دسمبر الوداع کیا کھویا کیاپایا

یہ سال میرے لیے آسان نہ تھا۔ خوشیوں کی دستک مدھم رہی اور پریشانیوں کے قدموں کی چاپ زیادہ سنائی دیتی رہی۔ مگر وقت کی ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ کسی کے دکھ سکھ میں شریک نہیں ہوتا، بس خاموشی سے گزرتا چلا جاتا ہے۔ دسمبر آیا، ٹھہرا، اور اب آہستہ آہستہ رخصت کی تیاری میں ہے۔ دسمبر جو ہمیشہ یادوں، وعدوں، جدائیوں اور امیدوں کا امین سمجھا جاتا ہے۔

دسمبر کی آخری شام اپنے اندر ایک عجیب سی رومانویت سمیٹے ہوتی ہے۔ پہاڑوں کی اوٹ میں ڈوبتا سورج، سنہری روشنی کی آخری لکیر، اور سرد ہوا کے نرم جھونکہ سب مل کر دل کے کسی کونے میں دبی یادوں کو جگا دیتے ہیں۔یوں محسوس ہوتا ہے جیسے فطرت خود انسان کے سامنے بیٹھ کر اس سے پورے سال کا حساب مانگ رہی ہو۔سورج کے ساتھ ساتھ سال بھی ڈوب رہا ہوتا ہے، اور انسان اپنے اندر کے موسم گننے لگتا ہے۔

زندگی بلاشبہ ایک حسین مگر تیز رفتار سفر ہے۔یہ محض سانس لینے،کھانے پینے اور دن رات کے بدلنے کا نام نہیں بلکہ شعور، احساس اور ذمہ داری کا ایک مکمل نظام ہے۔قدرت نے انسان کو اشرف المخلوقات اسی لیے بنایا کہ وہ زندگی کو سمجھ کر،سنوار کر اور سنبھال کر گزارے۔مگر افسوس کہ ہم مادہ پرستی کے اس قدر اسیر ہوچکے ہیں کہ زندگی کی اصل خوبصورتی کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ ہم نے خوشی کو اشیاء میں اور سکون کو دولت میں تلاش کرنا شروع کردیا ہے، حالانکہ زندگی کی اصل لذت تو احساس، محبت اور انسانیت میں پوشیدہ ہے۔

دسمبر کی راتیں لمبی ہوتی ہیں شاید اسی لیے یہ سوچنے کا بہترین وقت بھی ہوتی ہیں۔ اس سال زندگی نے مجھے بہت کچھ سکھایا۔نشیب زیادہ آئے، ٹھوکر بھی لگی، زخم بھی کھلے، مگر ہر زخم اپنے ساتھ ایک سبق چھوڑ گیا۔مگر حوصلہ پھر بھی سلامت رہا۔یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس میں میری قوتِ ارادی کے ساتھ ساتھ ان پیارے لوگوں کا بھی بڑا کردار ہے جنہوں نے مشکل وقت میں یہ احساس دلایا کہ کبھی کبھی زہر کا تریاق بھی زہر ہی ہوتا ہے۔ زندگی کی تلخی کو گھونٹ گھونٹ پینا پڑتا ہے، مگر اپنوں کی محبت اس میں گل قند کی سی مٹھاس گھول دیتی ہے۔

اس سال کا پہلا سورج جب طلوع ہوا تھا،تب بھی میں علم کے راستے پر گامزن تھی، اور آج جب سال کا آخری سورج ڈوب رہا ہے تو بھی فرائض کی پکار پر رواں ہوں۔اس تسلسل پر دل کو ایک عجیب سا اطمینان نصیب ہے۔مطمئن ہوں کہ وقت ضائع نہیں کیا چاہے حالات نے کم ساتھ دیا ہو۔ ڈوبتے سورج کے ساتھ گھر لوٹتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عمرِ رواں کا ایک اور کارآمد سال ماضی کے حوالے کر رہی ہوں۔

دسمبر کی آخری شام محض الوداع کا نام نہیں بلکہ ایک مکالمہ ہے۔خود سے اپنے رب سے، اور اپنی زندگی سے یہ وہ لمحہ ہے جب انسان زندگی کے کندھے پر سر رکھ کر سوچتا ہے کہ سود و زیاں کاخسارہ کیوں ہوا کیا ان کی بھرپائی ممکن ہے؟ میں نے کیا پایا اور کیا کھو دیا؟ کون اپنا ثابت ہوا اور کون محض ایک موسم کی طرح گزر گیا؟

نئے سال کی آمد پر ہم سب بڑے بڑے ارادے باندھتے ہیں نئی ڈائری، نئے خواب، نئی فہرستیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایک دو دن کے جوش و خروش میں بنائے گئے منصوبے ہمیں کامیابی تک پہنچا سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ کامیابی مسلسل محنت، صبر اور یکسوئی کا تقاضا کرتی ہے۔ ہمیں نئے طریقے اپنانا ہوں گے۔ خود کو بدلنا ہوگا، اور ان کاموں سے بچنا ہوگا جو دل کو بوجھل اور روح کو بیزار کر دیں۔ اکثر ادھورے خواب اس لیے مر جاتے ہیں کہ ہم ان سے محبت کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

دسمبر ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اختتام بھی خوبصورت ہوسکتا ہے، اگر اس میں شکر اور امید شامل ہو۔رات سرد ہونے کے باوجود اس میں ایک نرم سی حرارت ہوتی ہے۔یادوں کی، وعدوں کی، اور آنے والے دنوں کی۔ یہی ان کی رومانویت ہے کہ وہ ہمیں ٹوٹنے نہیں دیتا، بلکہ بکھر کر سنورنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔

جیسے جیسے دسمبر کی آخری شام رات میں ڈھلتی ہے، دل میں ایک خاموش دعا جنم لیتی ہے:

یا اللہ، آنے والا سال پہلے سے بہتر ہو، دل نرم ہوں، رشتے سچے ہوں، اور زندگی کو واقعی زندگی بن کر جینے کا حوصلہ عطا ہو۔

زندگی بہت خوبصورت ہے۔بس اسے محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے