سینیٹر عرفان صدیقی ، تصویر کا دوسرا رخ

عرفان صدیقی صاحب کی صحافت اور سیاست
اپنے خیالات پر نظر ثانی کی ضرورت انہوں نے کبھی محسوس نہیں کی

بعض جذباتی دانشوروں کا خیال ہے کہ عرفان صدیقی صاحب کے انتقال کے بعد ان کے طرزِ سیاست اور صحافت پر گفتگو نہیں کرنی چاہیے۔ مگر میری رائے ہے کہ یہ خود عرفان صدیقی صاحب کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ انہوں نے تقریباً پچیس تیس برس ایک بھرپور عوامی زندگی گزاری اور ہمیشہ اپنے خیالات کا اظہار بڑے کھلے انداز میں کیا۔ انصاف کا تقاضہ ہے کہ ان کے انتقال کے بعد ان کے حق میں دعا بھی کی جائے اور ان کے فکری و صحافتی کام کا ناقدانہ جائزہ بھی لیا جائے، تاکہ سمجھا جا سکے کہ انہوں نے پاکستان کی دائیں بازو کی سیاست اور صحافت میں کیا کردار ادا کیا۔

عرفان صدیقی صاحب اس نسل کے کالم نگار تھے جو بھٹو کے عدالتی قتل اور افغان جہاد کے ماحول میں دائیں بازو اور اسٹیبلشمنٹ کے بیانیے کے زیر اثر پروان چڑھی۔ اس نسل میں عطا الرحمن، صلاح الدین، ہارون الرشید، عبدالقادر حسن جیسے نمایاں نام شامل تھے، جبکہ مجیب الرحمن شامی اور الطاف حسن قریشی پہلے ہی بھٹو حکومت کی مزاحمت کے باعث دائیں بازو میں قائدانہ حیثیت رکھتے تھے۔

1980 کی دہائی میں مذہبی گھرانوں میں پلنے والی نوجوان نسل کے لیے یہ معمول کی بات تھی کہ ملک پر مارشل لا قائم رہے گا، جنرل ضیا کی حکومت ہمیشہ موجود رہے گی اور اسلامی نظام کے نفاذ کے وعدے ایک مسلمہ حقیقت بن کر سامنے آئیں گے۔ پیپلز پارٹی پر کیا گزر رہی تھی یا لاہور قلعے کی کوٹھڑیوں میں کون اپنی زندگی کے دن پورے کر رہا تھا، ان موضوعات سے ان نوجوانوں کو کوئی سروکار نہ تھا۔ آج جب آغا نوید کی لاہور قلعہ میں قید پر مبنی داستان، جو فرخ سہیل گویندی نے شائع کی ہے، پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے ہی لوگوں کے ساتھ کیا کچھ کرتے رہے۔

دائیں بازو کی اسی فکری سرشاری کے دنوں میں عرفان صدیقی صاحب نے سرسید کالج میں اپنی کلاس کے اندر اس وقت کے چیف مارشل لا جنرل ضیا الحق کو بلایا تھا۔ ان کا ذہن روایتی مذہبی ماحول کا اسیر تھا، چنانچہ وہ افغانستان، کشمیر اور ریاستی اداروں کے جہادی بیانیے سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اگلے تقریباً تیس برس تک نہ انہیں اس بات پر غور کی توفیق ہوئی کہ نجی جہاد اسلام کی روح کے خلاف ہے، نہ وہ یہ سمجھ سکے کہ سیاسی اسلام جسے سید مودودی اور سید قطب نے نظریاتی بنیاد دی، کیوں فکری زوال کا شکار ہوا اور کیسے جہادی تحریکوں نے اس میں پناہ لی۔ نہ ہی انہوں نے اس امکان کو سنجیدگی سے لیا کہ طالبان کی افغانستان میں واپسی پاکستان کے لیے ایک بڑے خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔ بہت عرصہ تک وہ اپنے نظریاتی ماحول کے باعث مجموعی طور پر طالبان کے فکری حامی رہے۔

اسی لیے جب انہوں نے حالیہ برسوں میں طالبان مخالفانہ موقف اختیار کیا تو انہوں نے کبھی یہ وضاحت نہیں کی کہ ان کے پرانے موقف میں کیا خامیاں تھیں اور تبدیلی رائے کیسے پیدا ہوئی۔ ایک دانشور کے لیے یہ کوئی عیب نہیں کہ وہ کھل کر رائے دے، مگر ضروری یہ ہے کہ وہ اپنے مخالف دلائل کو بھی سننے کا حوصلہ رکھے۔

لوگ کہتے ہیں کہ عرفان صدیقی صاحب کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ دائیں بازو کے زیادہ تر صحافیوں کی طرح سیاسیات، جمہوری ارتقا اور انسانی حقوق کے بدلتے نظریات سے کم واقف تھے اور اسی وجہ سے ایک حد تک مقامی اور یک رخی نقطہ نظر کے اسیر رہے۔ اپنی آخری عمر تک وہ اپنے سیاسی مخالفین کے لیے سخت رویہ رکھنے کے قائل تھے اور متعدد بار کارکنوں کو مثال بنانے کی بات کرتے رہے۔ چند ہفتے قبل اپنے ایک کالم میں انہوں نے عدلیہ پر سخت تنقید کی اور ستائیسویں ترمیم کے شدید حامی کے طور پر سامنے آئے۔ اگر ان کا نواز شریف صاحب تک اثر و رسوخ تھا تو ممکن ہے انہی رویوں کے باعث مسلم لیگ ن بھی اپنے مخالفین اور عدلیہ کے حوالے سے لچک نہ دکھا سکی۔

جو دانشور براہ راست سیاسی قائدین تک رسائی رکھتے ہیں، ان پر دوہری ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی مشاورت میں وسیع النظری اختیار کریں تاکہ سیاسی جماعتوں کے طاقتور قائدین کو بہتر سمت دکھا سکیں۔

میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ عرفان صدیقی صاحب پر رحمت فرمائے۔ مگر ایک خواہش ہمیشہ رہے گی کہ کاش وہ اپنی زندگی میں اپنے مخالفین کے لیے نرمی اختیار کرتے اور اپنی صلاحیتوں کو جمہوری اقدار اور سیاسی وسعت نظری کے فروغ کے لیے استعمال کرتے۔ انہوں نے اپنی بے مثال نثر کے باوجود اپنے نظریاتی گروہ بندی کو وسیع النظری پر ترجیح دی۔ آٹھ فروری کے انتخابات کے نتائج پر بھی انہیں کوئی فکری مسئلہ محسوس نہیں ہوا۔ یہ موقف برقرار رکھنا آسان نہ تھا مگر انہوں نے اسے اپنے سیاسی تعصب کے باعث نبھایا۔ شاید اس میں عمران خان دور کی اپنی گرفتاری کی تلخی کا بھی حصہ رہا ہو۔

ان کی زندگی میں ہمارے لیے ایک اہم سبق ہے۔ اسلام کی بڑی قدریں انصاف، سچائی، کمزور طبقات کے لیے کھڑا ہونا اور ترقی پسند عوامی نقطہ نظر رکھنا ہیں۔ اگر ہم یہ اقدار تھام لیں تو ہمیں کسی اور سمت دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

اگر 1980 کی دہائی کے اردو کالم نگاروں میں کسی کو اپنا آئیڈیل کہنا ہو تو شاید سب سے بڑا نام ارشاد احمد حقانی کا ہے۔ آنے والی نسلوں کے سیاسی لکھاریوں کے لیے وہ مشعل راہ رہے اور شاید عرفان صدیقی صاحب کے لیے بھی تھے۔ لیکن پنجاب میں اشرافیہ سے وابستگی، عملی سیاست کی ترجیحات اور اپنے گروہی میلانات نے انہیں ایک مختلف راستے پر ڈال دیا۔

اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں بہترین مقام عطا فرمائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے