پاکستان اور افغانستان کے عوام کو انڈین لابی نے ایک دوسرے کا مخاللف کس طرح بنا دیا

عرصہ دراز سے افغانستان میں غیر ملكی اپنے مفاد کی خاطر کبھی کسی سیاسی اور کبھی کسی عسکری گروپ کو ڈالر دے کر افغانستان کا امن تباہ کرواتے رہے ۔انڈیا یہ بات بھانپ گیا تھا اگر وہ افغانستان کو پاکستان کے خلاف اپنا بیس کیمپ بنا لے تو وہ پاکستان اور افغانستان میں اپنے مفاد کی جنگ آسانی سے لڑ سکتا ہے ،اسی بات کو پالیسی بناتے ہوئے انڈین نے را کے ایجنٹ افغانستان اور پاکستان میں پھیلا دیئے اور انہیں ایجنٹوں نے افغانستان کے سیاسی عسکری گروہوں سے بندے خریدنا شروع کر دیے جنہوں نے پاکستان میں پیسے کے زور پر لسانی مذہبی تنظیمیں بنوائیں اور انہی تنظیموں کے ذریعہ پاکستانی کی افواج اور پاکستان کے اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ کیا گیا جس کا مقابلہ پاکستان نے بڑے احسن طریقے سے کیا اور بہت سارے غیر ملکی ایجنٹوں کو گرفتار کیا جس میں #یادو# سرفہرست ہے ۔

بات کو مختصر کرتے ہوئے اصل موضوع پر آتے ہیں،انڈین انٹیلیجنس ایجنسی #را# نےافغانستان اور پاکستان کے بارڈر کے آر پار انھی تنظیموں کے ذریعے پشتو سپیکنگ نوجوانوں کو خریدا اور ان کو سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف استعمال کرنا شروع کر دیا بات یہاں ختم نہیں ہوتی افغانستان سے دوشیزائیں قبائلی علاقوں میں پہنچائی گئیں جن کی شادیاں پشتون لڑکوں سے کروائی گئیں اور بہت سے افغانی نوجوانوں کو انڈیا میں وزٹ کروائے گئے اور ان کو #را# سے ٹریننگ دلوائی گئی ،جو دہشت گردی کی ٹریننگ حاصل کرنے کرنے کے بعد پاکستان آکر دہشتگردی پھیلاتے تھے ۔

پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو یہ ساری بات معلوم ہو چکی تھیں تو انہوں نے اس کو پروفیشنل طریقے سے ہینڈل کیا جس میں وہ کامیاب رہے ۔اصل نقطہ پاکستان اور افغانستان کے عوام کے درمیان جو بھائی چارے کی فضا قائم تھی اس کو سوشل میڈیا پر افغانستان کے سیاسی عسکری اور صحافی انڈین کی فنڈڈ تنظیموں نے ختم کر دیا یہی وجہ ہے آج پگڑی والے کابل آزاد کر چکے ہیں اور انڈین ایجنٹ ملک چھوڑ کر بھاگ چکے ہیں اور پاکستانی عوام انڈین ایجنٹس کی ہار کو دیکھ کر ردعمل کے طور پر جشن منا رہے ہیں ۔

پاکستان اور افغانستان کے عوام کوایک دوسرے سے دور کرنے کی سب سے بڑی وجہ انڈین لابی بنی، جنہوں نے چند نمک حراموں کو خرید کر پاکستان کے خلاف استعمال کیا جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات بنے اور دونوں بھائی ایک دوسرے سے دور ہوگئے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے