پچھلے ماه دسمبر 2025 کو میں HTN نيوز ويب کے سربراه سلمان صاحب اور سینئر صحافی پیر ولایت شاہ صاحب کے ساتھ ایک اہم میٹنگ میں مصروف تھا کہ موبائل فون پر ایک پیغام آیا۔ یہ پیغام GGHSS ہوتی مردان کی پرنسپل توحید مراد صاحبه کی جانب سے تھا جس میں انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں سائنس فیسٹیول 2025 ہو رہا ہے اور گورنمنٹ گرلز ہائير سیکنڈری اسکول غلہ ڈهیر مردان کی طالبات نے اس میں حصہ لیا ہے۔ یہ پیغام محض اطلاع نہیں بلکہ دور افتادہ علاقے کی امیدوں اور جذبوں کی دستک تھی۔ میٹنگ میں صحافت کے اہم موضوعات زیرِ بحث تھے جس کي وجہ سے اس وقت اٹھنا خلاف آداب تها۔
غلہ ڈهیر کا نام سن کر مجھے وه دن یاد آیا کہ 2014 میں نیلاب ادبی جرگہ غلہ ڈهیر مردان میں شرکت کے دوران میں اس دور افتادہ علاقے کے شعرا جیسے عبداللہ خیالی اور حسن باچا حسن اور ديگر دوستوں سے ملا تھا جو چاربیتہ لکھنے میں بے حد مہارت رکھتے ہیں مجهے نيلاب ادبی جرگہ کے سب شعراء کی مہمان نوازی یاد آئی۔چونکہ میٹنگ کے مقام سے فوری طور پر پی این سی اے جانا ممکن نہیں تھا تو میں نے پرنسپل توحید مراد سے درخواست کی کہ وہ طالبات کے کام کی تفصیل اور ویڈیوز بھیجیں تاکہ میں ان کی محنت اور تخلیقی صلاحیت کو سمجھ سکوں۔
میں نے GGHSS غلہ ڈھیر کی پرنسپل شیراز بیگم سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ طالبات محنتی ہیں اور سائنس میں بہت دلچسپی رکھتی ہیں۔ انہوں نے مجھے ویڈیوز اور تصاوير بھیجیں اور بتایا کہ انہوں نے DEO مردان کو طالبات کے پروجیکٹس کی ویڈیوز بھیجی تھیں جو دیکھ کر انہیں بہت پسند آئیں۔ DEO نے کہا کہ اسلام آباد کے لیے اپنی ٹیم تیار کریں تاکہ وہ اس فیسٹیول میں حصہ لے سکیں۔ یہ عمل طالبات کے لیے حوصلہ افزائی اور قومی سطح پر حصہ لینے کی ضمانت تھا۔
جب میں نے خود ویڈیوز میں دیکھا کہ طالبات نے کس محنت اور لگن کے ساتھ سائنسی ماڈلز تیار کیے تهے تو گورنمنٹ گرلز ہائير سیکنڈری اسکول غلہ ڈهیر مردان کی طالبات کا اسلام آباد میں سائنس فیسٹیول میں حصہ لینے پر دلی خوشی ہوئی۔
ویڈیوز میں دو طالبات سجل سردار اور مائدہ رحمان اپنے ماڈلز کی وضاحت کر رہی تھیں۔ دونوں فرسٹ ایئر اور سیکنڈ ایئر کی طالبات ہیں لیکن یہ کام انہوں نے نہم اور دھم کی کلاسز سے شروع کیا تھا۔
پرنسپل نے بتایا کہ سینئر سائنس ٹیچر بصیرت نے طالبات کے ساتھ بہت محنت کی اور طالبات نے دل و جان سے ماڈلز بنائے ۔مس بصیرت کی رہنمائی سے واضح تھا کہ یہ صرف نصابی سرگرمی نہیں بلکہ شوق، تحقیق اور فہم کا مظہر تھا۔
مائده رحمان نے انسانی جسم پر مبنی ماڈل بنایا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ لوگوں کو سمجھانا چاہتی ہیں کہ انسان کے جسم کے سارے فنکشن کس طرح کام کرتے ہیں دل، گردہ، دماغ، مسلز ، اعصابی نظام اور دیگر تمام اعضاء۔ وہ کہتی ہیں”میں چاہتی ہوں کہ لوگ جسم کے راز کو سمجھیں کہ الله تعالی نے انسانی جسم کے نظام کو کس طرح خوبصورت بنايا ہے ۔
مائده رحمان کا ماڈل نہ صرف معلوماتی بلکہ دلکش بھی تھا۔ دل کے لیے سرخ پانی کے ذریعے خون کی گردش کا مظاہرہ کیا گیا، ماڈل میں گردے کو دکھایا گيا کہ کس طرح وہ فاضل مادے خارج کرتے ہیں اور خون صاف رکھتے ہیں۔ دماغ، مسلز اور دیگر اعضاء کی وضاحت نے دیکھنے والوں کو انسانی جسم کے حیرت انگیز فنکشن سمجھنے میں مدد دی۔
دوسری جانب سجل سردار نے ماحولیاتی آلودگی پر ماڈل بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ فیکٹریوں سے خارج ہونے والی گیسیں اور فضائی آلودگی کس طرح تیزابی بارش پیدا کرتی ہیں اور زمین کی زرخیزی کو متاثر کرتی ہیں۔ ان کا ماڈل گرین ہاؤس ایفیکٹ کی عملی تصویر پیش کرتا تھا جس سے ماحولیاتی تبدیلیوں اور مستقبل کے ماحولیاتی خطرات کو سمجھنا آسان ہو گیا۔
دونوں نے کہا”ہم چاہتی ہیں کہ سائنس کے ذریعے عوام کی خدمت کریں اور اپنے علاقے کے مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہوں”
ان کے الفاظ میں مقصدیت، شوق اور عوامی خدمت کا جذبہ نمایاں تھا۔
شيراز بيگم نے کہا: "بچيوں کی محنت سے ظاهر ہوتا ہے کہ مردان کی طالبات قومی سطح کے میلوں میں اپنا لوہا منوا رہی ہیں اور آئندہ بھی ایسی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لینا چاہیے” پرنسپل کی یہ تعریف نہ صرف طالبات کے لیے بلکہ پورے اسکول اور علاقے کے لیے باعثِ فخر ہے۔
بقول شيراز بیگم "ان کے سکول کی طالبات انتہائی غریب خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں اور ایک دور افتادہ علاقے کے اسکول کی نمائندگی کر رہی تھیں جہاں سہولیات محدود ہیں۔ اس کے باوجود وہ اسلام آباد میں بڑی یونیورسٹیوں کے طلبہ کے ساتھ مقابلہ کرنے اور اعتماد کے ساتھ ماڈلز پیش کرنے میں کامیاب ہوئیں جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ حوصلہ اور رہنمائی وسائل سے زیادہ اہم ہیں۔”
وفاقی وزیرِ تعلیم نے بھی اسٹال کا دورہ کیا اور طالبات کی تعریف کی۔ دوسرے دن انہیں تعریفی اسناد دی گئیں جو نہ صرف طالبات کے لیے بلکہ پورے اسکول کے لیے باعثِ فخر لمحہ تھا۔ پرنسپل نے کہا "کہ اسکول کی زیادہ تر بچياں غریب خاندانوں سے ہیں لیکن اگر صحیح رہنمائی ملے تو وہ وطن کی خدمت میں آگے بڑھ سکتی ہیں”۔
یہ کامیابی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ صلاحیت شہروں، وسائل یا مہنگے اداروں کی محتاج نہیں ہوتی۔ اصل ضرورت رہنمائی، موقع اور اعتماد کی ہے۔ طالبات نے یہ ثابت کیا کہ چھوٹے علاقے کے بچے بھی قومی سطح پر اپنا لوہا منوا سکتے ہیں اور سائنسی میدان میں نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔
ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ باصلاحیت بچوں کے ساتھ معاملہ اکثر وعدوں اور بیانات تک محدود رہ جاتا ہے۔ ماضی میں ایک باہمت کراٹے چیمپئن خان حمید آفریدی کے معاملے میں بھی یہی ہوا جس کے مقابلے کے لئے آنے جانے, ٹريننگ اور رہائش کے لئے کم از کم پچاس لاکھ روپے کی ضرورت تهی۔ میں نے خود وزیراعظم کے مشیر و ايم پی اے اختیار ولی سے بات کی، انہوں نے وعدے بھی کیے ، یقین دہانیاں بھی ہوئیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ نہ ان وعدوں پر عمل ہوا نہ ہی اختيار ولی نے ان کی کال اٹينڈ کی اور نہ ہی وزیراعلیٰ خيبر پختونخوا سہيل آفريدی نے توجہ دی نہ ہی گورنر کی سطح پر کوئی عملی قدم اٹھایا گیا۔البتہ وزير داخلہ محسن نقوی نے دس لاکھ روپے کی مالی مدد کی اور نتیجہ یہ نکلا کہ خان حمید آفریدی نے محسن نقوی کے علاوه حکومتی سہارے کے بغیر لوگوں کی مدد اور اپنی مدد آپ کے تحت تیاری کی اور بالآخر تھائی لینڈ جا کر مقابلے میں حصہ لیا۔ مگر یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ اگر حکومت اس کے ساتھ کھڑی ہوتی تو شاید اس سفر کی مشکلات کچھ کم ہو جاتیں۔
یہ مثال اس لیے اہم ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آج سائنس فیسٹیول میں نمایاں ہونے والی یہ طالبات بھی کل صرف یادوں اور تصویروں تک محدود رہ جائیں۔ اگر واقعی ہم چاہتے ہیں کہ کھیل، سائنس اور علم کے میدان میں ہمارے بچے ملک کا نام روشن کریں تو پھر حکومتی سطح پر محض تعریف نہیں بلکہ مسلسل سرپرستی، عملی تعاون اور واضح پالیسی کی ضرورت ہے کیونکہ قومیں وعدوں سے نہیں عمل سے آگے بڑھتی ہیں۔
یہ کہنا ضروری ہے کہ ہمارے ملک کے ایسے پسماندہ اور دور افتادہ علاقوں کے لیے اگر حکومت باقاعدہ فنڈز رکھے جس میں طلبہ اپنے پروجیکٹس پر کام کریں اور قومی و بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیں تو یہ ان کے لیے آسانی اور حوصلے کا باعث ہوگا۔ یہ عمل نوجوانوں میں سائنسی شعور بڑھائے گا اور ملک و قوم کے لیے روشن مستقبل کی راہیں کھولے گا۔
واقعی ہماری مٹی بڑی زرخیز ہے اگر اس میں ذرا نم ہو۔