پاکستان اورافغانستان کے تعلقات کا سنجیدہ تجزیہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے جذباتی بیانیے اور سفارتی خوش فہمیوں سے نکال کر ریاستی صلاحیت، سلامتی اور زمینی حقائق کی بنیاد پر نہ پرکھا جائے۔ ایک محقق کے طور پر دیکھا جائے تو یہ تعلق دراصل ایک نسبتاً فعال ریاست اور ایک طویل عرصے سے غیر مستحکم ریاست کے باہمی تعامل کی مثال ہے، جس کے اثرات براہِ راست پاکستان کی داخلی سلامتی اور علاقائی استحکام پر مرتب ہوئے ہیں پاک افغان تعلقات کو اگر پاکستان کے نقطۂ نظر سے، ایک تحقیقی اور ریاستی فریم ورک میں دیکھا جائے تو تصویر خاصی واضح ہو جاتی ہے۔ پاکستان اس تعلق میں کبھی توسیع پسند ریاست کے طور پر سامنے نہیں آیا بلکہ ہمیشہ ایک ایسے پڑوسی کے طور پر موجود رہا ہے جس نے اپنی سلامتی، معاشی استحکام اور علاقائی امن کو ترجیح دی۔ اس کے باوجود پاکستان کو مسلسل ایسے خطرات اور الزامات کا سامنا رہا جن کی جڑیں اس کے اپنے اقدامات میں نہیں بلکہ افغان ریاست کی داخلی کمزوریوں میں پیوست ہیں۔
پاکستان کا بنیادی مؤقف ابتدا سے غیر مبہم رہا ہے ایک پرامن، مستحکم اور خودمختار افغانستان جو کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دے۔ یہ مؤقف نہ وقتی ہے اور نہ نظریاتی، بلکہ براہِ راست پاکستان کے قومی سلامتی مفادات سے جڑا ہوا ہے۔ ایک محقق کے طور پر دیکھا جائے تو پاکستان نے اس اصول کی عملی قیمت بھی ادا کی ہے۔دہشت گردی، معاشی نقصان اور سماجی دباؤ کی صورت میں جس کی مثال خطے میں کہیں اور نہیں ملتی۔
پاکستان کی جانب سے افغان مہاجرین کو دہائیوں تک پناہ دینا محض ایک انسانی اقدام نہیں تھا بلکہ ریاستی ذمہ داری اور علاقائی استحکام کی کوشش بھی تھی۔ اس کے برعکس افغان ریاستی بیانیے میں اس قربانی کو شاذ و نادر ہی تسلیم کیا گیا۔ تحقیقی ڈیٹا واضح کرتا ہے کہ اتنی بڑی مہاجر آبادی کی میزبانی کسی بھی ترقی پذیر ملک کے لیے سلامتی اور معیشت دونوں کے لیے ایک مستقل چیلنج بن جاتی ہے، مگر پاکستان نے اسے ایک عارضی مسئلے کے بجائے ایک طویل مدتی حقیقت کے طور پر برداشت کیا۔
ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف قانونی، تاریخی اور عملی بنیادوں پر قائم ہے۔ پاکستان اس سرحد کو تنازع نہیں بلکہ انتظامی اور سلامتی کا مسئلہ سمجھتا ہے۔ اس تناظر میں سرحدی باڑ لگانا یا نقل و حرکت کو منظم کرنا کسی جارحیت کا مظہر نہیں بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کا فطری ردِعمل ہے۔ یہ توقع رکھنا کہ پاکستان اپنی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحد کو غیر منظم چھوڑ دے، نہ تحقیقی طور پر قابلِ دفاع ہے اور نہ عملی طور پر۔
سلامتی کے باب میں پاکستان کا نقطۂ نظر دفاعی اور ثبوت پر مبنی ہے۔ جب افغان سرزمین سے منسلک گروہ پاکستان کے اندر حملے کرتے ہیں تو پاکستان کے لیے خاموشی اختیار کرنا ریاستی غفلت کے مترادف ہوگا۔ پاکستان نے بارہا سفارتی اور تکنیکی سطح پر تعاون کی پیشکش کی، مگر اس کے جواب میں اکثر سیاسی انکار یا ذمہ داری سے فرار دیکھنے میں آیا۔ لیکن بات جب قومی سلامتی اور وقار پر آئے گی تو تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے کبھی پیچھے ہٹنا نہیں سیکھا۔اللہ سبحانہ وتعالی پاکستان کو اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھے_(آمین)
خدا کرے کہ مری ارضِ پاک پہ اُترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھِلے، وہ کھِلا رہے صدیوں
یہاں خِزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو