[pullquote]یوکرائن تنازعہ، جرمنی کی روس کو ’سنگین نتائج‘ کی دھمکی[/pullquote]
جرمنی کی نومنتخب وزیر خارجہ انالینا بئیربوک نے روس کو دھمکی دی ہے کہ اگر یوکرائن کے بگڑتے ہوئے تنازعے میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ اپنے فرانسیسی ہم منصب سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ماسکو نے یوکرائنی ریاست کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی تو اسے بھاری سیاسی اور اقتصادی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ بئیربوک کا زور دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ہر صورت فوجی کشیدگی سے گریز کیا جانا چاہیے۔ مغربی ممالک الزام عائد کر رہے ہیں کہ روس یوکرائن میں فوجی مداخلت کرنے کی تیاری میں مصروف ہے جبکہ روس ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔
[pullquote]مالی میں غذائی قلت کے شکار افراد کی تعداد میں تین گنا اضافہ[/pullquote]
مغربی افریقی ملک مالی میں ایک سال کے اندر اندر غذائی قلت کے شکار افراد کی تعداد تین گنا بڑھ کر 1.2 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ ملک میں سرگرم 22 انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا کہ اس کی وجوہات سلامتی کی مخدوش صورتحال، موسم کی وجہ سے فصلوں کی تباہی اور کورونا وائرس کی وبا ہے۔ تقریباً چار لاکھ افراد پہلے ہی مالی سے فرار ہو چکے ہیں۔ مسلسل خشک سالی نے دو لاکھ پچیس ہزار ہیکٹر سے زیادہ کھیتوں کو تباہ کر دیا ہے اور خوراک کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اس بحران زدہ ریاست کے بہت سے علاقوں میں مقامی ملیشیاؤں اور دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کی وجہ سے امدادی تنظیمیں اب ضرورت مندوں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔
[pullquote]سعودی عرب: قطر پر پابندیوں کے خاتمے کے بعد محمد بن سلمان کا پہلا دورہ دوحہ[/pullquote]
سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے قطر پر پابندیوں کے خاتمے کے بعد پہلی مرتبہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان دوحہ پہنچ گئے ہیں۔ ریاض حکومت نے دوحہ کے ساتھ طویل عرصے سے جاری بحران کو رواں برس جنوری میں ختم کرتے ہوئے سفارتی تعلقات بحال کیے تھے۔ دوحہ میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثّانی نے سعودی ولی عہد کا استقبال کیا۔ اطلاعات کے مطابق بدھ کی شب دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں کئی اہم امور پر بات چيت ہوئی ہے۔ سن 2017 میں سعودی عرب اور اس کے کئی دیگر عرب اتحادیوں نے مشترکہ طور پر قطر پر پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ہی اس کی ناکہ بندی کر دی تھی۔
[pullquote]سن 2021 میں ریکارڈ تعداد میں صحافیوں کو جیلوں میں بند کیا گیا، سی پی جے[/pullquote]
نیویارک میں قائم ’’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘‘ کے مطابق سن دو ہزار اکیس میں دنیا بھر میں ریکارڈ تعداد میں صحافیوں کو جیلوں میں بند کیا گیا۔ دو سو تریانوے صحافیوں میں سے سب سے زیادہ یعنی ایک چوتھائی صحافیوں کو چین اور میانمار میں گرفتار کیا گیا۔ اس رپورٹ میں بھارت اور میکسیکو کو صحافیوں کے لیے سب سے مہلک ترین ممالک قرار دیا گیا ہے۔ رواں برس بھارت میں چار صحافیوں کو قتل کیا گیا، جبکہ میکسیکو میں تین صحافی قتل ہوئے۔ جمعرات کو جاری ہونے والی سی پی جے کی اس سالانہ رپورٹ کے مطابق چین میں 50، میانمار میں 26، مصر میں 25، ویتنام میں 23 اور بیلاروس میں 19 صحافی اس وقت بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ اسی طرح متعدد صحافی سعودی عرب، ایران، ترکی، روس، ایتھوپیا اور اریٹیریا میں بھی قید ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مقید صحافیوں کی تعداد سے پتا چلتا ہے کہ دنیا بھر میں آزادانہ رپورٹنگ کے حوالے سے عدم برداشت پیدا ہو رہا ہے۔
[pullquote]امریکا، چینی مصنوعات کی درآمد پر مزید پابندیوں کا فیصلہ[/pullquote]
امریکا نے اقلیتی ایغور مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کی بنیاد پر چین کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تناظر میں امریکی ایوان نمائندگان نے چین کے سنکیانگ علاقے سے درآمدات پر پابندی کا قانون منظور کر لیا ہے۔ امریکی قانون سازوں کے مطابق سنکیانگ میں جبری مشقت کے ذریعے اشیاء تیار کروائی جا رہی ہیں۔ شمسی پینلز سے متعلقہ زیادہ تر سامان اسی علاقے میں تیار کیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی ایغور مسلمانوں پر جبر کرنے کے حوالے سے چین کو شدید تنقید کا نشانہ بناتی ہے۔ دوسری جانب چین ایسے تمام تر الزامات کو سیاسی اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کرتا ہے۔
[pullquote]برطانیہ نے سیاسی پناہ کے قوانین مزید سخت کر دیے[/pullquote]
حزب اختلاف کی جماعتوں کے احتجاج کے باوجود برطانوی ہاؤس آف کامنز نے ملک میں سیاسی پناہ کے قانون کو سخت کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ ’’نیشنلٹی اینڈ بارڈرز بل‘‘ کے ذریعے لندن حکومت انگلش چینل عبور کرنے والے تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد کو کنٹرول میں لانا چاہتی ہے۔ اس نئے قانون کے تحت کشتیوں کے ذریعے انگلش چینل کو عبور کرنے والے تارکین وطن کو زبردستی واپس بھیجا جا سکے گا۔ اس طرح ’’زبردستی واپس بھیجنے کی کارروائیاں‘‘ انتہائی متنازعہ سمجھی جاتی ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کے سخت خلاف ہیں۔ یورپی یونین میں یونان پر بھی ایسے ہی الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔
[pullquote]امریکا نے مصنوعی کورونا اینٹی باڈیز والی دوا کی منظوری دے دی[/pullquote]
امریکی محکمہ صحت (ایف ڈی اے) نے مصنوعی اینٹی باڈیز والی ایک دوا کی منظوری دے دی ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو کورونا انفیکشن سے بچا سکتی ہے۔ آسٹرا زینیکا کی طرف سے تیار کردہ ان گولیوں کی ہنگامی سطح پر منظوری دی گئی ہے۔ تاہم ایف ڈی اے نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دوا ویکیسن کی متبادل نہیں ہے۔ یہ دوا صرف ان لوگوں کو استعمال کرنی چاہیے، جن کا مدافعتی نظام کمزور ہے یا پھر ان لوگوں کو جو طبی وجوہات کی بنا پر ویکسین نہیں لگوا سکتے۔ کئی افراد میں ویکیسن سے شدید الرجک ردعمل ظاہر ہوتا ہے۔
[pullquote]آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکا کو ’قیمت چکانا پڑے‘ گی، چین[/pullquote]
چین نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکا کو اپنے ’’غلط فیصلوں کی قیمت چکانا پڑے‘‘ گی۔ ان تینوں ممالک نے آئندہ برس فروری میں ہونے والے سرمائی اولمپکس میں حکومتی وفود نہ بھیجنے کا فیصلہ کرتے ہوئے چین کا سفارتی بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ مہم مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تناظر میں امریکا کی طرف سے شروع کی گئی تھی۔ تاہم ان ممالک کے کھلاڑی ونٹر اولمپکس میں شرکت کے لیے چین پہنچیں گے۔ سفارتی بائیکاٹ کی اس مہم میں امریکا کے اتحادی مزید ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
[pullquote]بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو[/pullquote]