عسقلان فلسطین کا ایک تاریخی اور مقدس شہر ہے(جو مشہور محدث اور فقہ کے شیخ ، امام حجر عسقلانی کی بھی جائے پیدائش ہے )اور یہاں سے ہی الکحلوت خاندان کا تعلق تھا۔ 1948ء کے اسرائیل کی ناجائز جنم کی وجہ سے یہ خاندان دیگر فلسطینیوں کی طرح بے گھر ہو کر غزہ کے جبالیا مہاجر کیمپ میں آ بسا۔ اسی کیمپ میں 11 فروری 1984 کو سمیر الکحلوت کے ہاں ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی، جس کا نام حذیفہ الکحلوت رکھا گیا۔ یہی بچہ بعد میں دنیا میں ابو عبیدہ کے نام سے پہچانا گیا۔
حذیفہ کا بچپن جبالیا کے مہاجر کیمپ کی تنگ گلیوں اور مسلسل جدوجہد میں گزرا۔ خاندانی تربیت نے اسے قرآن، دین اور اخلاقیات سے جوڑے رکھا۔ اس ماحول نے اس کے اندر صبر، ثابت قدمی اور مزاحمت کی سوچ پیدا کی۔ اس نے اسلامی یونیورسٹی غزہ سے تعلیم حاصل کی اور فلسطین و ارضِ مقدس کی تاریخ پر گہرا مطالعہ کیا، جو اس کی فکری پختگی کا سبب بنا۔
نوجوانی میں اس نے مزاحمتی راستہ اختیار کیا اور القسام بریگیڈز سے وابستہ ہوا۔ جلد ہی اس کی فصاحت، ذہانت اور متوازن اندازِ گفتگو نے اسے حماس کا مؤثر میڈیا ترجمان بنا دیا۔ اسے ابو عبیدہ کا لقب دیا گیا، جو صحابیٔ رسول امین الامہ حضرت ابو عبیدہ عامر بن الجراحؓ کی یادگار تھا۔ اس کی پہچان کالا نقاب اور سرخ دھاریوں والا کوفیہ بن گئی، جبکہ اس کا چہرہ ہمیشہ پردے میں رہا۔
ابو عبیدہ کے بیانات سادہ، پراثر اور حقائق پر مبنی ہوتے تھے۔ وہ لفظوں کے ذریعے قوم کے حوصلے بلند کرتا اور دشمن پر نفسیاتی دباؤ ڈالتا۔ اس کی باتوں کو نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ عالمی میڈیا بھی سنجیدگی سے لیتا تھا۔ اس نے شہرت کو نہیں بلکہ مقصد کو ترجیح دی۔
ذاتی زندگی میں وہ ایک باپ اور شوہر تھا، جس نے اپنے بچوں کی دینی تربیت پر خاص توجہ دی۔ برسوں تک وہ اسرائیلی نشانے پر رہا، مگر ثابت قدمی سے اپنا کردار ادا کرتا رہا۔
30 اگست 2025ء کو کسی میر جعفر کی مخبری میں ایک فضائی حملے میں ابو عبیدہ اپنی اہلیہ اور بچوں سمیت شہید ہوگیا ( اب تک کی اطلاع کے مطابق ایک بچہ ابراہیم بن حذیفہ الکحلوت بچ گیا ہے )اس کی شہادت نے امتِ مسلمہ کو غمزدہ کیا، مگر اس کا پیغام، اس کی آواز اور اس کی علامت زندہ رہی۔
ابو عبیدہ صرف ایک فرد نہیں تھا، بلکہ مزاحمت، صبر اور ایمان کی علامت تھا۔ آج بھی اس کا نام فلسطینی جدوجہد میں ایک روشن چراغ کی طرح زندہ ہے.