بیجنگ میں منعقد ہونے والی ’مستقبل کے معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے یونیورسٹی مکالمہ‘ محض ایک علمی کانفرنس نہیں تھی۔ یہ ایک ایسا سنگ میل تھا جس نے اکیسویں صدی میں اعلیٰ تعلیم کے کردار کو نئی شکل دینے کا کام کیا۔ بین الاقوامی برادری میں دراڑوں اور عالمی بحرانوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پس منظر میں، دنیا بھر کی یونیورسٹیوں کے اس اجتماع نے ایک واضح پیغام دیا.علمی برادری اب صرف مسائل کی نشاندہی تک محدود نہیں رہنا چاہتی بلکہ ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنے کو تیار ہے۔
اس مکالمے کی میزبانی مشترکہ طور پر یونائیٹڈ نیشنز یونیورسٹی، چین میں اقوام متحدہ، بیجنگ فارن اسٹڈیز یونیورسٹی (بی ایف ایس یو) اور یونیورسٹی آف کیپ ٹاؤن نے کی۔ اس کی اہمیت صرف اس میں شامل اعلیٰ سطح کے شرکاء تک محدود نہیں تھی، بلکہ اس کا اصل مقصد اس کے عملی نتائج پر مرکوز ہونا تھا۔ اقوام متحدہ کے اہلکار تھیمبا کاؤلا نے نشاندہی کی، ’’وعدے اور پیش رفت‘‘ کے درمیان فرق ختم کرنے کے لیے یونیورسٹیاں ہی منفرد اور بہترین مقام رکھتی ہیں۔ بیجنگ میں ہونے والے اس پروگرام نے اس ذمہ داری کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس مقصد کے حصول کا ایک واضح عملی نمونہ پیش کیا۔
یونیورسٹیوں کے کردار کو عالمی ایجنڈے کے ساتھ ہم آہنگ کرنا:
اقوام متحدہ کے نظام میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا پروگرام تھا جس نے یونیورسٹیوں کے لیے رکن ممالک کے طے کردہ عالمی ایجنڈے کے گرد متحد ہونے کا ایک نیا راستہ کھولا۔ یہ ایک اہم نقطہ آغاز ہے جس کے ذریعے طویل المدتی حکمرانی کے اہم سوالات پر تحقیق کو مرکوز کیا جا سکتا ہے، کثیر الجہتی نظام کو مستقبل کے معاہدے (Pact for the Future) کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کے حوالے سے نئے خیالات فراہم کیے جا سکتے ہیں، اور ساتھ ہی طلباء کو عالمی حکمرانی کے بڑے سوالات سے روشناس کرانے اور ٹھوس و عملی اقدامات کے ذریعے یکساں اور پائیدار مستقبل کے حصول کے راستے تلاش کرنے کے مواقع دیے جا سکتے ہیں۔
چین کی وزارت تعلیم کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل، لی ہائی نے اپنےخطاب میں کہا’’مستقبل کا معاہدہ نہ صرف بین الاقوامی برادری کا مشترکہ مشن ہے بلکہ یہ ہمارے لیے مل کر آگے بڑھنے کا ایک اہم موقع بھی ہے۔‘‘ انہوں نے بی ایف ایس یو کی اس کی قیادت پر ستائش کی جس میں اس نے ایک یونیورسٹی ایکشن پلان تیار کیا اور ‘ مستقبل کی یونیورسٹیوں کا مستقبل کیلئے اتحاد”کی وکالت کی، جس سے عالمی حکمرانی میں چینی اعلیٰ تعلیم کی عملی کوششوں کا اظہار ہوتا ہے۔
یو این یونیورسٹی سینٹر فار پالیسی ریسرچ، جنیوا آفس کے سربراہ پروفیسر ایڈم ڈے نے بھی مستقبل کے معاہدے کی حمایت میں بننے والے اس اتحاد کی بھرپور تائید کی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ پروگرام بنیادی طور پر یونیورسٹیوں کو اس معاہدے اور اس کے عظیم وعدوں کے ساتھ جوڑنے اور نوجوانوں، اسکالرز اور متعلمین کو آج دنیا کے سامنے موجود انتہائی اہم سوالات سے جوڑنے کے نایاب مواقع فراہم کرنے کے بارے میں ہے۔
مادر علمی سے عمل کے پلیٹ فارم تک تبدیلی:
روایتی طور پر، یونیورسٹیوں کو علم کا خزانہ سمجھا جاتا رہا ہے — ایسے ادارے جن کا دنیا سے تعلق صرف مشاہدے اور تجزیے تک محدود ہوتا ہے۔ بیجنگ مکالمہ، اور اس کے تحت شروع کیے گئے اقدامات، اس روایتی سوچ سے ایک فیصلہ کن تبدیلی کی علامت ہیں۔ اس کا سب سے اہم نتیجہ ’مستقبل کے معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے یونیورسٹی ایکشن پلان‘ کی سرکاری طور پر توثیق تھی۔ یہ محض ایک عمومی اعلامیہ نہیں ہے بلکہ ایک واضح ’روڈ میپ ہے جس میں خاص اہداف ، طریقے اور حکمت عملیاں شامل ہیں۔‘ یہ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں کے لیے ایک انتہائی ضروری ’آپریشنل مینوئل‘ کی حیثیت رکھتا ہے تاکہ وہ اپنے بنیادی کام جیسے تدریس، تحقیق، اور شراکت داری کو مستقبل کے عظیم مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ کر سکیں۔
اس کے علاوہ، ’سنٹر آف ایکسیلینس برائے مستقبل کی تعلیم‘ کا قیام اور ’ایس ڈی جی ڈائیلاگ سیریز‘ کا آغاز ایک جامع نقطہ نظر کو ظاہر کرتا ہے۔ پہلا پالیسی اور اختراع (انوویشن) کا ایک کثیر الجہتی مرکز بننے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ دوسرا جان بوجھ کر ابتدائی جماعتوں کے طلباء کو شامل کرتا ہے، تاکہ عالمی حکمرانی کے لیے ہنر مند افراد کی تیاری کا سلسلہ ابتدائی عمر میں ہی شروع ہو سکے۔ اس موقع پر پرائمری اور سیکنڈری اسکول کے طلباء کی پیشکشوں کو شامل کرنا ایک علامتی مگر گہرا پیغام تھا کہ پائیدار مستقبل کی تعمیر کئی نسلوں پر محیط جدوجہد کا نام ہے۔
جامع تعاون کی ایک نئی مثال:
اس مکالمے میں شریک یونیورسٹیوں کا تنوع بھی بہت معنی خیز تھا۔ یہ کسی ایک خطے یا جغرافیائی سیاسی بلاک کی میٹنگ نہیں تھی بلکہ ایک حقیقی عالمی اتحاد تھا، جس میں گلوبل ساؤتھ کی مضبوط نمائندگی تھی، بشمول جنوبی افریقہ اور قطر۔ یہ ایک زیادہ منصفانہ اور جامع علم کے ماحول کی تعمیر کے شعوری عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ’مستقبل کی یونیورسٹی تحقیق اور تعاون‘ پر زور دے کر مصنوعی ذہانت (AI) کی حکمرانی اور بین الشعبہ جاتی کام جیسے اہم مسائل کے حل پر بات چیت کی گئی اور اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ ماضی کے محدود علمی ماڈل آج کے پیچیدہ اور باہم جڑے ہوئے چیلنجوں کے لیے ناکافی ہیں۔
مستقبل کیلئے تسلسل ضروری ہے:
حقیقی امتحان، بلاشبہ، عمل درآمد کا ہوگا۔ بیجنگ میں آغاز ایک امید افزا شروعات ہے، لیکن اس کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ اس کے بعد کیا ہوتا ہے۔ یو سی ایف اور اس کے ایکشن پلان کے سامنے یہ چیلنج ہوگا کہ وہ اس کام کیلئے اپنی توانائیاں صرف کریں اور رکن اداروں کے مستقل عزم کو یقینی بنائیں۔ کاغذ پر درج خیالات سے نکل کر ایک متحرک قوت بنانے میں ادا کرنے کی ضرورت ہے جو نصاب کی موثر راہ متعین کرے اور پالیسی سازی میں معاونت ، مشترکہ تحقیق کو فروغ دینے اور مستقبل کے مسائل حل کرنے والی نئی نسل کو بااختیار بنائے۔
عالمی عدم یقین کے اس دور میں، علمی برادری، رضاکارانہ اداروں کے اتحاد کی قیادت ایک مربوط منصوبے کے ساتھ سامنے آئی ہے۔ بیجنگ مکالمے نے ایک مضبوط بنیاد رکھ دی ہے۔ اب یہ عالمی علمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائے، اور اس بات کو یقینی بنائے کہ مستقبل کی یونیورسٹی دنیا کے مسائل پر محض ایک ناقد ہی نہ رہے بلکہ ان کے حل کی فعال معمار بن کر ابھریں۔