پاکستان کی سفارتی کامیابی یا وقتی سکون؟

شاباش پاکستان… شکریہ پاکستان… واہ واہ پاکستان .. یہ محض نعرے نہیں بلکہ ایک ایسے لمحے کی عکاسی ہیں جب عالمی افق پر چھائے خطرناک بادل چھٹتے دکھائی دیے۔ واشنگٹن سے تہران اور بیجنگ تک گونجنے والی بازگشت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر اپنی سفارتی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کسی سے ڈھکی چھپی نہ تھی۔ امریکی دھمکیوں کی ڈیڈ لائن قریب آ رہی تھی اور خطے میں جنگ کے سائے گہرے ہوتے جا رہے تھے۔ ایسے نازک موقع پر پاکستان نے جو کردار ادا کیا، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ خطے میں امن کے لیے ایک اہم پیش رفت بھی ہے۔ بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ عین اس وقت جب دنیا ایٹمی تصادم کے دہانے پر کھڑی تھی، پاکستان کی خاموش مگر مؤثر سفارتکاری نے حالات کا رخ موڑ دیا۔

پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن کا داعی رہا ہے۔ چاہے افغانستان کا معاملہ ہو یا مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ صورتحال، پاکستان نے ہر موقع پر مذاکرات اور مفاہمت کو ترجیح دی۔ اس بار بھی یہی روایت برقرار رہی۔ پس پردہ رابطوں، اعلیٰ سطحی سفارتی کوششوں اور متوازن پالیسی نے امریکہ کو جنگ بندی پر آمادہ کیا جبکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا فیصلہ عالمی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ثابت ہوا۔

تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ کامیابی مستقل امن کی ضمانت ہے یا محض ایک وقتی سکون؟ عالمی سیاست میں مفادات کا کھیل ہمیشہ غالب رہتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے تعلقات کی تاریخ اتار چڑھاؤ سے بھری پڑی ہے، اور ایک معاہدہ یا جنگ بندی اس دیرینہ کشیدگی کا مکمل حل نہیں ہو سکتی۔

پاکستان کے لیے یہ لمحہ یقیناً فخر کا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ ہمیں اپنی سفارتی کامیابیوں کو وقتی نعروں تک محدود رکھنے کے بجائے ایک مستقل پالیسی میں ڈھالنا ہوگا۔ خطے میں امن کے قیام کے لیے مسلسل کوششیں، متوازن خارجہ پالیسی اور عالمی طاقتوں کے ساتھ بہتر تعلقات ناگزیر ہیں۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ صرف ایک جغرافیائی ریاست نہیں بلکہ ایک ذمہ دار اور مؤثر سفارتی قوت بھی ہے۔ اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان عالمی امن کے قیام میں ایک کلیدی کردار ادا کرے گا۔

شاباش پاکستان. یہ صرف ایک نعرہ نہیں، ایک حقیقت بنتی جا رہی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے