[pullquote]افغانستان سے غیر ملکیوں کو نکالنے کا سلسلہ جاری[/pullquote]
افغانستان سے غیر ملکیوں اور افغان شہریوں کو نکالنے کا سلسلہ تیز رفتاری سے جاری ہے۔ جرمن فضائیہ کا ایک A400M طیارہ بھی اس آپریشن میں شریک ہے اور اب تک 900 سے زائد افراد کو افغانستان سے نکال چکا ہے۔ امریکی افواج کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی کے مطابق کابل ایئرپورٹ کی صورتحال فی الحال مستحکم ہے، تاہم جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے اسے انتہائی ’بدنظمی کا شکار‘ قرار دیا ہے۔ ہزارہا افراد ملک سے نکلنے کے لیے کابل ایئرپورٹ کے باہر جمع ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق اب تک 1100 پاکستانیوں کو بھی افغانستان سے نکالا جا چکا ہے۔
[pullquote]افغانستان سے نکالے گئے افراد کو لے کر دو جہاز فرینکفرٹ پہنچ گئے[/pullquote]
افغانستان سے نکالے گئے 500 افراد کو لے کر دو چارٹرڈ طیارے آج صبح فرینکفرٹ پہنچے ہیں۔ فرینکفرٹ پہنچنے پر افغان شہریوں نے کابل ایئرپورٹ کی صورتحال کو انتہائی افراتفری کا شکار بتایا۔ جرمن فوج افغانستان سے لوگوں کو نکال کر ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند پہنچا رہی ہے جہاں سے انہیں جرمنی لایا جا رہا ہے۔ جرمن وزارت دفاع کے مطابق افغانستان میں پھنسے جرمنی شہریوں، مقامی اسٹاف اور خطرات میں گھرے افراد کو ہر ممکن حد تک وہاں سے نکالنے کا آپریشن جاری رہے گا۔
[pullquote]امریکی فورسز 31 اگست کے بعد بھی افغانستان میں رک سکتی ہیں، جو بائیڈن[/pullquote]
امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ جب تک تمام امریکی شہریوں کا افغانستان سے انخلا نہیں ہو جاتا اس وقت تک امریکی فورسز کا انخلا نہیں ہو گا۔ اے بی سی نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ اس ماہ کے اواخر تک فوج امریکی شہریوں کو افغانستان سے نکال لے گی تاہم اگر یہ مشن مکمل نہ ہو سکا تو پھر اس کے بعد بھی امریکی فوج کو رکنا پڑے گا۔ واضح رہے کہ امریکا نے31 اگست تک مکمل انخلا کی بات کہی تھی۔
[pullquote]طالبان نے کابل ایئرپورٹ کے باہر جمع افراد کو وہاں سے چلے جانے کا حکم دے دیا[/pullquote]
افغان دارالحکومت کابل کے ایئرپورٹ کے اندر اور اس کے اطراف میں اتوار سے اب تک 12 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ بات طالبان اور نیٹو حکام کی طرف سے بتائی گئی ہے۔ طالبان کی طرف سے کابل پر قبضے کے بعد سے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد ملک چھوڑنے کی کوشش میں کابل ایئرپورٹ اور اس کے باہر جمع ہے۔ طالبان حکام کے مطابق یہ ہلاکتیں گولی لگنے یا بھگدڑ کی وجہ سے ہوئیں۔ طالبان کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ایئرپورٹ پر موجود کسی شخص کو نقصان پہنچے، اسی لیے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ اگر ان کے پاس سفری دستاویزات نہیں ہیں تو وہ ایئرپورٹ کے احاطے سے چلے جائیں۔
[pullquote]ہیٹی زلزلے کے نتیجے میں اموات کی تعداد مسلسل بڑھتی ہوئی[/pullquote]
ہیٹی میں امدادی کارکنوں نے مزید لاشوں کو ملبے کے نیچے سے نکالا ہے۔ اس کیریبیئن ملک میں ہفتہ 14 اگست کی صبح 7.2 کی شدت کا طاقتور زلزلہ آیا تھا۔ ہنگامی حالات سے نمٹنے والے حکام کے مطابق اس زلزلے کے سبب ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 2189 ہو چکی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق زلزلے سے متاثرہ بعض علاقوں میں لوگوں کو امدادی اشیاء کی شدید ضرورت ہے۔ زلزلے کے بعد گریس نامی سمندری طوفان کے سبب تیز بارشوں اور سیلاب نے امدادی کاموں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ ہیٹی میں 2010ء میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں دو لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
[pullquote]بیلاروس سے تارکین کی آمد روکنے کے لیے یورپی یونین کے اقدامات[/pullquote]
یورپی یونین کے وزرائے داخلہ نے یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں پر کنٹرول بہتر کرنے کے لیے پولینڈ، لیتھوانیا اور لیٹویا میں تیکینکی ساز وسامان اور ماہرین کو بھیجنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کا مقصد بیلاروس کے راستے یورپی یونین آنے والے تارکین وطن کا سلسلہ روکنا ہے۔ یورپی یونین نے سیاسی مقاصد کے لیے تارکین وطن کو استعمال کرنے کوشش پر بیلاروس کی مذمت بھی کی ہے۔ بیلاروس کے صدر الیکسانڈر لوکا شینکو نے یورپی یونین کو دھمکی دی ہے کہ وہ عراق، شام اور افغانستان سے آنے والے تارکین وطن کو بلا روک ٹوک یورپی ممالک کی سرحد عبور کرنے کی اجازت دے دیں گے۔ اس راستے سے اب تک ہزاروں لوگ یورپی یونین کے ممالک میں پہنچ چکے ہیں۔
[pullquote]برکینا فاسو میں شدت پسندوں کے حملے میں 47 افراد ہلاک[/pullquote]
برکینا فاسو میں شدت پسندوں کی طرف سے ایک فوجی قافلے پر حملے کے نتیجے میں 47 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں 30 عام شہری بھی شامل ہیں۔ اس مغربی افریقی ملک کی وزارت اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ آربنڈا نامی شہر کے قریب پیش آیا۔ متعدد حملہ آور بھی فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئے۔ بُرکینا فاسو، نائجر اور مالی میں مسلم مذہبی شدت پسند گروپوں کی طرف سے تشدد کا سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے۔ ان میں سے اکثر دہشت گرد تنظیم داعش یا القاعدہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
[pullquote]اشرف غنی کی پیسے لے کر ملک سے فرار ہونے کی تردید[/pullquote]
اشرف غنی نے کہا ہے کہ انہوں نے سکیورٹی حکام کے مشورے پر ملک چھوڑا تھا اور جتنی جلدی ممکن ہوگا، وطن واپس لوٹیں گے۔ اشرف غنی نے ملک چھوڑنے کے بعد پہلی بار 18 اگست کی رات کو جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ انہوں نے اس لیے ملک کو چھوڑا تاکہ وطن کو خونریزی سے بچایا جا سکے۔ متحدہ عرب امارت سے فیس بک پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں اشرف غنی نے ان خبروں کی بھی تردید کی کہ وہ بہت سارا پیسہ لے کر فرار ہوئے۔ اس سے قبل متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ امارات نے انسانی بنیادوں پر اشرف غنی کا خیر مقدم کیا ہے۔
بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو