[pullquote]کراچی کے اسپتالوں میں کورونا کی مزید تشخیصی سہولیات مہیا کی جائیں، نمائندہ ڈبلیو ایچ او[/pullquote]
کراچی: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے کراچی کے پرائیویٹ اور سرکاری اسپتالوں میں بہترین تشخیصی سہولیات اور آئسولیشن وارڈز بنائے گئے ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ شہر کے مزید سرکاری اسپتالوں میں تشخیصی سہولیات مہیا کی جائیں تاکہ بڑے پیمانے پر مریض ان اسپتالوں میں آنے کی صورت میں فوری طور پر ان کے ٹیسٹ کیے جا سکیں۔
عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر پالیتھا ماہیپالا نے کہا کہ چین میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد پاکستان نے فوری اقدامات کیے اور وبا سے نمٹنے کے لیے قومی رسپانس پروگرام ترتیب دیا جو کہ دنیا کا بہترین پروگرام ہے، پاکستان میں اس وقت سات لیباٹریاں کورونا وائرس کی تشخیص کی صلاحیت رکھتی ہیں جہاں اس وقت 15000 ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت 2000 آئسولیشن بستر تیار رکھے گئے ہیں جو کہ موجودہ صورتحال میں کافی بڑی تعداد ہے۔
اس سے قبل عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر پالیتھا نے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے اوجھا کیمپس کا دورہ کیا اور وہاں پر کورونا وائرس کی تشخیصی لیبارٹری اور آئسولیشن وارڈ کا معائنہ کیا۔
ڈاکٹر پالیتھا نے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے آئسولیشن وارڈ اور لیبارٹری کا بھی معائنہ کیا اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی سے بھی ملاقات کی۔
عالمی ادارہ صحت کے نمائندے نے سندھ میں عالمی ادارہ صحت کی نمائندہ ڈاکٹر سارہ سلمان کے ساتھ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو سے بھی ملاقات کی اور محکمہ صحت کو کورونا وائرس کی تشخیصی کٹس، ماسک اور دیگر سازوسامان کی فراہمی کی پیشکش بھی کی۔
بعد ازاں ڈاکٹر پالیتھا ماہی والا کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے پاکستان کا نیشنل ریسپانس پروگرام دنیا کا بہترین پروگرام ہے اور اب یہ لوگوں پر منحصر ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس مہلک بیماری سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات پر کتنا عمل کرتے ہیں۔
ڈاکٹر پالیتھا کا کہنا تھا کہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ صابن اور پانی سے 20 سیکنڈ تک بار بار اپنے ہاتھوں کو دھوئیں، صابن اور پانی نہ ہونے کی صورت میں میں ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال کریں، نزلہ زکام کی صورت میں گھروں تک محدود رہیں اور کھانسی بخار اور سانس لینے میں تکلیف کی صورت میں میں بڑے اور مخصوص اسپتالوں میں ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
[pullquote]ن لیگ کا کورونا کے معاملے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ[/pullquote]
اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) نے کورونا وائرس کے خطرات کے پیش نظر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کردیا۔
مسلم لیگ (ن) نے کورونا وائرس کے حوالے سے حکمت عملی بنانے کے لیے مشترکہ اجلاس بلانے کی درخواست اسپیکر قومی اسمبلی کو جمع کرادی ہے۔
آج ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے سینیئر نائب صدر و سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کورونا کی روک تھام سے متعلق اقدامات پر ایوان کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایوان کو بتایا جائے کہ حکومت کورونا وائرس سے نمٹنے کی کیا تیاری کررہی ہے؟
سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس پوری دنیا کو لپیٹ میں لے رہا ہے لیکن ہماری حکومت ابھی صرف مشاہدہ کر رہی ہے۔
اس دوران وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے ایوان کو بتایاکہ ملک میں کورونا وائرس کے 21 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے لہٰذا معاملے پر خوف و ہراس نہ پھیلایا جائے۔
بعدازاں کورونا وائرس کے باعث قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا۔
خیال رہے کہ آج بھی کورونا وائرس کا ایک مریض کراچی سے سامنے آیا ہے جس کی عمر 52 سال بتائی گئی ہے اور وہ 2 روز قبل اسلام آباد سے کراچی پہنچا تھا۔
یہ کیس سامنے آنے کے بعد ملک میں کیسز کی مجموعی تعداد 22 ہوگئی تھی جن میں سے اب تک سندھ میں کیسز کی تعداد 16، گلگت بلتستان میں 3، اسلام آباد میں 2 جبکہ کوئٹہ میں ایک کیس سامنے آیا ہے تاہم اب معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اچانک کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 28 بتادی ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بھی آج ہوا جس میں کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر ایران اور افغانستان کے ساتھ مغربی سرحدیں ابتدائی طور پر 14 روز کیلئے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سرحدوں کی بندش کا اطلاق 16 مارچ 2020 سے ہوگا۔ اس کے علاوہ 23 مارچ کو ہونے والی پریڈ بھی منسوخ کردی گئی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں 5 اپریل تک مدارس سمیت تمام تعلیمی ادارے بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
[pullquote]پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 28 ہوگئی، بڑے اجتماعات پر پابندی[/pullquote]
پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 28 ہوگئی جس کی تصدیق وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کی ہے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پاکستان میں اس وقت کورونا وائرس کے تصدیق شدہ 28 کیسز ہیں ، کورونا وائرس سے متعلق نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کی کل میٹنگ ہوگی، کورونا وائرس سے متعلق قومی سطح پر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ آج قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے صرف تین ائیرپورٹس (کراچی، لاہور اور اسلام آباد) پر انٹرنیشنل پروازیں آسکیں گی ، بین الاقوامی پروازیں صرف اسلام آباد ، لاہور اور کراچی سے آپریٹ ہوں گی۔
ظفر مرزا نے بتایا کہ ملک میں تمام بڑے اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی ہے، ریاست کے لیے لوگوں کے تحفظ سے بڑھ کر کچھ نہیں، شادی ہالز میں تقریبات پر دو ہفتوں کیلئے پابندی لگائی گئی ہے، دو ہفتوں کیلئے سینما گھروں اور تھیٹرز کو بند کیا جارہا ہے۔
ظفر مرزا نے بتایا کہ مذہبی اجتماعات سے متعلق مشاورت کی ذمہ داری وزیر مذہبی امور کو دی گئی ہے، ملک میں تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے کل سے بند کیے جارہے ہیں، ملک میں اسکول ابھی تین ہفتوں کے لیے بند کیے جارہے ہیں، کچہریوں اور کورٹس سے متعلق چیف جسٹس پاکستان سے رابطہ کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم درخواست کریں گے کہ سول کورٹس میں تاریخیں 3 ہفتوں کیلئے بڑھادی جائیں ، درخواست کریں گے کہ جوڈیشل مجسٹریٹس اور سیشن کورٹ کے ججز جیلوں میں جاکر ریمانڈ اور ضمانت کے فیصلے کریں، جیلوں میں قیدیوں کے ملاقاتیوں پر تین ہفتے کےلیے پابندی عائد کی گئی ہے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ تفتان میں بڑی محنت کرکے ایک موبائل لیبارٹری بھی قائم کی ہے ، کورونا کا مشتبہ مریض وہ ہے جو حال ہی میں باہر سے آیا اور علامات ظاہر ہوئیں یا اس سے کوئی قریبی رابطے میں ہو، کورونا وائرس کی تشخیص سے متعلق ہماری استعداد میں اضافہ ہوا ہے ، پاکستان کے پاس کورونا تشخیص کیلئے صلاحیت اور کٹس موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت 8 لیبارٹریوں سے کورونا کو ٹیسٹ کیا جاسکتا ہے، پاکستان میں 9 لاکھ افراد کی اب تک اسکریننگ کرچکے ہیں۔
[pullquote]ملک میں فی الحال نیشنل ایمرجنسی کا نفاذ نہیں کیا جارہا، معید یوسف[/pullquote]
وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈویژن معید یوسف نے کہا کہ ملک میں فی الحال نیشنل ایمرجنسی کا نفاذ نہیں کیا جارہا، تفتان سے متعلق جو تصاویر دکھائی جارہی ہیں وہ آئیسولیشن کی نہیں۔
معید یوسف نے کہا کہ کرتارپور راہداری سے متعلق پاکستانی شہریوں کے جانے پر پابندی ہوگی، کرتار پور راہداری سے بھارتی یاتری کرتارپور تک آسکیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ کورونا کے معاملے پر قومی کوآرڈینشن کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے، کل چار بجے پہلی میٹنگ ہورہی ہے، کل کمیٹی مزید فیصلے کرے گی ، کمیٹی کا اجلاس روز ہوگا۔ معاون خصوصی صحت کوآرڈینیشن کمیٹی کے سربراہ جبکہ صوبائی اور ملٹری اسٹیک ہولڈرز ممبرہوں گے۔
[pullquote]میڈیا کے بغیر کورونا وائرس سے متعلق قومی جہاد پورا نہیں ہوسکتا، فردوس عاشق[/pullquote]
اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ میڈیا کے بغیر کورونا وائرس سے متعلق قومی جہاد پورا نہیں ہوسکتا، میڈیا کا گلا گھونٹنا نہ حکومت کا ایجنڈا ہے اور نہ حکومت کی پالیسی۔
انہوں نے کہا کہ جیو کو نہ میں نے بند کیا نہ میں اس میں پارٹی یا مدعی ہوں، اگر کسی کے ساتھ کوئی نا انصافی ہوئی ہے تو میں اس کے ساتھ کھڑی ہوں۔
خیال رہے کہ آج بھی کورونا وائرس کا ایک مریض کراچی سے سامنے آیا ہے جس کی عمر 52 سال بتائی گئی ہے اور وہ 2 روز قبل اسلام آباد سے کراچی پہنچا تھا۔
یہ کیس سامنے آنے کے بعد ملک میں کیسز کی مجموعی تعداد 22 ہوگئی تھی جن میں سے گلگت بلتستان میں 3،کراچی سمیت سندھ میں 16، اسلام آباد میں 2 جب کہ کوئٹہ کا ایک کیس شامل تھا تاہم اب معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اچانک کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 28 بتادی ہے۔
[pullquote]کورونا وائرس کا خوف: کراچی آرٹس کونسل میں تاحکم ثانی تمام تقریبات منسوخ[/pullquote]
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر کراچی آرٹس کونسل میں تاحکم ثانی تمام تقریبات منسوخ کر دی گئیں۔
صدر کراچی آرٹس کونسل کے مطابق تقریبات منسوخ کرنے کا فیصلہ ممبران کی صحت کے پیش نظرکیا گیا ہے۔
فیصلے کے بعد آرٹس کونسل میں ہونے والی تمام ادبی و تعلیمی سرگرمیاں منسوخ کردی گئیں۔
خیال رہے کہ قومی سلامتی کمیٹی نے افغانستان اور ایران سے ملحقہ سرحد کو 2 ہفتوں کے لیے بند کردیا ہے جبکہ ملک بھر کے تعلیمی ادارے اور مدارس کو بھی 5 اپریل تک بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کورونا وائرس کو عالمی وبا قرار دے چکا ہے اور پاکستان میں کورونا وائرس کے اب تک 28 کیسز رپورٹ ہوئے جن کی بڑی تعداد کراچی سمیت سندھ میں سامنے آئی ہے۔
اب تک سندھ میں سامنے آنے والے کیسز کی تعداد 16، گلگت بلتستان میں 3، اسلام آباد میں 2 ہے جب کہ کوئٹہ میں ایک کیس سامنے آیا ہے۔ ان میں سے کراچی میں زیرعلاج 2 مریض مکمل طور پر صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔
[pullquote]پاکستان بھر میں تعلیمی ادارے 5 اپریل، ایران اور افغان بارڈرز 14 روز کیلئے بند ہونگے[/pullquote]
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر ایران اور افغانستان کے ساتھ مغربی سرحدیں ابتدائی طور پر 14 روز کیلئے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سرحدوں کی بندش کا اطلاق 16 مارچ 2020 سے ہوگا۔ اس کے علاوہ 23 مارچ کو ہونے والی پریڈ بھی منسوخ کردی گئی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں 5 اپریل تک مدارس سمیت تمام تعلیمی ادارے بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں کورونا وائرس کی روک تھام سےمتعلق حکمت عملی پرغور کیا گیا اور معاون خصوصی برائے صحت ظفرمرزا نے اجلاس کو صورتحال سے آگاہ کیا۔
اجلاس میں آرمی چیف، سربراہ پاک بحریہ اور سربراہ پاک فضائیہ نے بھی شرکت کی۔
اجلاس کے بعد وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ 5 اپریل تک ملک بھر کے تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس فیصلے کا اطلاق تمام نجی و سرکاری اسکولز، کالجز، جامعات، ووکیشنل سینٹرز اور مدارس پر ہوگا۔
[pullquote]سرحدوں کو آئندہ 14 دن کیلئے بند کرنا ہوگا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی[/pullquote]
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ قوم کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، صوبے اور مرکزی حکومت ہر لمحے کی صورتحال پرنظر رکھے ہوئے ہیں، اللہ کا کرم ہے پاکستان میں کورونا وائرس کی وبا کنٹرول میں ہے۔
وزیرخارجہ نے بتایا کہ بارڈر کو اگلے 14 روز کیلئے بند کرنا ہوگا، رائے ونڈ کے اجتماع کو بھی مختصر کردیاگیا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جن ممالک نے پیشگی اقدامات نہیں کیے تھے وہ نقصان اٹھا رہےہیں، ہمیں لوگوں کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے ، غیر ضروری سفر سےگریز کیاجائے، غیر ضروری سفر سےگریز کرنا عوام کیلئے بہتر ہے، ہمیں بڑے بڑے میلوں کو نظر انداز کرناہوگا، صوبائی حکومت روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کی نگرانی کریں، جیل میں موجود قیدیوں سے ملاقات کرنےوالوں کو کچھ وقت کیلئے احتیاط کرناہوگا، ایک مضبوط حکمت عملی کے تحت اس وبا سے مقابلہ کرناہوگا۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سنیما گھروں، شادیوں اور عوامی اجتماعات سے گریز کی اپیل کی۔
یاد رہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کورونا وائرس کو عالمی وبا قرار دے چکا ہے۔ پاکستان میں کورونا وائرس کے اب تک 22 کیسز رپورٹ ہوئے جن کی بڑی تعداد کراچی سمیت سندھ میں سامنے آئی۔
اب تک سندھ میں سامنے آنے والے کیسز کی تعداد 16 (15 کراچی اور ایک حیدرآباد)، گلگت بلتستان میں 3، اسلام آباد میں 2 ہے جب کہ کوئٹہ میں ایک کیس سامنے آیا ہے۔ ان 22 کیسز میں سے کراچی میں زیرعلاج 2 مریض مکمل طور پر صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔
خیال رہے کہ کورونا وائرس 125 سے زائد ملکوں تک پھیل گیا ہے، دنیا بھر میں ہونے والی اموات کی تعداد5 ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔
دنیا بھر میں ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے،اب تک 70 ہزار سے زائد صحت یاب ہوچکے۔
[pullquote]کورونا وائرس: خیبرپختونخوا میں اسکول بند، عوامی اجتماعات پر پاپندی عائد[/pullquote]
پشاور: کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر خیبرپختونخوا میں اسکولز کو 15 روز کے لیے بند اور کسی بھی قسم کے عوامی اجتماعات پر پاپندی عائد کردی گئی۔
محکمہ داخلہ خیبرپختونخوا کی جانب سے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ایک مراسلہ ارسال کردیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے پیش نظر عوامی اجتماعات پر 15 دن تک پاپندی ہوگی لہٰذا ڈپٹی کمشنرز عوامی اجتماعات کی اجازت نہ دیں۔
قبل ازیں صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ کوروناوائرس کے باعث خیبرپختونخوا میں تعلیمی ادارے کل سے 15 روز کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ اجلاس میں تمام ہاسٹل بند کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
صوبائی وزیر صحت نے بتایا کہ صوبے میں تمام تہوار اور جیلوں میں ملاقاتیں معطل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا جب کہ وزیراعلیٰ محمود خان نے سوات میں اپنا جلسہ بھی ملتوی کردیا ہے۔
یاد رہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کورونا وائرس کو عالمی وبا قرار دے چکا ہے جب کہ پاکستان میں بھی کیسز سامنے آنے کے بعد وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے صوبہ سندھ میں 30 مئی جب کہ بلوچستان میں 31 مارچ تک تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔
پاکستان میں کورونا وائرس کے اب تک 22 کیسز رپورٹ ہوئے جن کی بڑی تعداد کراچی سمیت سندھ میں سامنے آئی ۔
اب تک سندھ میں سامنے آنے والے کیسز کی تعداد 16، گلگت بلتستان میں 3، اسلام آباد میں 2 ہے جب کہ کوئٹہ میں ایک کیس سامنے آیا ہے۔ ان 22 کیسز میں سے کراچی میں زیرعلاج 2 مریض مکمل طور پر صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔
[pullquote]کورونا کا خوف: پی ایس ایل میں شریک غیر ملکی کھلاڑی اپنے وطن روانہ[/pullquote]
کراچی : کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں شریک غیر ملکی کھلاڑی اپنے وطن روانہ ہوگئے۔
پشاور زلمی کے ویسٹ انڈین کھلاڑی کارلوس براتھ ویٹ، ملتان سلطانز کے رائیلی روسو بھی وطن روانہ ہوگئے۔
اپنے الوداعی بیان میں روسو نے کہا کہ بد قسمتی سے پی ایس ایل کا مزید حصہ نہیں ہوں گا، ملتان سلطانز کی نمائندگی کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، پاکستانیوں کی میزبانی پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، پی ایس ایل میں شرکت یادگار تجربہ رہا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل ٹیمیں انٹرنیشنل پلیئرز کے بجائے مقامی کھلاڑیوں کو لے سکتی ہیں۔
پشاور کی ٹیم میں حماد اعظم کو شامل کیے جانے کا امکان ہے اور پی ایس ایل کے نئی پلیئنگ کنڈیشنز کے مطابق ٹیمیں مقامی کھلاڑیوں کو شامل کرسکتی ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے کورونا وائرس کے پیش نظر پاکستان سپر لیگ فائیو میں شامل تمام غیر ملکی کھلاڑیوں کو واپس جانے کی پیشکش کی تھی۔
پی سی بی اور پی ایس ایل مینجمنٹ کا کہنا ہے کہ جو غیر ملکی کھلاڑی واپس اپنے ملک جانا چاہتے وہ جا سکتے ہیں۔
پی سی بی کا کہنا ہے قانون کے مطابق تمام ٹیموں کو متبادل کھلاڑیوں کے انتخاب کی اجازت ہو گی، جس کی منظوری ایونٹ ٹیکنکل کمیٹی دے گی۔
کرکٹ بورڈ کے مطابق 9 غیر ملکی کھلاڑی پہلی دستیاب پرواز سے اپنے وطن جا رہے ہیں جن میں پشاور زلمی کے ٹام بینٹن، لیام ڈاسن اور لیوس گریگری، لیام لیونگسٹن اور بریتھ ویٹ، کراچی کنگز کے ایلکس ہیلز ،کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے جیسن رائے اور ٹائمل ملز جب کہ ملتان سلطانز کے رائیلی روسو اور جیمز ونس شامل ہیں۔
کراچی: پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2020 کے شیڈول میں تبدیلی کردی ہے اور ایونٹ کے پلے آف میچز کو سیمی فائنل اور فائنل میں تبدیل کر دیا ہے۔
پی سی بی کے مطابق شیڈول میں تبدیلی تمام ٹیموں کے مالکان کی رضامندی سے کی گئی ہے۔
پی سی بی کے فیصلے کے مطابق پی ایس ایل 2020 کو چار روز تک محدود کردیا گیا ہے اور نئے شیڈول کے مطابق اب 34 کی بجائے 33 میچز کھیلے جائیں گے۔
نئے شیڈول کے مطابق دونوں سیمی فائنلز 17 مارچ کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے جائیں گے۔
خیال رہے کہ کورونا وائرس 125 سے زائد ملکوں تک پھیل گیا ہے، دنیا بھر میں ہونے والی اموات کی تعداد5 ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔
دنیا بھر میں ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے،اب تک 70 ہزار سے زائد صحت یاب ہوچکے۔