جمعہ : 08 اکتوبر 2021 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]سال رواں کا نوبل امن انعام فلپائنی اور روسی صحافیوں کے نام[/pullquote]

امسالہ نوبل امن انعام فلپائن سے تعلق رکھنے والی صحافی ماریا ریسا اور روسی صحافی دیمیتری مراتوف کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان دونوں صحافیوں کو یہ انعام ان ممالک میں آزادی صحافت اور آزادی اظہار کے دفاع کی مسلسل جدوجہد کی وجہ سے دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اوسلو میں نوبل پیس پرائز کمیٹی کی سربراہ بیرٹ رائس اینڈرسن نے کہا کہ ان دونوں صحافیوں کو یہ اعزاز آزادی اظہار کے تحفظ کے لیے ان کی کوششوں کے باعث دیا جائے گا، جو جمہوریت اور پائیدار امن کے لیے لازمی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کے ترجمان نے ان دونوں صحافیوں کو مشکل حالات میں بھی اپنا کام جاری رکھنے پر مبارکباد دی ہے۔ ماریا ریسا ریپلر نامی تحقیقاتی رپورٹنگ کے ایک انٹرنیٹ پورٹل کی سربراہ ہیں جبکہ دیمیتری مراتوف ایک آزاد روسی اخبار ’نووایا گازیٹا‘ کے چیف ایڈیٹر ہیں۔

[pullquote]بحیرہ جنوبی چین میں امریکی جوہری آبدوز نامعلوم شے سے ٹکرا گئی[/pullquote]

امریکی بحریہ کے مطابق اس کی ایک ایٹمی آبدوز بحیرہ جنوبی چین میں ایک نامعلوم شے سے ٹکرا گئی۔ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تاہم میڈیا رپورٹوں میں اس آبدوز کے عملے کے تقریباﹰ ایک درجن ارکان کے معمولی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ امریکی بحریہ کی پیسیفک فلیٹ کے مطابق یہ واقعہ بین الاقوامی پانیوں میں گزشتہ ہفتے پیش آیا۔ اس حادثے کے سمندری مقام کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ تاہم یہ کہا گیا کہ یہ آبدوز پوری طرح محفوظ ہے اور نیوکلیئر پلانٹ سمیت اس کا کوئی بھی شعبہ متاثر نہیں ہوا۔

[pullquote]نائجیریا میں دو سو کے قریب مغوی افراد کی رہائی[/pullquote]

نائجیریا میں سکیورٹی فورسز نے ایک سو ستاسی اغوا شدہ افراد کو رہا کرا لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ان شہریوں کو وفاقی صوبے زمفارا میں چند ہفتے قبل مسلح اغوا کاروں نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ گزشتہ تقریباﹰ ایک سال سے نائجیریا کے شمالی مغربی علاقوں میں اغوا کی وارداتیں کافی زیادہ ہو چکی ہیں۔ اغوا کاروں کے مسلح گروہ اکثر اسکولوں کے بچوں اور دیہی علاقوں کے باشندوں کو تاوان کے لیے اغوا کر لیتے ہیں۔

[pullquote]موسمیاتی تبدیلیوں کو نہ ماننے والے افراد کی گوگل پر اشتہارات کے ذریعے آمدن پر پابندی[/pullquote]

انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل نے ماحولیاتی تبدیلیوں کی حقیقت سے انکار کرنے والے افراد کی اشتہارات کے ذریعے ہونے والی آمدنی روک دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ گوگل کے مطابق ایسی تمام یوٹیوب ویڈیوز اور دیگر مواد، جن میں ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجوہات کے بارے میں حقائق سے متضاد موقف موجود ہیں، ان پر اشتہارات نہیں لگائے جائیں گے۔ اس امریکی کمپنی نے یہ پابندیاں کلائمیٹ چینج سے متعلق اپنی پائیدار کوششوں کے تناظر میں عائد کی ہیں۔ ڈیجیٹل رائٹس کی مختلف تنظیموں نے گوگل سرچ انجن کے اس اقدام کو ایک اہم فیصلہ قرار دیا ہے۔

[pullquote]تائیوان کے فوجیوں کے لیے خفیہ امریکی تربیت، رپورٹ[/pullquote]

تائیوان میں ایک امریکی بحری دستہ اور ایک خصوصی یونٹ مسلح افواج کی تربیت کے لیے تعینات ہیں۔ اس بات کا انکشاف امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل نے حکومتی اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کیا ہے۔ اس امریکی جریدے کے مطابق اس تربیتی مشن کے لیے کم ازکم دو درجن امریکی فوجی تعینات ہیں اور یہ ٹریننگ تائیوان کے دفاع کو مضبوط بنانے کی امریکی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس تربیت کا سبب تائیوان کے خلاف چین کی ممکنہ جارحیت کے خدشات بتائے گئے ہیں۔ بیجنگ حکومت تائیوان کو ایک خود مختار ملک تسلیم کرنے کے بجائے چین کا ایک باغی صوبہ قرار دیتی ہے اور دوبارہ اتحاد کے لیے کوشاں ہے۔

[pullquote]یورپی یونین کی افغان پناہ گزینوں سے متعلق پالیسی اب تک غیر واضح[/pullquote]

یورپی یونین کے رکن ممالک میں افغان پناہ گزینوں کو پناہ دینے سے متعلق ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ گزشتہ روز افغانستان سے متعلق یونین کی ایک کانفرنس منعقد کی گئی تھی۔ یورپی یونین کے داخلی امور کی کمشنر یوہانسن نے بتایا کہ رکن ممالک آئندہ برس کے لیے افغانستان اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے پناہ کے متلاشی افراد کی آبادکاری کے لیے اپنی طرف سے تعداد مقرر کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلیپو گرانڈی نے یونین کو تجویز دی ہے کہ اس یورپی بلاک میں اگلے پانچ برسوں میں بیالیس ہزار پانچ سو افغان باشندوں کی آبادکاری یقینی بنائی جائے۔ اقوام متحدہ کے مطابق یہ تعداد دنیا بھر میں افغان پناہ گزینوں کی دوبارہ آبادکاری کا نصف حصہ بنتی ہے۔

[pullquote]افغان طالبان کے ایک سابق کمانڈر پر امریکی فوجیوں کو قتل کرنے کا الزام[/pullquote]

امریکا نے افغان طالبان کے ایک سابق کمانڈر حاجی نجیب اللہ پر افغانستان میں امریکی فوجی اہلکاروں کے قتل کی فردِ جرم عائد کر دی ہے۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق حاجی نجیب اللہ کو سن 2008 میں امریکی فوجیوں پر حملوں کا ملزم قرار دیا جا رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں تین امریکی فوجی اور ان کے ایک افغان مترجم کی موت ہو گئی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک امریکی ہیلی کاپٹربھی مار گرایا گیا تھا۔ اس وقت امریکا میں زیر حراست طالبان کے اس سابق کمانڈر پر پہلے ہی سن 2008 میں ایک امریکی صحافی کو اغوا کرنے کا الزام بھی ہے۔ یہ فردِ جرم افغانستان میں امریکا کی قیادت میں فوجی کارروائی کی 20 ویں سالگرہ کے موقع پر عائد کی گئی۔

[pullquote]چیک جمہوریہ میں پارلیمانی انتخابات[/pullquote]

یورپی ملک چیک جمہوریہ میں نئی پارلیمان کا انتخاب کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں پولنگ اسٹیشن مقامی وقت کے مطابق جمعے کی سہ پہر دو بجے کھل گئے۔ شہری آئندہ دو روز تک ووٹ دے سکیں گے۔ چیک جمہوریہ کے موجودہ وزیر اعظم آندرے بابس ان انتخابات میں اپنی کامیابی کے بارے میں پرامید ہیں۔ تاہم پینڈورا پیپرز میں ان کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ بابس پر ایک آف شور کمپنی کے ذریعے فرانس میں ایک محل خریدنے کا الزام ہے۔ اس بارے میں ان سے وضاحت بھی طلب کی جا رہی ہے۔ مبصرین کے خیال میں پینڈورا پیپرز میں نام شامل ہونے کے باوجود بابس کی عوامیت پسند تحریک (اے این او) ان انتخابات کے نتیجے میں پارلیمان میں دوبارہ ایک بڑی سیاسی قوت بن سکتی ہے۔

[pullquote]جرمنی میں سہ جماعتی مخلوط حکومت کے قیام کے لیے مذاکرات جاری[/pullquote]

جرمنی میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی، گرین پارٹی اور فری ڈیموکریٹک پارٹی کے درمیان ابتدائی بات چیت کے بعد ان تینوں سیاسی جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ سہ جماعتی مخلوط حکومت کے ممکنہ قیام کے لیے مذاکرات جاری رکھے جائیں گے۔ اب پارٹیوں کے سرخ، سبز اور پیلے رنگوں کی نسبت سے اس ممکنہ اتحاد کو ’ٹریفک لائٹ کولیشن‘ بھی کہا جا رہا ہے۔ دوسری جانب چانسلر میرکل کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین کے چانسلرشپ کے امیدوار آرمین لاشیٹ بھی گرینز اور فری ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر سیاہ، سبز اور پیلے رنگوں پر مشتمل ایک ’جمیکا کولیشن‘ کے قیام کے لیے کوشاں ہیں۔ لاشیٹ نے پارٹی سربراہ کے طور پر سی ڈی یو میں اہم عہدوں پر نئی سیاسی شخصیات کی نامزدگی کا اشارہ بھی دیا ہے۔

[pullquote]مہاجرین کو غیر قانونی طریقے سے واپس دھکیلنے کی تفتیش کی جائے، یورپی یونین کا مطالبہ[/pullquote]

یورپی یونین نے کروشیا اور یونان سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی سرحدوں سے پناہ کے متلاشی افراد کو مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے واپس بھیجنے کے عمل کی تحقیقات کرائی جائیں۔ برسلز میں یورپی یونین کی کمشنر برائے داخلی امور یلوا یوہانسن نے ایسی میڈیا رپورٹوں گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جن کے مطابق پناہ کے متلاشی افراد کو یورپی سرحدی علاقوں سے زبردستی واپس بھیجا جا رہا ہے۔ زاغرب حکومت نے اس بارے میں جامع چھان بین کا اعلان کیا ہے۔ تاہم ایتھنز حکومت نے ان الزامات کی کھل کر تردید کی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق رومانیہ کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے بھی مہاجرین کو’پُش بیک‘ کیا گیا۔

[pullquote]بشکریہ ڈی ڈبلیو اُردو[/pullquote]

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے