طلب امور یہ ہیں کہ
    خون کے گھونٹ کیوں پی گئیں ؟
    مزاحمت کیوں نہ کی؟ جبکہ بقول خاتون کے اکیلے میں تو مزاحمت کیا کرتی تھیں ،یہاں تو جوان بیٹا ،خود محترمہ اور بیٹی تین لوگ موجود تھے ۔اگر اکیلے میں مزاحمت کر تی رہتی تھیں تو اب زیادہ ہونے کی صورت میں مزاحمت کیوں نہ کی ؟
    کون سا بہانہ بنا کر مولوی صاحب کو آگے بیٹھنے پر ”مجبور“ کیا ؟
    جس مولوی صاحب کو محترمہ طاقت ور بھیڑیا جیسے الفاظ سے یاد کرتی ہے کیا اس وقت وہ اتنا خدا ترس ہو گیا کہ محترمہ کے بہانے پر مجبور ہو گیا ؟
    اس اذیت ناک سفر کی چنگاری کو ساڑھے تین سال تک کی جہنم کیوں بناتی رہیں ؟
    اسی وقت آپ جیسے خدا ترس جید مفتی صاحب سےرابطہ کیوں نہ کیا؟
    اپنے بھائیوں اور ذہن سازی کرکے مجبور کرنے والے رشتہ داروں کو صورتحال سے آگاہ کیوں نہ کیا ؟
    آپ کے مضمون میں محترمہ کی مندرجہ ذیل بات کہ*جب بھی گھر آتا حیلے بہانے سے بیٹیوں کے کمرے میں جھانکتا کبھی آئیس کریم کے بہانے کبھی کسی چیز کے بہانے انہیں باہر لے جانے کی کوشش کرتا۔ میں مزاحم ہوتی تو کبھی غصہ کرتا قسمیں کھاتا کہ میں انہیں باپ کا سچا پیار دینے کی کوشش کررہا ہوں اور تم خامخواہ شک کررہی ہو۔ مگر مفتی صاحب آپ کو پتہ ہے اللہ نے عورت کو ایک اضافی حس سے نوازا ہے، وہ مرد کی آنکھوں میں ہوس اور شہوت کی چمک محسوس کرلیتی ہے۔*
    جب بھی گھر آتا۔۔۔۔ ساڑھے تین سال تک اپنی اولاد کی عزت داؤ پر لگتی رہی اس طویل دورانیے میں محترمہ کی زبان خاموش کیوں رہی؟
    کوئی تحریر کیوں نہ سامنے آئی؟
    قبلہ مفتی ریحان صاحب !آپ نے محترمہ کی اس بات کو مانتے ہیں؟
    اگر صحیح سمجھتے ہیں تو کیا آپ نے ان سے اس وقت یہ نہیں پوچھا کہ محترمہ یہ اضافی حس کس وقت پیدا ہوئی ؟
    نکاح کے وقت جب محترمہ نے مولوی صاحب کو دیکھا تو ان کی حس نے مولوی صاحب کی آنکھوں میں ہوس اور شہوت کی چمک محسوس کی تھی؟
    اگر محسوس کی تھی تو ان سے علیحدگی کا فوری مطالبہ کیوں نہ کیا؟
    اور اگر محسوس نہیں کی تو آخر اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے ؟
    مفتی صاحب آپ نے محترمہ کی ادھوری بات کو مکمل کیوں نہیں کیا کہ عورت کی اضافی خوبی صرف یہ نہیں کہ وہ مرد کی آنکھوں میں ہوس اور شہوت کی چمک محسوس کر لیتی ہے بلکہ دین دار گھرانے کی عفت مآب خاتون اپنے شوہر کی آنکھوں میں اپنی اولاد کے لیے شفقت و محبت بھی محسوس کرتی ہے ۔
    آپ نے اپنے مضمون میں محترمہ کی یہ بات بھی نقل فرمائی کہ *ایک کمزور بے بس اور لاچار ماں بیٹی اور ایک ہوس زدہ بھیڑیئے کے درمیان یہ کھیل روز کا معمول بن گیا۔*
    محترمہ خود کو کس اعتبار سے کمزور اوربے بس فرما رہی ہیں ۔ جبکہ محترمہ کے بھائی ، دو جوان بیٹے اور رشتہ دار بھی موجود تھے ۔
    کیا آپ نے محترمہ سے یہ سوال کیا کہ انہوں نے اپنے بیٹوں ، بھائیوں اور رشتہ داروں کو اس معاملے کی معلومات فراہم کی ہیں ؟
    محترمہ کے بیٹوں ، بھائیوں اور رشتہ داروں نے اس پر کیا کیا؟
    دوسری بات یہ بھی محل اشکال ہے کہ محترمہ اس معاملے کو” روز کا معمول“ بتا رہی ہیں ؟
    محترمہ نےاس بارےغیرت کا مظاہرہ کیوں نہ کیا ؟
    آخر وہ کون سے ایسی مجبوریاں تھی جس کے باعث محترمہ ساڑھے تین سال تک اس روز کے معمول کو برداشت کرتی رہیں؟
    اور اپنے بیٹوں بھائیوں اور رشتہ داروں کو آگاہ نہیں کیا؟
    عدالت سے رجوع نہیں کیا؟
    مفتیان کرام اور اکابر ومشائخ کو نہیں بتلایا؟
    سوشل میڈیا پر مولوی صاحب کی اخلاقی گراوٹ کو وائرل کیوں نہیں کیا ؟
    اپنے گھر فیصل آباد آنے سے مولوی صاحب کو منع کیوں نہیں کیا۔
    مفتی صاحب !ان سب کو برداشت کرنے کے بعد محترمہ نے مکان شفٹ کیا،اخراجات کس نے ادا کیے؟
    ان سب کے باوجود ساڑھے تین سال تک محترمہ کے اکاؤنٹ میں رقم کہاں سے آتی رہی؟
    جبکہ ہمارے پاس مکمل اس کا ریکارڈ موجود ہے کہ محترمہ کو کتنے پیسے ان کے اکائونٹ میں جاتے رہے ۔ آخری بار رقم مبلغ ایک لاکھ روپے مورخہ 6 جنوری 2015 کو محترمہ کی بینک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیے گئے ہیں ۔
    اسی کے ساتھ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ
    محترمہ نے اپنا ڈرائیونگ لائسنس بنوایا ۔ جس کے اجراء کی تاریخ 18 مارچ 2015 ہے ۔ اس لائسنس پر دو آپشن موجود ہوتے ہیں یا تو والد کا نام یا پھر خاوند کا نام ۔ ہمارے پاس ڈرائیونگ لائسنس کی کاپی موجود ہے جہاں محترمہ کے دستخط موجود ہے انہوں وہاں پر والد کے نام کے بجائے خاوند کا نام لکھا ہے ۔
    پوچھنا یہ ہے کہ جس تعلق کو محترمہ ساڑھے تین سال کی جہنم کہہ رہی ہے اس جہنمی تعلق کے بجائے جنتی تعلق حضرت مفتی زین العابدین سے کیوں نہ بدلا ؟کس مجبوری کی وجہ سے وہ اپنی خود ساختہ جہنم میں ساڑھے تین سال تک جلتی رہیں؟
    کیا مجبوری محض پیسہ تھا؟
    یا کچھ اور؟
    اگر پیسہ تھا تو محترمہ کے والد کا پوری دنیا میں حلقہ ہے اس بارے انہوں نے کیوں نہ ان کی داد رسی کی؟
    یا انہوں نے اپنے بھائیوں ، بیٹوں اور رشتہ داروں کو یہ مجبوری کیوں نہ بتلائی؟
    اس کے بعد آتے ہیں آپ کے مضمون میں درج محترمہ کی اس بات کی طرف کہ *میں نے ایک غریب لڑکی ملازمہ رکھی ہوئی تھی گھر کے کام کاج کیلئے، یہی کوئی دس سال کی، یہ خبیث الفطرت انسان اسے بھی معاف نہیں کرتا تھا، ایک دن میں بچوں سمیت باہر گئی تھی بھائیوں کے گھر واپس آئی تو یہ درندہ اس چھوٹی سی بچی کے ساتھ بھی غلط حرکات کا مرتب ہوچکا تھا۔*
    اس میں چند باتیں دریافت طلب ہیں ؟
    ملازمہ کون تھی ؟
    کیا محترمہ کے پڑوسی بھی اس بات کی شہادت دینے کے لیے تیار ہیں ؟
    محترمہ کے بقول یہ خبیث الفطرت انسان اسے بھی معاف نہیں کرتا تھا۔ جب محترمہ کو اس بات کا پہلے سے اچھی طرح علم تھا تو محترمہ نے جاتے وقت ملازمہ کو اس کے اپنے گھر کیوں نہ بھیجا؟ کیا اس معاملہ میں وہ خود شریک جرم نہیں ٹھہرتیں؟
    کیا وہ ملازمہ اب بھی محترمہ کے گھر میں کام کاج کرتی ہے ؟؟
    آپ نے محترمہ کے حوالے سے اپنے مضمون میں یہ بھی لکھا کہ
    خاتون نے اپنا موبائل پردے کی اوٹ سے میری طرف بڑھایا اور کہا یہ لیں آپ خود سن لیں یہ بچی کیا کہہ رہی ہے۔۔۔
    1. ملازمہ بچی کے بیان کی ویڈیو کس نے بنائی ؟
    2. ملازمہ بچی مولوی صاحب کو” باباجی“ کیوں کہتی ہے ؟
    3. کیا ملازمہ بچی کے والدین کو اس بات کا علم ہے ؟
    4. کیا ان سے اس بارے بات چیت ہو سکتی ہے ؟
    5. کیا وہ کمرہ عدالت میں اس کی گواہی دے سکتے ہیں ؟
    اس کے بعد آپ کے مضمون میں محترمہ یہ بات بھی محل اشکال ہے کہ *پہلی بار جب میں سرگودھا میں اس کے گھر پہنچی تب مجھ پر آہستہ آہستہ اس کے اخلاقی دیوالیہ پن کے اسرار کھلنے لگے*۔
    محترمہ کی باتوں کو سچا مان لیا جائے تو اخلاقی دیوالیہ پن کے اسرار تو بڑی تیزی سے کھل چکے تھے بقول محترمہ کے سرگودھا جاتے وقت گاڑی میں محترمہ کی جوان سالہ بیٹی سے غیر اخلاقی چھیڑ چھاڑ ۔محترمہ کی ملازمہ کے ساتھ بدتمیزی کے واقعات ۔ وغیرہ
    اس کےباوجود محترمہ فرما رہی ہیں کہ تب مجھ پر آہستہ آہستہ اس کے اخلاقی دیوالیہ پن کے اسرار کھلنے لگے۔
    آپ کے مضمون میں محترمہ کا یہ بیان بھی موجود ہے کہ *تنگ اور چھوٹا سا کچن تھا مولوی صیب بیج میں کھڑے ہیں اس کے مدرسے کی ایک جوان طالبہ ایک سائیڈ پر برتن دھورہی ہے دوسری چائے بنا رہی ہے اور تیسری سبزی کاٹ رہی ہے، مولانا کبھی ایک سے مذاق کرتے ہیں کبھی دوسری کی چٹکی بھرتے ہیں، میں نے گلا کھنگارا اور واپس کمرے کی طرف مڑی* ۔
    محترمہ نے جس انداز میں کچن کا نقشہ کھینچا ہے ۔ تین جوان طالبات کےلیے ہر کام الگ الگ منتخب کیا ، برتن دھونا ، چائے بنانا اور سبزی کاٹنا ۔ پھر محترمہ مولوی صاحب کو کتنی دیر تک دیکھتی رہی کہ مولوی صاحب نے اس دوران وہاں موجودساری بچیوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہے؟
    محترمہ نے وہاں شور کیوں نہیں مچایا ؟
    باہر آ کر چک کے لوگوں کو کیوں نہیں بتایا کہ مدرسے کے اندر تمہاری بچیوں کی عزتیں محفوظ نہیں ۔
    کسی دارالافتاء سے اس بارے رجوع کیوں نہیں کیا؟
    آپ نے اپنے مضمون میں محترمہ کی یہ بات بھی نقل فرمائی ہے کہ *رات کو اس کی بیوی اٹھتی تھی کسی بھی لڑکی کو آواز دیتی، دو تین گھنٹے یہ اسے اپنے خواب گاہ میں لے جاتا اور پھر اس کی بیوی اسے واپس مدرسہ میں چھوڑ آتی*۔
    یہ محترمہ نے خود ملاحظہ فرمایا یا کسی سے سننے کے بعد انہوں نے یہ بات کی ہے ؟
    کیا اس کا ثبوت بھی محترمہ کے پاس موجود ہے ؟
    کیا کوئی بھی عورت خصوصاً جب وہ بیوی کے روپ میں ہو تو ایسی گھناؤنی حرکت کر سکتی ہے ؟
    کیا محترمہ ایک شریف النفس خاتون پر تہمت نہیں لگا رہی ؟
    کیا محترمہ مولوی صاحب کی بیوی پر لگائے ہوئے الزام کو ٹھوس ثبوت اورحقائق و شواہد کی بنیادپرثابت بھی کر سکتی ہے ؟
    پھر اس میں وقت کی تعین دو تین گھنٹے کو محترمہ نے کس بنیاد پر متعین کیا؟
    مولوی صاحب کی بیوی متاثرہ بچی کو واپس مدرسے چھوڑ آتی ۔ اس کا مطلب سمجھ نہیں آ رہا ؟ جب تھی ہی مدرسے میں تو واپس چھوڑ آنے کا کیا مطلب؟
    آپ نے اپنے مضمون میں محترمہ کی یہ بات بھی نقل فرمائی ہے کہ *لڑکیوں کو یہ مسئلے بیان کرتا استاد کی عظمت اور اس کی بات ماننے کے فضائل سناتا۔*
    کیا آپ نے محترمہ کی اس بات پر ان سے سوال کیا کہ کون سے مسئلے مولوی صاحب بیان کرتا ، استاد کی عظمت اور بات ماننے کے کون سے فضائل سناتا؟
    کس وقت سناتا ؟
    کیا محترمہ نے خود وہ مسائل و فضائل مولوی صاحب کی زبانی سنے یا محترمہ کو کسی نے مولوی صاحب کے بارے میں بتایا؟
    اگر خود سنے تو بتائیں کہ کیا فضائل و مسائل تھے ؟
    اگر کسی سے سنے ہیں تو سنی سنائی پر یقین کیسے کر لیا ؟
    جبکہ حدیث پاک میں آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنی بات کافی نہیں بتلائی گئی کہ جو ہر سنی سنائی بات آگے نقل کر دے ۔
    آپ نے اپنے مضمون میں محترمہ کی یہ بات بھی نقل فرمائی ہے کہ *پہلی بیوی شریف عورت ہے اس نے مجھے بتایا جب اس نے یہ دوسری شادی کی جو اس کی دلالی کرتی ہے، اور اسے مدرسہ کی ناظمہ اور معلمہ بنایا ہوا ہے. مجھے اور اسے دو سال تک ایک ہی کمرے میں ایک ہی بیڈ پر سلاتا رہا آخر مجھ سے برداشت نہ ہوا اور طریقے سے اپنا گھر الگ کرلیا۔*
    محترمہ کی باتیں پہلی بیوی سے براہ راست ہوئیں یا فون پر یا خطوط کے ذریعے ؟
    پہلی بیوی جو کہ بقول محترمہ کے شریف عورت ہے کیا وہ اپنے بستر کی باتیں محترمہ سے شیئر کرتی رہیں ؟
    اس طرح کی باتیں کرنے کے باوجود محترمہ کے ہاں اس کی شرافت کیسے برقرار رہتی ہے ؟
    ان باتوں کو تو خبیث الفطرت عورتیں بھی کسی سے نہیں کرتیں چہ جائیکہ کہ ایک شریف عورت اپنی سوکن کے سامنے اپنے بستر کا نقشہ جو دوسال کے عرصےتک محیط ہے ،یوں کھینچ کر دکھائے۔
    پہلی بیوی نے گھر الگ بھی نہیں کیا بلکہ وہ تو آج بھی اسی گھر میں رہتی ہے ۔
    آپ نے اپنے مضمون میں محترمہ کی یہ بات بھی نقل فرمائی ہے کہ *کئی لڑکیوں سے میری بے تکلفی ہوگئی انہوں نے وہ وہ ہوشربا انکشافات کیئے یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے*۔
    کیابے تکلفی کا مطلب یہ ہے کہ محترمہ ان کنواری بچیوں سے اس طرح کی باتیں سنتی رہتی ، اور کنواری بچیاں محترمہ کے سامنے یہ سب کچھ بیان کرتی رہتیں یہاں تک کہ محترمہ پرہوشربا انکشافات ہوئے؟ ان میں سے کتنی ایسی ہیں جو اس کو بطور گواہی بتلا سکتی ہیں؟
    محترمہ تو فیصل آباد رہتی ہیں ان کی ایک آدھ ملاقات میں اتنی بے تکلفی کیسے ہوگئی؟
    آپ نے اپنے مضمون میں محترمہ کی یہ بات بھی نقل فرمائی ہے کہ *ایک میری اچھی دوست بن گئی اس نے بتایا جب بھی مولوی صاحب گھر ہوتے ہیں اس کی بیوی ان کیلئے ضرور کوئی نہ کوئی لڑکی مدرسے سے گھر بھیج دیتی ہے*۔
    محترمہ کی اچھی دوست بننے والی لڑکی کون ہے ؟ کہاں ہوتی ہے؟ کیا وہ یہ سب باتیں تسلیم کرنے کو تیار ہے ؟
    آپ نے اپنے مضمون میں محترمہ کی یہ بات بھی نقل فرمائی ہے کہ *ایک رات ایک لڑکی کو لے گئے جب وہ واپس آئی رو رہی تھی، گم صم ہوگئی، چند روز بعد مولوی صاحب کی بیوی بیمار تھی اور مدرسے نہیں آسکتی تھی . مولوی صاحب خود اچانک اندر آگئے ادھر ادھر دیکھا اس وقت مدرسے میں بیس کے قریب لڑکیاں موجود تھیں۔ اس نے اسی لڑکی کی طرف اشارہ کیا، وہ چیخنے لگی اور ہم سب ایک دوسرے کےساتھ چپک کر بیٹھ گئی*۔
    یہ کس کا بیان ہے ؟ کیا وہ یہ بیان سب کے سامنے دے گی ؟ آخر کیا وجہ تھی کہ ان بچیوں نے اپنے گھروں میں والدین بہن بھائیوں کو بتانے کے بجائے محترمہ سے یہ باتیں شئیر کیں ؟
    آپ نے اپنے مضمون میں محترمہ کی یہ بات بھی نقل فرمائی ہے کہ *مردان کا ایک نوجوان یہاں کام کرتا تھا۔*
    اس کا نام کیا تھا ؟
    محترمہ کو کس نے بتلایا؟
    کیا اب ان سے اس بارے بات ہو سکتی ہے ؟
    یہاں کام کرتا تھا ؟ یہاں سے مراد فیصل آباد یا سرگودھا؟
    کیا کام کرتا تھا؟
    آپ نے اپنے مضمون میں محترمہ کی یہ بات بھی نقل فرمائی ہے کہ *اپنی بیوی کو اس نے مدرسہ میں داخل کروایا تھا*۔
    کون سی کلاس میں داخل کروایا؟
    کس سن کی بات ہے ؟
    آپ نے اپنے مضمون میں محترمہ کی یہ بات بھی نقل فرمائی ہے کہ *ان دنوں ہوا یہ کہ مولوی صاحب کا چھوٹا بیٹا انتقال کرگیا ہم سب سرگودھا گئے، بیٹے کا جنازہ گھر میں رکھا ہوا تھا اگلی صبح تدفین تھی، سب اس گھر میں تھے وہ گھر خالی تھا مولوی صاحب دوسرے گھر گئے، ،اپنی بیوی سے کہا وہ مردان والی لڑکی بلالو، وہ لڑکی گئی اس نے بعد میں مجھے قصہ بتایا، کہ جب میں اندر گئی، چارپائی پر بیٹھ گئی مولوی صاحب غسل خانہ کے اندر تھے وہیں سے اپنی بیوی کو آواز دی تم جاو دروازہ بند کردو۔ میرا دل گھبرانے لگا* .
    ایک طرف تو محترمہ یہ کہہ رہی ہے کہ سب لوگ فوتگی والے گھر میں تھے دوسرا گھر خالی تھا۔ اس کے بعد ہی فرما رہی ہے کہ مولوی صاحب نے اپنی بیوی سے کہا *مردان والی لڑکی بلا لو* ۔
    جب گھر میں کوئی نہیں تھا گھر خالی تھا تو مولوی صاحب نے کہاں اپنی بیوی سے کہا کہ مردان والی لڑکی بلا لو؟
    اس کے بعد محترمہ نے کہا کہ *اس لڑکی نے اپنا قصہ بتایا۔*
    کب سنایا ؟
    آخر محترمہ ہی کو سنایا ؟
    اپنی بدنامی کا خوف کیسے لڑکی سے اتر گیا ؟
    جب گھر خالی تھا تو مولوی صاحب نے اپنی بیوی کو کیسے کہا کہ تم جاؤ دروازہ بند کردو ۔
    مفتی صاحب ذرا دل پر ہاتھ کر جواب دیجیے گا کہ جس کے گھر میں بیٹے کی لاش پڑی ہو کیا وہ اس وقت ایسی حرکات کرنے کا متحمل ہو سکتا ہے ؟
    بیٹا بھی وہ جو کافی عرصہ لاہور کے چلڈرن ہسپتال میں داخل رہا ہو اور وہاں سے اس کی میت گھر لائی گئی ہو ۔
    مفتی صاحب اگر سینے میں دل ہے اور دل میں احساس نام کی کوئی چیز زندہ ہے تو اسے آواز دے کر سوچیے کہ کیا ایسا ممکن بھی ہے ؟
    آپ نے محترمہ کی یہ بات سچ مان لی یا جھوٹ ؟
    آپ نے اپنے مضمون میں محترمہ کی یہ بات بھی نقل فرمائی ہے کہ *مولوی صاحب پیچھے سے آئے اچانک مجھے پکڑا اور میرا نقاب اتار دیا کہنے لگے اپنے پیر اور استاد سے کیا پردہ، میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا میں نے کا بابا جی آپ کیا کررہے ہیں ایسا نہ کریں خدا کیلئے۔*
    یہاں ایک بات قابل تعجب ہے کہ ملازمہ نے بھی یہی کہا کہ ”باباجی“ اور شادی شدہ خاتون نے بھی مولوی صاحب کے لیے وہی الفاظ دہرائے ۔ ایسا کیوں ہے ؟
    قارئین کرام !ذرا یہ بات سوچیے کہ یہ محترمہ کی مکاری کی عکاسی ہو رہی ہے یا مفتی صاحب کا قلم انگڑائی لے رہا ہے ؟
    آپ کے مضمون میں محترمہ کا یہ بیان موجود ہے کہ *میں مدرسہ پہنچی میرے پاس موبائل تھا میں نے خاوند کو فون کیا اس نے کہا، کیا ہوا ؟ اس ٹائم کیوں فون کررہی ہے؟ میں نے کہا ابھی آجاو مجھے اس جہنم سے نکالو۔ وہ آیا مجھے لے گیا، یہ واقعہ اس نے بعد میں فون پر مجھے بتایا ۔*
    یہاں اس بات کی محترمہ وضاحت کچھ یوں کر رہی ہیں کہ *یہ واقعہ اس خاتون نے مجھے فون پر بتایا* جبکہ اگلے پیرا گراف میں محترمہ یوں کہتی ہیں کہ سوچئے درندگی کی انتہا نہیں کہ *بیٹے کی لاش گھر میں پڑی ہے اور مولوی صاحب عیاشی اور خباثت کے چکروں میں پڑے ہیں۔۔۔قسم باللہ کوئی بھی یقین نہیں کرسکتا مگر جو میں نے دیکھا وہی بیان کیا* ۔
    پچھلے پیراگراف جو بات دوسری خاتون کے فون سے تعلق رکھتی تھی وہی بات اس پیراگراف میں محترمہ کا اپنی آنکھوں دیکھا حال بن جاتاہے ۔محترمہ کے لیے اور خصوصاً مفتی صاحب آپ کے لیے سوچنے کا مقام ہے !!
    اس کے بعد مفتی صاحب آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ بیان کرتی ہے کہ *بعد میں مولوی صاحب اس آدمی کے گاوں گئے اس کے پیروں پر اپنی پگڑی رکھ کر معافی مانگی کہ تم یہ بات نہیں پھیلائو، ورنہ مسلک بدنام ہوجائے گا،، مماتیوں کو ہمارے خلاف پروپیگنڈے کا موقع مل جائے گا، غلطی ہر ایک سے ہوسکتی ہے تو مجھ سے بھی غلطی ہوگئی اور میں شیطان کے بہکاوے میں آگیا، اصل میں اس لڑکے نے اسے دھمکی دی تھی کہ میں تمہیں چھوڑنے والا نہیں، یہ خوف مولوی صاحب کو معافی مانگنے پر مجبور کرگیا۔*
    پیروں پر پگڑی رکھ کر معافی مانگنے والی بات محترمہ کو کس نے بتائی؟
    لڑکا مولوی صاحب کو دھمکیاں دیتا رہا کہ میں تمہیں چھوڑنے والا نہیں ، محترمہ تک یہ بات کس باوثوق ذرائع سے پہنچی ؟
    لڑکے کی دھمکی کا کیا بنا؟
    اس لڑکے کا نام فون پتہ؟
    کیا اس بارے محترمہ نے اس لڑکے سے بھی کچھ پوچھا سنا یا نہیں ؟
    اگر کچھ پوچھا سنا تو وہ کیاہے ؟
    کیا لڑکا بھی یہ بیان دے سکتا ہے ؟

    آپ کے مضمون کے مطابق محترمہ کہتی ہے کہ *میں نے سارے حالات کی خبر وفاق المدارس کے ناظم قاری محمد حنیف جالندھری صاحب کو دی تو انہوں نے کہا تم فکر نہ کرو ہم دو طالبات اپنے اس کے مدرسے میں بطور جاسوس داخل کریں گے وہ ہمیں سارے حالات کی خبر دیں گی تب ہم ان کے خلاف کوئی کاروائی کریں گے…اللہ کو علم ہے انہوں نے اس بارے میں کچھ کیا یا نہیں*
    اس بارے میں دریافت یہ کرنا ہے کہ حالات کی خبر خط کے ذریعے دی یا فون پر ؟
    اگر خط کے ذریعے دی تو اس خط کی کوئی فوٹو کاپی وغیرہ یقیناً محترمہ نے آپ کو بھی دی ہوگی کیا وہ آپ کے پاس موجود ہے یا نہیں ؟
    مفتی صاحب کیا خود آپ کو محترمہ کی اس بات میں سچائی نظر آ رہی ہے ؟
    کیا وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ محترم قاری محمد حنیف جالندھری صاحب کا یہ مزاج ہے کہ وہ کسی کے معاملات میں ٹوہ لگانے کے لیے جاسوسی نظام بھی رکھتے ہیں ۔
    اور آیا یہ نظام صرف مولوی صاحب کے مدرسے کے لیے خاص ہے یا واقعتا قاری حنیف صاحب کے پاس اتنا بڑا جاسوسی نیٹ ورک خواتین کا موجود ہے کہ وہ ہر مدرسے میں جاسوسی کی غرض سے دو دو بچیاں داخل کر سکتے ہیں ؟
    ہمیں تو ہرگز ان سے توقع نہیں لیکن کیا آپ نے محترمہ کی بات سن کر قاری حنیف جالندھری صاحب سے اس بارے رابطہ کیا ؟
    اگر رابطہ کیا تو انہوں نے آپ سے کیا فرمایا؟
    اگر رابطہ نہیں کیا تو کیوں نہیں کیا؟
    میں محترم قاری حنیف جالندھری صاحب سے بھی گزارش کرنا چاہوں گا کہ آپ مکتب دیوبند کے مدارس بورڈ کے ذمہ دار ہیں۔آپ کے مدارس کے بارے میں ایک خاتون کی اس طرح کی الزام تراشیاں اور اسے سوشل میڈیا پر پھیلانے والے مفتی ریحان صاحب دیوبندی مدارس کو بدنام کرنے کی منظم منصوبہ بندی کر رہے ہیں ۔ یقیناً یہ سب کچھ آپ کے علم میں ہوگا ۔ آپ نے اس کے سد باب کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔؟ اگر آپ نے آج کوئی کارروائی نہیں کی تو یقیناً کل کلاں کوئی خاتون کسی دوسرے مدرسے پر الزامات و اتہامات کی بارش کرے گی اور مفتی ریحان صاحب جیسے وفاق المدارس کے سند یافتہ لوگ مدارس کی کردار کشی کریں گے۔
    اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ تمام تر باتیں اہل حق علماء کرام کو بدنام کرنے ، مدارس کی عظمت و اہمیت کو داغدار کرنے اور لوگوں کو دین سے دور کرنے کی سازش ہیں ۔محترم قاری صاحب اور ارباب وفاق اگر انہیں یوں ہی نظر انداز کر دیا گیا تو یہ بہت سارے اہل علم و فضل اور اصحاب زہد و تقویٰ کی پگڑیاں اچھلتی رہیں گی۔
    وہ شخص جس اپنا نام مفتی فرحان لکھا وہ تو گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوگیا ہے۔ میں اپنا نام فون نمبر دے رہا ہوں، مفتی فرحان خود یا کوئی بھی صاحب رابطہ کرنا چاہیں تو شوق سے کرسکتے ہیں۔ دوسری قسط بھی جلد آرہی ہے۔

    تحریر: محمد کلیم اللہ
    فون نمبر: 03062251253

    Reply
    1. 11.1

      Abdul Jabbar Nasir

      السلام علیکم
      دوستو!
      جس طرح مذکورہ ملزم کے بارے میں یہ کہنا کہ بری الزمہ ہے ، اسی طرح کسی ولی کامل کی بیٹی ہونے پر خاتون کو بھی بری الزمہ قرار نہیں دیا جاسکتا ہے، اس تحریر سے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملزم اسی کام پر ہی لگے رہتے ہیں اور ان کی پہلی بیوی سمیت قرب و جواراور زیر تعلیم بچیوں کے والدین سب بے غیرت ہیں ۔ الزام میں سچائی زیادہ انتقام نظر آتاہے ۔ ملزم اتنا ہی بڑا درندہ تھاتو کئی برس تک خاتون خاموش کیوں رہی ،کم ازکم خلع تو لے سکتی تھی ۔ممکن ہو کہ بہت کچھ درست بھی ہو مگر یہ تحریر ہی بہت کچھ غلط ہونے کی تصدیق کرتی ہے ۔بغیر کسی تحقیق اور واضح شواہد کے ایک خط اور ایک نامعلوم مفتی کی مبینہ تحقیق کی بنیاد پر اس تحریر کی اشاعت کم ازکم میری نظر میں قابل تعزیر جرم ہے اور محترم سید سبوخ شاہ صاحب سے یہ غلطی کیسے ہوئی ہماری سمجھ سے بالا تر ہے ۔ مزید یہ کہ محترم کلیم اللہ صاحب نے جو سوالات اٹھائے ہیں میں ان سے اتفاق کرتا ہوں ۔ اب اس کی مکمل تحقیق کرنا اور جو بھی ملزم (مولوی یا خاتون )ہے اس کو سزا دلانا ضروی ہے۔ اخلاق کا تقاضہ ہے کہ جب تک دوسرا موقف یا مکمل ثبوت سامنے نہیں آتے ہیں اس تحریر کو ہٹادیا جائے ، الزام ثابت ہونے پر ملزم مولوی کو نشان عبرت بنادیا جائے۔ آئی بی سی کو ملزم کا موقف بعد میں شامل کرنے کی بجائے اس تحریر کے آتے ہیں ان کا موقف معلوم کرتے اور پھر دونوں ایک ساتھ شائع کرتے مگر ایسا نہ کرکے ادارہ ہذا نے غیر اخلاقی ، غیر قانونی اور غیر شرعی اقدام کیا ہے ۔یاد رہے کہ میں ہمیشہ ملزم کا سخت ناقد رہا ہوں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ بغیر تحقیق کے ہر الزام کی حمایت کی جائے۔
      والسلام علیکم
      عبدالجبارناصر
      کراچی

      Reply
      1. 11.1.1

        عبد الرحمن عبداللہ

        بالکل صحیح فرمایا

        Reply
    2. 11.2

      Kata khan

      Aap apnay level pe b maloomaat karlain, takay aik neutral baath samnay aajay, Ya agar koi aur Mudaee jo unkay qareeb ho wo Gawah kay tawar pe paish ho.

      Reply
    3. 11.3

      munawar sultan

      is shetan molvi ki himayat karnay waly molvi ki bund aankhen kholnay k lia sura nisa ayat 109 ha:
      ha antum haulai jadaltum fil hayatit dunya fa man yujadilullah anhum yaumal qiamatay amman yakuno alaihim wakila

      “”tum dunya ki zindagi mn tu in k lia jhagar lia, phir baroz qayamat allah say in k lia kaun jhagray ga aur kaun in ki wakalat karay ga.””
      zara sochia ga kalreem saheb

      Reply
  12. 12

    محمد انور شاکر وزیر

    طویل تحریر ہے ۔ ایڈیٹر صاحب کی ایڈیٹوریل ججمنٹ اور ایڈیٹینگ پر ” انا للہ و انا الیہ راجعون” پڑ لیا۔ انتہائی ٹھنڈے دل و دماغ سے کافی غور و فکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ واقعی صحافت کو بعض اہل صحافت ہی نقصان پہنچا سکتے ہیں! مضمون نگار کے الفاظ اور الزامات کی نوعیت اور صحافتی دیانت کہاں گئی؟ لاکھ دلائل و براہین سے کوئی سمجھانے کی کوشش کریں لیکن یہ تحریر مسلکی تعصب کیساتھ ذاتی ایجنڈا اور عداوت کا نتیجہ بھی لگتا ہے (الفاظ و انداز تحریر کو مد نظر رکھ کر) اگرچہ جناب سبوخ سید صاحب سے متعلق غائبانہ معلومات تو تھی اور ان کی تحاریر بھی پڑھتا رہا ، لیکن اسی طرح کا کالم مشرقی معاشرے میں اپنی ویب سائٹ پر شائع کر کے اپنی ساکھ کو تباہ کیا۔ یا دش بخیر کہ ہم نہ تو کبھی زندگی میں گھمن صاحب سے ملے ہیں اور نہ ہی کوئی تعلق ہے لیکن اتنی بات سمجھ میں آگئ کہ شائد گھمن صاحب کے تیر نشانے پر لگ چکے ہیں ،لہذا اتنی شدت سے رد عمل بھی دیکھنے کو ملا۔ مفتی مضمون نگار ( ہمارے خیال میں کوئی فرضی نام ہے ) نے نہ صرف گھمن صاحب کو نشانہ بنایا ہے بلکہ سبوخ سید صاحب کی بھر پور معاونت سے پیر طریقت حضرت مولانا ہزاروی صاحب کے فرزند ارجمند کو بھی نہیں بخشا گیا ہے۔ نقصان کس کا ہوا؟
    محترم جناب سبوخ سید صاحب نے اپنے آپ کو ایک متعصب اور مسلکی جنگ باز کے طور پر پیش کیا ۔ یوں ان کی رپوٹیشن کو جو نقصان ہمارے خیال میں پہنچا اس ڈیمیج کا سہارا دینے کیلئے کئی برس لگ سکتے ہیں ۔ وہ اس لئے نہیں گھمن صاحب کے خلاف کچھ لکھا گیا ہے ! بلکہ ملک کے اس نازک ترین حالات میں ایک خاص مسلک کو ٹارگٹ کرنا اور ( اگر تنقید ہو تی تو کوئی مضائقہ نہیں ہوتا) اور وہاں عجیب قسم کے حالات کی تصویر کشی کرنا ، کچھ عجیب الفاظ کا استعمال سمجھ سے بالکل بالا تر نہیں کیونکہ ایجنڈا مکمل کرنا ایسے تو نہیں ہو سکتا۔ بہر حال ایسے خرافات اور مغلظات کسی منجھے ہوئے صحافی کی طرف سے ( ویب سائٹ پر ) پہلی بار دیکھنے کو ملی ۔

    Reply
  13. 13

    Abu Abd Us Samad

    السلام علیکم۔
    بھائیوں ان سب بڑے طبقے کے علماء اور مفتیان کی خاموشی اس حضرت کی عوام الناس کے ہاں مقبولیت اور مسلک کا دفاع ہے۔ اہل الحدیث (غیر مقلدین) حضرات کے خلاف وہ اسی ایک مناظر کے زور پر مسلک کا دفاع کرنے کی سعی کررہے تھے اور یہ حقیقت ہے حق شخصیات سے نہیں پہچانا جاتا بلکہ حق کو پہچان کر شخصیات کو پہچانا جاتا ہے کہ آیا فلاں حق پر ہے یا باطل ہے۔ جب شخصیت پرستی اور اکابر پرستی کا وائرس اتنا عام ہوگیا کہ ان ناموں علماء بزرگان و اکابرین کی پوجا ہونی لگی تو ایسی صورت میں مظلوم جس قدر بھی ظلم سہہ رہا ہو ہم اس کا تصور نہیں کرسکتے۔
    مولانا الیاس گھمن کے بارے میں دفاع کرنے والے بہت سے لوگ بہت متضاد باتیں کرتے نظر آئیں گے کیونکہ وہ شخصیت پرستی اور اکابر پرستی کا شکار ہیں۔ دیوبند کا نام خراب کرنے والے کو دیوبند سے جدا کرنےہی میں مسلکی سطح اور سب سے بڑھ کر اسلامی طور پر یہ فریضہ ہے۔ مولانا صاحب کی مسلک کی خاطر کی گئی خدمات اپنی جگہ مگر مظلوم کی آہ و دعا بہت قوی ہوتی ہے۔ ویسے ان الزامات لگانے کا بظاھر کوئی سبب ہی نظر نہیں آتا اور بیٹیوں جیسی قریبی بات کوئی ماں مر تو سکتی ہے نام اٹھوانا گوارہ نہیں کرسکتی واللہ العظیم۔۔۔

    یہاں پاکستانی برطانوی قوانین سے تو فیصلے کروانا ویسے بھی غیر اسلامی ہے کیونکہ یہاں شرعیت کے مخالف قوانین و برطانوی سامراج کی باقیات مسلسل جاری ہیں۔۔۔ اللہ ہمیں شرعی حکومت سے نوازے جس میں کوئی کسی کی ملامت کی پرواہ نہ کرے اور حق بیان کرے چاہے اسکی کوئی قیمت ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔۔۔

    اس بی بی مظلومہ کو ہی معلوم ہوگا جو اس کے دل پر بیتی ہے اور بات اس نوبت پر آئی ہے تو اس کا کوئی وسیع پس منظر ہے 3سال ایک طویل عرصہ ہے ۔۔۔ اللہ نے اس بی بی کو آزمایا اور اس نے دنیاوی سطح پر جو اس کے بس میں تھا کرلیا ورنہ ہمارا معاشرہ کہاں حق گوئی کی اجازت دیتا ہے۔
    وہ عدالت میں الیاس گھمن کو بندکروانے یا کیس کروانے جاتی اور مولانا کے جیالے اس کو جیل میں ڈلوا دیتے۔۔۔ یہاں عدل و انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔۔۔

    ابھی یہ جھگڑا تو اس مالک الملک کے سامنے ہی حل ہوگا ان شاء اللہ تعالیٰ

    اللہ بی بی کو صبر دے اور اسکی اولاد کے مستقبل کی حفاظت فرمائے اور اللہ اسے مظلوم ہونے کی صورت میں کبھی مزید آزمائش میں نہ رکھے۔

    ربنا لا تجعلنا مع القوم الظالمین
    اللھم آمین یا رب العالمین
    والسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    اخوکم : ابو عبدالصمد البشاوری

    Reply
  14. 14

    aizaz

    بہت اچھے کلیم صاحب….
    کسی کے نام پہ بات بنانا بہت آسان ہے. لیکن علماء کو چاہیے کہ آگے بڑھے اور معاملے کو حل کریں. اور ذمہ داروں کو عوام کے سامنے کریں….
    بجاءے کہ عوام میں سے لوگ اپنی اندر کی آگ اس طرح علماء پہ کیچڑ اچھال کر ٹھنڈی کریں….

    Reply
  15. 15

    ishfaq99ml@gmail.com

    mufti rehan sahab ager ap apny apko bara deen dar samjhty hain bara mufti samjhty aain aur apny apko dewo bandiat k nam se tabeer karty hain to hamen wo sab kuch bataiye jo moulviAbd ul jabar ne pochi hain unka jawab jald az jald arsaal karin wesy mujhy to apko mufti kehty huwe b sharam arahi hai agr ap waqai mufti aain to apni shahda tul almia aur darul ifta wali sanad to shaya kar dain sab ko pata to chal jay k ap mufti ho zindgi main pehli bar aisa mufti sahb dekhmy ko mila hai jo itny bary masly main baghair tabqiq k bat ko agy pohnch raha hai muslim sharif ki hadis hai jo baghair tahqiq k bat ko agy phelay usky jhota hony k liye itna hi kafi hai ap kahan k mufti hain mere dil main to boht shouq peda ho raha hai apko dekhny k liye apki degrion ko dekhny k liye agr ap waqi main haqiqi bap k bety hain to apni shakal aur digrion ko zaror shaya karin gai hamen boht shidat se intzar hai aur logo ka kia qasor agr waqai main ap aik mufti ho es tarah ki be bunyad baten shaya karin gai to aam log to ap se do qadam agy hi rahin gai na khair ye dunya to kheti hai jo kasht karo gai kal wohi milna hai aur aan insha Allah ulmae haqa ko Allah kabi ruswa ni karin gai aur mera eman aai k ye sab be bunyad baten hain aur sirf haq se dushmni ka aik rasta hai aur kuch ni yad rakhna k jhot bs jhot hota hai ap ko jawb dena pary ga rehan sahb ta k ham asal mujrim tak pohnch sakin aur saza dila sakin agr apny jawab deny main takheer ki to Allah apko apke group ko tabaho barbad kary hamari duwa es dunia main b aur akhrat main b dard naak azaab mily apko logo ko agr apny jawab irsaal na kia apni shanakht na karai to

    Reply
  16. 16

    شیخ ہارون الرشید، اسلام آباد

    یہ مضمون کئی دنوں سے سوشل میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے۔ ہر طرح کے لوگ اپنے اپنے انداز میں تبصرے کر رہے ہیں لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ مفتی ریحان صاحب آگ لگانے کے بعد بالکل خاموش ہیں۔ مختلف تبصروں میں انکی ذات پر بھی بحث کی گئی ہے لیکن مفتی صاحب سامنے نہیں آ رہے۔ کچھ تو ہے جِس کی پردہ داری ہے۔

    Reply
  17. 17

    atiq ur rahman

    mere tamam bare mdaris ke ulama aor wifaq ke zemadaran se guzarish ha ke es muhamle ka hal karen sajeedgi se es bare me qadam uthaen ………………………..aor molana ilyas gumman aor khatoon se guzarish ha kesi aala form par masala ke wazahat karen is tarah khamoshi se deen ko badnaam n karen

    Reply
    1. 17.1

      Sajid Ali

      khatoon har forum pe tu jaa chukki. Deobandion k sab bary chup rahy. Isi liye ye nobat i

      Reply
  18. 18

    عبد الرحمن عبداللہ

    میرا خیال ہے کہ اس وقت بہتوں نے بہت کچھ بول دیا ، انہوں نےبھی جن کا ان واقعات سے براہ راست تعلق تھا ، اور انہوں نےبھی جن کا کوئی تعلق نہیں تھا ، ہر ایک نے اپنی بساط کے مطابق زبان کھولی ہے ، جو کہ ہر ایک کا حق نہیں بنتا، ہمیں اسلام کی نصیحت یہ ہے کہ بلا ثبوت بات نہ کرو ، جس کے پاس ہے وہ ضرور کرے ، اور وہ کر بھی رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بڑے علماء اس وقت یقینا حالات کا جائزہ لے رہے ہوں گے، ان کا بھی موقف سامنے آہی جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری گزارش ہے کہ ہمیں دوسروں کے بارے میں لب کشائی کرنے کے بجاے اپنی مظلومین پر ترس کھاتے ہوئے اپنی عافیت کے لیے دعائیں کرنی چاہییں کہ کہیں شیطان ہمیں نہ بہکا دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ظالم جو بھی ہو اسے کیفردار تک پہنچانے کی دعا کر نی چاہیے

    Reply
  19. 19

    عبد الرحمن عبداللہ

    کیا عجب بات ہے کہ اب وہ خاتون اور مفتی ریحان بالکل خاموش ہیں !!! اس معاملہ میں بہت سی پیچیدگیاں نظر آرہی ہیں ، اس میں کچھ کہنا مناسب نہیں لگتا ، میری قاری حنیف جالندھر ی صاحب سے گزارش ہے کہ اس معاملے کو واضح فرمائیں تاکہ عوام کی بے چینی جلد از جلد دور ہو سکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ خاموشی دونوں طرف سے ہی کچھ عجیب سی ہے۔۔۔۔۔!!!

    Reply
  20. 20

    میاں شفیق بالاکوٹی

    آپ کے تمام سوالات معقول ہیں ۔ایسے ہی ایک سوالنامہ مولانا سلیم اللہ خان صاحب، مولانا احمد لدھیانوی کو بھی لکھ بھیجیں اور پھر یکھیں جواب کیا ملتا ہے۔صنف نازک پر اگر واقعی ظلم ہوا ہے تو پھر گھمن صاحب کی طرفداری کرنے والے اپنا محاسبہ کریں اور اگر یہ سب باتیں بے بنیاد ہیں تو بھر پروپیگنڈہ کرنے والے اپنی آخرت کی فکر کریں

    Reply
  21. 21

    Junaid

    Esi kahani to mufti rehan sb ke bare me – me bhi likh sakta hun to kya kisi aam admi ke likhne se uspar yaqeen karna durust hoga mufti rehan
    sbjawab dejiy

    Reply
  22. 22

    Abdullah Mumtaz

    دب دے پہلے تو عرض ہے کہ “وماأبرئ نفسي” اس لیے ممکن تو کچھ بھی ہے،لیکن یہ پورا واقعہ پڑھنے کے بعد محسوس ہوا کہ شاید کوئی خوبصورت افسانہ ہے، خیر معترض کا کام تھا الزسم لگانا انھوں نت اپنا کام کیا اس سے کہیں زیادہ افسوس مجھے ان پر ہے جو اس بے سروپا واورہ کو پڑھ کر بھی اس کے افسانوی جھوٹ کا اندازہ نہیں لگا سکے. آخر کوئی تحریر پڑھتے وقت عقل کو بھی استعمال رکھنا درست ہے یا نہیں یا بس کوئی خدائی تحریر سمجھ کر اس کی تمام باتوں کو سو فی صد درست مان لیجائے یہ کوئی دانشمندی ہے؟
    اتنا بڑا الزام “زنا” کا اس شخص نے لگا ڈالا کہ شریعت نے قتل جیدے سنگین جرم کے ثبوت کے لیے دو گواہ کا مطالبہ کیا؛لیکن زنا کے ثبوت کے چار گواہ لازم کیے جن میں سب کا بیان ایک دوسرے کے موافق ہو، چار سے کم گواہ ہونے یا پھر کسی کا بیان مختلف ہونے کی صورت میں نہ صرف گواہی رد کردی؛بل کہ اسی کوڑے لگانے کا حکم دیا.
    مفتی ریحان جو اصل جاہل ریحان ہوگا اس کی بات کو حدیث مسلسل سمجھ کر سب لوگ قبول کرلیے اور ان سے دلیل تک کا مطالبہ نہیں کیا؟؟
    یہ مدجودہ نظام کی وجہ سے ذہنیت بنی ہے کہ جس پر الزام لگے دفاع اس کے ذمے ہوتا ہے حالاں کہاسلامی مزاج یہ ہے کہ الزام لگانے والا اپنے دعوی کو ثابت کرے.
    آپ لوگوں کو چہیے تھا کہ مفتی (من المفت) ریحان کو ڈھونڈتے اور بصوفت عدم ثبوت اسے جوتے لگاتے؛ اگر اس کے یا “محترمہ” کے پاس ثبوت ہیں تو عدالت جائے اور ثابت کرے. پھر گھمن کی جو بھی سزا تجویز ہو اس کی میری طرف سے بھی حمایت ہوگی.

    Reply
  23. 23

    عبدالسميع

    ميري اكابر سے گزارش هیکہ اس واقعے کی جلد از جلدفقهي اور شرعي نقطه نظر سے تحقيق كر كے جو فكري انتشار پھیلا ہوا ہے اس کے سد باب کی کوشش کی جاے ۔۔۔۔اس میں مسلک کی بدنامی کو ایک طرف رکھ کر تحقیق کی جاے اس دو طرفه پروپگنڈے كے بعداكابر ديوبند كے لئے خاموشي كا كوئ جواز باقي نهيں رهتاتا کی اگر یہ الزامات ثابت ہوں تو مجرم کو کیفر کردار تک پہنچا کر ائنده اس طرح كي ذهنيت كے لوگوں كے لئے نشانه عبرت بنايا جا سكے تا كه ائنده كسي كو ايسے گھناونے فعل كے لئے مذهب كا كندھا استعمال كرنے كي جرات نه ھو سكے ۔
    اور اگر يه الزامات ثابت نه هوے تو پروپگنڈے ميں شريك تمام لوگوں كو ايسي قرار واقعي سزا دي جا سكے كه ائنده كسي كو اس طرح كسي كي پگڑي اچھالنے كي همت نه هو سكے۔
    اور اس حوالے سے جلد از جلد ايك مشتركه بيان بھي جاري كيا جاے جسے هم اپنے
    موقف كے طورپرپيش كر سكيں۔

    Reply
  24. 24

    Zahid Ahmad

    Bot Afsos Ke Bat Ha……. Ya Tahreer Parh kar He Lagta Ha Joth Ha…. Ya To Asay Bat Kar Rahy Hain J.say Molana Ko In Kamu K Elava Koi Aur 2sra Kam He Ni Tha…. Koi Bat Ni Asay Ilzamat To Anbiyah par B lagay Hain B.B Ayesha Par b Laga Tha…. Asal Mai Molna 1 Elmi Admi Hain Aur Bot A6a Kam kar rahy Hain Mukalfeen Ni Chatay K Asay Kam chalta Rahy…. dosri bat ya ha k ya website walay apni Rating Bharanay k Leya b Asay Movad apni website par daltay hain jo logun ko attract kary aur log un ke site par aain j.say k mai aaya hun… Mai atna koi phara likha ni hun 1 University ka Student hun bus atna khata hun k Ya Joth Ha… Joth Na Hota To Aj Tak Molana ko Na chortay… evidence in logun k pas ha he ni mujy ni lagta k ya kuch Un khatoon ka b beyan ho ga Bal k ya Jo Mufti sab ( Ya B Mufti Hain 1 Mufti wo hota ha jo Time kharch karta ha paisay kharch karta ha pharta ha phr ja k degree laita ha Ya wo mufti hain jo kuch kharch ni kartay muft mai fitna dalty hain muft mai ilzam lagaty hain ya wo walay mufti hain) nay pas say likha ha.

    Reply
  25. 25

    Junaid

    All molvies are harrami no exception

    Reply
  26. 26

    Abd ur Rahman Khogman Yousafzai

    سب جھوٹ ہے کسی کا ذات پر تہمت لگانا کوئی معمولی بات نہیں۔۔۔ اگر اآپ اس دنیا میں گھمن صاحب کو بدنام کرتا ہے تا ذرا سوچئے کہ آخرت میں اس کا کیا حشر ہوگا۔۔۔اپنی ذاتی مفادات اور بدلہ لینے کےلئے کچھ اور راستہ اختیار کرو۔۔۔۔

    Reply
  27. 27

    ابو نعمان

    میرے خیال میں علماء کے بورڈ کا اجلاس رکھا جائے
    جس آدمی فرض کرو فرضی مولانا ریحان صاحب ہیں
    اپنا نام سے سمیت اپنے ادارے اور بڑے مفتی کا نام بھی ظاہر کردے, اس کے بعد گواہان سامنے رکھے جائیں
    معاملے کی تہہ تک جایا جائے
    اگر الزام ثابت ہوجائے تو ملزم کو سزا دی جائے
    اور جو لوگ متاثر ہوں ان کو حفاظت فراہم کی جائے
    اگر الزامات بے بنیاد ہوں تو الزام لگانے والوں کو سزا دی جائے
    اور اس ادارے کو بند کیا جائے, اور جرمانہ لگایا جائے, جس ادارے نے بلا تحقیق مضمون کو شائع کیا ہے,

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: برائے مہربانی اسے شیئر کیجئے۔۔۔!! شکریہ