جنگ سے وقفہ، امن کا امتحان

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑا ہے، جہاں جنگ اور امن کے درمیان فاصلہ محض چند سفارتی جملوں، عسکری اشاروں اور عالمی طاقتوں کے مفادات کی باریک لکیر پر قائم ہے۔ حالیہ پیش رفت، جس کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان دس روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے، بظاہر ایک محدود المدت وقفۂ جنگ معلوم ہوتا ہے، مگر درحقیقت یہ ایک بڑے جغرافیائی و سیاسی کھیل کی تمہید بھی ہو سکتا ہے۔ اس پیش رفت کو محض ایک وقتی سکون کے طور پر دیکھنا حقیقت کی سادہ کاری ہوگی، کیونکہ اس کے پس منظر میں طاقت، حکمتِ عملی، مزاحمت، اور عالمی دباؤ کے کئی پیچیدہ دھارے بیک وقت رواں ہیں۔

یہ امر غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے کہ اس جنگ بندی میں نہ صرف ریاستی فریقین بلکہ ایک غیر ریاستی مگر انتہائی منظم اور مؤثر قوت حزبُ اللہ بھی شامل ہے۔ حزب اللہ کی شمولیت اس معاہدے کو روایتی سفارتی فریم سے نکال کر ایک کثیر الجہتی سکیورٹی بندوبست میں تبدیل کرتی ہے، جہاں کسی ایک فریق کی خلاف ورزی پورے توازن کو درہم برہم کر سکتی ہے۔ حزب اللہ کے مطالبات، جن میں اسرائیلی حملوں کا مکمل خاتمہ، افواج کی نقل و حرکت پر پابندی، اور سابقہ پوزیشنز کی بحالی شامل ہیں، دراصل اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ لبنان کے اندر مزاحمتی بیانیہ اب بھی پوری قوت کے ساتھ زندہ ہے اور کسی بھی یکطرفہ امن کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی مؤقف، جسے بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا، اس جنگ بندی کو ایک حکمتِ عملی وقفہ قرار دیتا ہے، نہ کہ مستقل امن کی بنیاد۔ اسرائیل کا جنوبی لبنان میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کا اعلان اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ سکیورٹی خدشات کو جواز بنا کر اپنی عسکری برتری کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ مزید برآں، ایران کے کردار کو محدود یا ختم کرنے کی شرط، اس پورے معاملے کو محض لبنانی-اسرائیلی تنازع سے نکال کر ایک وسیع تر علاقائی کشمکش میں تبدیل کر دیتی ہے، جہاں تہران، تل ابیب، اور واشنگٹن ایک دوسرے کے مقابل صف آرا ہیں۔

لبنان کے صدر جوزف عون کا ابتدائی طور پر اسرائیلی وزیراعظم سے براہِ راست گفتگو سے انکار ایک اہم سفارتی اشارہ ہے، جو داخلی سیاسی حساسیت اور عوامی ردعمل کے خدشات کو ظاہر کرتا ہے۔ لبنان، جو پہلے ہی اقتصادی بحران، سیاسی عدم استحکام اور سماجی بے چینی کا شکار ہے، کسی بھی ایسے معاہدے کا متحمل نہیں ہو سکتا جو اس کی خودمختاری یا داخلی توازن کو مزید کمزور کرے۔ یہی وجہ ہے کہ بیروت کی قیادت اس پورے عمل میں محتاط پیش رفت کو ترجیح دے رہی ہے۔

ایران کا کردار اس تمام منظرنامے میں نہایت کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

محمد باقر قالیباف کا یہ بیان کہ لبنان میں جنگ بندی ایران کے لیے بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی اس کی اپنی سرزمین پر، دراصل اس گہرے اسٹریٹجک تعلق کی عکاسی کرتا ہے جو تہران اور حزب اللہ کے درمیان موجود ہے۔ ایران کے لیے لبنان محض ایک اتحادی ریاست نہیں بلکہ اس کی علاقائی پالیسی کا ایک اہم ستون ہے، جس کے ذریعے وہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھتا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی گفتگو اور اس میں جنگ بندی کی حمایت، ایک وسیع تر سفارتی ہم آہنگی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

امریکہ کی پالیسی، جو اس تمام عمل کی محرک نظر آتی ہے، بیک وقت دوہری نوعیت کی حامل ہے۔ ایک طرف پیٹ ہیگسیتھ اور اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کی جانب سے ایران کو دی جانے والی دھمکیاں اس امر کا اظہار ہیں کہ واشنگٹن اور تل ابیب کسی بھی ممکنہ خلاف ورزی کی صورت میں سخت ردعمل کے لیے تیار ہیں۔ دوسری جانب ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں مذاکرات کی دعوت ایک ایسے سفارتی راستے کی نشاندہی کرتی ہے جو تصادم کے بجائے مفاہمت کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ یہ تضاد دراصل امریکی خارجہ پالیسی کی روایتی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں طاقت اور سفارت کاری بیک وقت استعمال کی جاتی ہیں۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے اس جنگ بندی کا خیرمقدم کیا جانا عالمی برادری کی اس خواہش کو ظاہر کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑے تصادم کو روکا جائے۔ تاہم، ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ عارضی جنگ بندیاں اکثر مستقل امن کی ضمانت نہیں بن سکتیں، خصوصاً جب بنیادی تنازعات اور عدم اعتماد کی فضا برقرار ہو۔

ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ وہ اب تک نو جنگیں ختم کروا چکے ہیں اور یہ دسویں ہوگی، ایک سیاسی بیانیہ ضرور ہو سکتا ہے، مگر زمینی حقائق اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ جنگوں کا خاتمہ محض فائر بندی سے نہیں بلکہ دیرپا سیاسی حل، باہمی اعتماد، اور علاقائی توازن کے قیام سے ممکن ہوتا ہے۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان 1983 کے بعد ممکنہ مذاکرات کی بحالی اگرچہ ایک مثبت پیش رفت ہے، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین اپنی زیادہ سے زیادہ پوزیشنز سے پیچھے ہٹ کر ایک قابلِ عمل درمیانی راستہ اختیار کریں۔

مجموعی طور پر یہ جنگ بندی ایک نازک سفارتی تجربہ ہے، جو کامیاب بھی ہو سکتا ہے اور ناکام بھی۔ اس کی کامیابی کا انحصار نہ صرف متعلقہ فریقین کی نیت اور عملداری پر ہے بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ عالمی طاقتیں اپنے مفادات کو کس حد تک پسِ پشت ڈال کر ایک حقیقی اور پائیدار امن کے قیام میں کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر یہ موقع ضائع ہو گیا تو نہ صرف خطہ ایک بار پھر تشدد کی لپیٹ میں آ سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کے اثرات بھی دور رس اور تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے