جمعہ : 19 نومبر 2021 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]برطانیہ میں حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا منصوبہ[/pullquote]

برطانوی حکومت حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اگر ایسا ہو گیا تو اس جنگجو فلسطینی تحریک کے کسی بھی حامی کو چودہ برس تک کی سزائے قید سنائی جا سکے گی۔ برطانوی وزیر داخلہ پریتی پاٹل آئندہ ہفتے پارلیمان میں اس ممنوعہ تنظیم کو دہشت گرد قرار دینے کے لیے قانونی مسودہ پیش کر دیں گی۔ حماس کا عسکری بازو القسام بریگیڈ مارچ سن دو ہزار ایک میں کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔ پاٹل کے مطابق حماس کے عسکری اور سیاسی دھڑوں میں تقسیم مشکل ہے، اس لیے یہ قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ امریکا اور یورپی یونین پہلے ہی حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔

[pullquote]آذربائیجان کی فوج کی کارروائی میں چھ فوجی مارے گئے، آرمینیائی حکومت[/pullquote]

آرمینیائی حکام نے آج جمعے کے روز بتایا کہ نگورنو کاراباخ کے متنازعہ علاقے میں آذربائیجان کے فوجیوں کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں کے دوران چھ آرمینیائی فوجی مارے جا چکے ہیں۔ آرمینیائی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ رواں ہفتے ہونے والی ان ہلاکتوں کی وجہ آذری فوج کے حملے بنے۔ دوسری طرف آذربائیجان کی حکومت کا کہنا ہے کہ پہل آرمینیائی فورسز نے کی تھی۔ روسی ثالثی کی بدولت منگل کے دن ان دونوں ہمسایہ ممالک میں فائر بندی معاہدہ طے پا گیا تھا۔

[pullquote]بیلاروس کے سرحدی علاقوں میں پھنسے مہاجرین کی مدد کی جائے گی، میرکل کا عالمی اداروں سے وعدہ[/pullquote]

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ ان کی حکومت بیلاروس میں مہاجرین کے بحران کے حل میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ میرکل کے ترجمان نے بتایا کہ برلن حکومت نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یو این ایچ سی آر اور ادارہ برائے مہاجرت آئی او ایم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ بیلاروس کے سرحدی علاقوں میں پھنسے تارکین وطن کو واپس ان کے ممالک بھیجنے کی کوششوں میں ان عالمی اداروں کی مدد کرے گی۔

[pullquote]چینی آن لائن شاپنگ گروپ علی بابا کے حصص مندی کا شکار[/pullquote]

چین کے بہت بڑے ای کامرس ادارے علی بابا گروپ ہولڈنگ لمیٹڈ کے حصص کی قیمتوں میں دس فیصد سے زائد کی مندی دیکھی گئی ہے۔ بیجنگ کی طرف سے ریگولیٹری کریک ڈاؤن اور آن لائن تجارت میں بڑھتی ہوئی مقابلہ بازی کے باعث یہ مارکیٹ بھی متاثر ہو رہی ہے۔ یہ کمپنی سن دو ہزار چودہ میں قائم کی گئی تھی، جس نے آن لائن بزنس میں منافع کے کئی ریکارڈ بنائے تھے۔ علی بابا گروپ کے سربراہ کے مطابق چینی باشندوں کی قوت خرید میں کمی اور نئے مسابقتی قوانین نے بھی ان کے ادارے کے کاروبار کو متاثر کیا۔

[pullquote]تہران حکومت نے ایرانی باشندوں پر عائد کردہ نئی امریکی پابندیاں مسترد کر دیں[/pullquote]

تہران حکومت نے پانچ ایرانی شہریوں اور ایک ملکی گروپ پر عائد کی جانے والی نئی امریکی پابندیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ جمعے کے دن ایک بیان میں ایران نے ان پابندیوں کو بے بنیاد قرار دیا۔ امریکی حکومت کے مطابق ان ایرانی شہریوں اور گروپ پر الزام تھا کہ انہوں نے سن دو ہزار بیس کے امریکی صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ انہوں نے آن لائن غلط فہمیاں اور غلط معلومات پھیلائیں تاکہ امریکی ووٹروں کی رائے پر اثر انداز ہوا جا سکے۔

[pullquote]بھارتی وزیر اعظم کا یو ٹرن، متنازعہ زرعی قوانین واپس لینے کا اعلان[/pullquote]

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے متنازعہ زرعی اصلاحات کا قانون واپس لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ بھارتی کسان گزشتہ ایک سال سے بالخصوص تین قوانین کے خلاف سراپا احتجاج تھے، جس سے مودی حکومت کو شدید سیاسی چیلنجز کا سامنا تھا۔ مودی نے جمعے کے دن اپنے نشریاتی خطاب میں کہا کہ کسان اپنا احتجاج ختم کرتے ہوئے گھروں کو لوٹ جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سردیوں کے وقفے کے بعد دسمبر میں شروع ہونے والے اولین پارلیمانی اجلاس میں ان قوانین کو واپس لے لیا جائے گا۔ اس پیش رفت کو بھارتی کسانوں کی احتجاجی تحریک کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

[pullquote]جرمنی میں کووڈ انیس سے نمٹنے کے نئے ضوابط پر اتفاق رائے[/pullquote]

جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور تمام سولہ صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے کورونا وائرس کی وبا کی چوتھی لہر سے نمٹنے کے لیے نئے اقدامات پر اتفاق کر لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ویکسین لگوانے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ویکسین سینٹرز کی تعداد بڑھا دی جائے گی۔ نئے ضابطوں کے مطابق ثقافتی، اسپورٹس اور دیگر تفریحی مقامات میں داخلے کے لیے مکمل ویکسینیشن کا سرٹیفیکیٹ یا کووڈ انیس سے صحت یابی کا ثبوت فراہم کرنا لازمی ہو گا۔ یہ نئے اقدامات ایسے وقت پر کیے گئے ہیں، جب جرمنی میں کورونا وائرس انفیکشنز میں ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

[pullquote]سقوط کابل کے بعد جرمن سفارت کاروں کے طالبان سے اولین مذاکرات[/pullquote]

سقوط کابل کے بعد جرمن سفارت کاروں نے طالبان کے نمائندوں سے پہلی مرتبہ ملاقات کی۔ جرمن وزارت خارجہ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روز کابل میں ہونے والی اس ملاقات میں بالخصوص انسانی بحران کی صورت حال اور اس کے ممکنہ حل پر توجہ مرکوز رہی۔ افغانستان کے لیے جرمنی کے خصوصی مندوب یاسپر وِیک اور نامزد سفیر مارکوس پوٹسیل نے ان مذاکرات میں طالبان پر زور دیا کہ وہ امدادی منصوبوں میں تعاون کریں، جس پر طالبان کا ردعمل مثبت رہا۔

[pullquote]پولش بارڈر کے قریب مہاجرین کا کیمپ ختم کر دیا گیا، بیلاروس[/pullquote]

بیلاروس نے کہا ہے کہ اس کے سرحدی محافظوں نے پولینڈ کے ساتھ سرحد کے قریب بنائے گئے مہاجرین کے عارضی شیلٹر ہاؤسز کو خالی کرا لیا ہے۔ اس مقام پر تقریباﹰ دو ہزار مہاجرین جمع تھے، جو پولینڈ میں داخل ہونے کی کوشش میں تھے۔ ان مہاجرین میں سے تقریبا ایک ہزار کو ایک استقبالیہ مرکز میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ بہت سرد موسم کے باعث ان تارکین وطن کو شدید مشکلات کا سامنا تھا جبکہ وارسا کا یہ الزام بھی تھا کہ روس نواز بیلاروس ان مہاجرین کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ یہ معاملہ دونوں ممالک کے مابین سیاسی بحران کی شکل بھی اختیار کر گیا تھا۔

[pullquote]طالبان سے خوفزدہ افغان باشندوں کو امریکا داخلے میں مشکلات[/pullquote]

طالبان کے خوف سے ملک سے فرار ہونے والے افغان باشندوں کو امریکا میں داخلے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اگست کے وسط سے اب تک امریکا میں عارضی داخلے کے امیدوار افغانوں کی تعداد اٹھائیس ہزار ہو چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف سو درخواستیں ہی منظور ہوئی ہیں۔ امریکا کے وفاقی امیگریشن دفتر کے مطابق ان درخواستوں کی جانچ پڑتال میں انتظامی مسائل آڑے آ رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے اداروں نے اس سست رفتاری پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ایسے افغان شہری وہ ہیں، جنہوں نے گزشتہ بیس برسوں کے دوران افغانستان میں امریکی فوج سے تعاون کیا تھا۔

[pullquote]سیکس اسکینڈل کی زد میں آنے والے کرکٹر ٹم پین نے ٹیسٹ کپتانی چھوڑ دی[/pullquote]

آسٹریلوی قومی کرکٹ ٹیم کے ٹیسٹ کپتان ٹم پین نے ایک سیکس اسکینڈل کی وجہ سے کپتانی سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ چار سال قبل انہوں نے اپنی ایک خاتون ساتھی کو فحش مواد ایس ایم ایس کیا تھا۔ چھتیس سالہ وکٹ کیپر بلے باز پین نے جمعے کے دن میڈیا سے گفتگو میں ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی سے دستبردار ہوتے ہوئے کہا کہ وہ قومی کرکٹ ٹیم کا حصہ رہنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک پرانا واقعہ ہے، جس پر وہ شرمندہ بھی ہیں۔

[pullquote]بشکریہ ڈی ڈبلیو اُردو[/pullquote]

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے