سیر و تفریح: گھروالوں کے ساتھ وقت گزارنے کی اہمیت

گزشتہ چند دہائیوں کے دوران ہمارے طرزِ زندگی میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں آئی ہیں۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کے باعث جہاں ہمیں بے شمار آسانیاں میسر آئی ہیں، وہیں ہم چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے بھی دور ہوتے جا رہے ہیں۔ پہلے اگرچہ اس قدر سہولتیں موجود نہیں تھیں، لیکن اس کے باوجود لوگوں کے پاس ایک دوسرے کے لیے وقت ہوتا تھا۔احباب و عزیزوں کے ساتھ بیٹھنا اور ان کے دکھ سکھ بانٹنا ایک اہم فریضہ سمجھا جاتا تھا۔

خاندان بھر کے افراد سال میں کم از کم ایک یا دو بار مل کر کسی بڑی پکنک یا سیر و تفریح کے لیے جایا کرتے تھے اور ایک دوسرے کی رفاقت میں خوب لطف اندوز ہوتے تھے۔لیکن اب صورتِ حال یہ ہے کہ رشتہ داروں کو تو چھوڑیں، ہمارے پاس اپنے گھروالوں کے لیے بھی وقت نہیں رہا۔ اس غیر صحت بخش رجحان کی بڑی وجوہات میں بہتر معیارِ زندگی کے حصول کے لیے زیادہ کمانے کی دوڑ اور سوشل ویب سائٹس پر حد سے زیادہ وقت گزارنا شامل ہے۔

یہ طرزِ زندگی اگرچہ سب کے لیے نقصان دہ ہے، لیکن بچوں کے لیے بالخصوص زیادہ مضر ثابت ہو رہا ہے۔دیکھا جائے تو بچے اب گھروں میں گویا قید ہو کر رہ گئے ہیں،حالانکہ نشوونما پاتے بچوں کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ دیگر مصروفیات کے ساتھ ساتھ کھیل کود اور جسمانی سرگرمیوں کو بھی مناسب وقت دیں۔

ایک ماں ہونے کی حیثیت سے یہ آپ کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ بچوں کے لیے ایسا ماحول فراہم کریں جو ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے مفید ہو۔ تحقیق اور تجربات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ کھلی فضا میں وقت گزارنے سے بچوں کی نشوونما پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ قدرتی ماحول میں اکٹھا وقت گزارنے سے خاندان کے افراد کے درمیان یگانگت بڑھتی ہے اور باہمی تعلق مضبوط ہوتا ہے۔

ضروری نہیں کہ آپ کسی دور دراز تفریحی مقام پر پورا دن گزارنے کا منصوبہ بنائیں، بلکہ گھر کے چھوٹے سے باغیچے یا قریبی پارک میں بھی پکنک کا اہتمام کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اصل مقصد روزمرہ کے معمولات سے ہٹ کر اور گھر کے مخصوص ماحول سے باہر نکل کر ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنا ہے۔

اس دوران سب سے اچھی بات یہ ہوتی ہے کہ تمام گھر والے اسمارٹ فون، لیپ ٹاپ یا ٹیبلٹ کے بغیر، صرف اور صرف ایک دوسرے کے لیے وقت نکالتے ہیں۔ ہری بھری جگہ، پھولوں اور پودوں کے درمیان وقت گزارنے سے ہر فرد کے مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بالخصوص وہ بچے جو بے چینی کا شکار ہوتے ہیں اور والدین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے نت نئے مسائل کھڑے کرتے رہتے ہیں، ان کے لیے یہ سرگرمی نہایت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ آؤٹنگ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے ذہنی دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ ایک دوسرے سے بات چیت، ہنسی مذاق اور جسمانی سرگرمیوں کے باعث انسان ذہنی تناؤ سے نجات حاصل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیہات کے سرسبز ماحول میں رہنے والے محنتی افراد، شہروں میں رہنے والوں کے مقابلے میں کم اسٹریس کا شکار نظر آتے ہیں۔

بند کمروں میں رہنے کے باعث آج کل بہت سے افراد وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں۔ کھلی فضا میں درختوں سے چھن کر آتی دھوپ کی کرنوں میں وقت گزارنے سے جسم میں وٹامن ڈی کی سطح بھی متوازن رہتی ہے۔ اس لیے ہفتے یا پندرہ دن میں ایک بار گھر والوں کے ساتھ تفریح کے لیے چند گھنٹے نکالنا کوئی مشکل کام نہیں، بس نیت اور کوشش کی ضرورت ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے