سال کا آخری ہفتہ اپنے منزل کی طرف رواں دواں ہے اگر میں پچھلے سال کے دسمبر میں جا کر اپنے آپ کو دیکھوں تو وہ آخری آخری دن خوشی کے دن تھے ایسے لگتا تھا بہار نے خزاں کی جگہ لے لی ہے درختوں پہ پتے نہ ہونے کے باوجود بھی ان پہ ہریالی لگتی تھی۔ اداس شاموں میں بھی خوشیوں کی جھلک تھی۔۔ لمبی لمبی راتیں دل کو بوجھل، اداس نہیں کرتی تھی عرض کہ ایک لمس تھا، مخصوص خوشبو تھی ان دنوں کی وہ نکھرنے کے دن تھے اور پھر ۔۔۔۔
اس سال کی بہار خزاں بن گئی وہ کونپل ،ننھے ننھے پتے بظاہر تو بہار ہی کی آمد تھے لیکن کہیں بہت دور کوئی بکھرے ہوئے پھول کی پتیوں کو اکھٹا کر رہا تھا لیکن بکھرے ہوئے پتے بھی کھبی نکھرے ہیں ۔۔۔۔
پھر کچھ لوگوں کا آنا اور کچھ لوگوں کا چلے جانا یہ اس سال کی عجیب منتک تھی آپ کو نئے لوگ ملتے ہیں تو یہ طے ہیں کہ آپ کی زندگی میں موجود کچھ لوگوں نے آپ سے چلے جانا ہے وہ ایک تھیوری ہے
لاسٹ میٹنگ تھیوری
جب قدرت نے آپ کو الگ کرنا ہو تو پھر آپ ایک شہر ایک گلی میں رہتے ہوئے بھی نہیں ملتے۔۔۔
دعا ہے اگلا سال صحت،خوشی اور عافیت سے گزرے وہ دعائیں جو اس سال پوری نہ ہوئی وہ خیر و برکت سے اگلے سال قبول ہوجائیں۔
دعا ہے اگلے سال قلم ناراض نہ ہو جائیں اور صفحات پہ علم اور تازگی بکھیریں ۔
آمین
دعاؤں میں یاد رکھیئے گا ۔