گمشدہ انصاف اور فلسطین کا مقدمہ

فلسطین میں جاری مظالم نے دنیا میں ہونے والے ہر طرح کے ظلم کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ وہاں کیا ہو رہا ہے؟ ایک پوری نسل کو تباہ و برباد کیا جا رہا ہےاور انسانیت سوز مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔

ظلم کی انتہا اس ہر حد کو پار کر چکی ہے حتی کہ تاریخ کے وہ واقعات جنہیں یاد کر کے آنسو بہائے جاتے ہیں اس کے سامنے بہت معمولی محسوس ہوے لگے ہیں۔ یہاں چھوٹے بچوں سے لے کر بزرگوں تک کوئی بھی محفوظ نہیں۔

فلسطینیوں کے ساتھ جس قدر انسانیت سوز سلوک کیا جا رہا ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

ہم دنیا بھر میں مختلف عالمی دن بڑے جوش و خروش سے مناتے ہیں مگر افسوس یہی ہے کہ انہی دنوں کو مناتے ہوئے ہم فلسطین کے مظلوموں کو بھول جاتے ہیں۔ وہاں بنیادی ضروریات تک میسر نہیں اور لوگ شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ تضاد خود ہماری اجتماعی بے حسی کا آئینہ دار ہے۔

آج کا انسان ترقی کے دعوے تو بہت کرتا ہے مگر انسانیت میں وہ مسلسل پستی کی طرف جا رہا ہے۔ لوگ ظلم دیکھتے ہیں مگر خاموش رہتے حقیقت تو یہ ہے کہ جو لوگ ظلم کو دیکھ کر بھی خاموش ہیں وہ اس ظلم میں برابر کےشریک ہیں۔

حق کو دبایا نہیں جا سکتا۔ وہ سورج کی روشنی کی مانند ہے۔ ظلم وقتی طور پر آوازوں کو دبا سکتا ہے مگر سچائی کو مٹا نہیں سکتا۔

فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں حتیٰ کہ ایسے ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں جن پر عالمی سطح پر پابندی ہے۔ اس کے باوجود عالمی سطح پر مؤثر کارروائی نہ ہونا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کیا ہم واقعی انصاف کے نظام پر یقین رکھتے ہیں یا ہم ایک ایسے تماشے کا حصہ بن چکے ہیں جہاں طاقت ہی سب کچھ طے کرتی ہے؟

سلام ہے فلسطینی قوم پر جو بے سروسامانی کے باوجود ظلم کے آگے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ ڈٹے ہوئے ہیں، ثابت قدم ہیں اور اپنے حق کے لیے کھڑے ہیں۔ بظاہر شاید وہ کمزور نظر آئیں مگر حقیقت میں وہ حوصلے اور استقامت کی ایک عظیم مثال ہیں۔

اس کے برعکس ہم میں سے بہت سے لوگ وسائل ہونے کے باوجود عملی طور پر کچھ نہیں کر پا رہے۔ ہم صرف باتوں اور بیانات تک محدود ہو گئے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ احتجاج بھی کم ہوتا جا رہا ہے کیونکہ ہمارے ضمیر سو چکے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے ضمیر کو جگائیں صرف بطور مسلمان نہیں بلکہ بطور انسان۔ کیونکہ ظلم کسی بھی انسان کے ساتھ ہو اس کے خلاف آواز اٹھانا انسانیت کا تقاضا ہے۔

زندگی فانی ہے مگر وہ لوگ خوش قسمت ہیں جو حق پر ڈٹے رہتے ہیں۔ اہل فلسطین کو اس بات پر فخر ہوگا کہ انہوں نے ظلم کے آگے سر نہیں جھکایا۔ مگر ہمارے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہو گا جب ہماری آنے والی نسلیں ہمیں قصور وار ٹھہراٸیں گی ۔

فلسطینوں کو سزا دینے واے درحقیقت خود سزا کے اصل حقدار ہیں کیونکہ وہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔

مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ ایسے قوانین بھی بنائے جا رہے ہیں جو بنیادی انسانی حقوق اور اخلاقی اصولوں کے خلاف ہیں جیسے قیدیوں کو سزائے موت دینے کے اقدامات۔ یہ صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں بلکہ انصاف کے پورے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ جب قانون بنانے والے خود ظلم سے جڑے نظر آئیں تو مظلوم کے لیے انصاف کی امید مزید کم ہو جاتی ہے۔

فلسطین سے آنے والی تصاویر اور رپورٹس ایک نہایت سنگین صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں۔ لاشوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک اور دیگر مظالم بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ ایسے حالات میں وہ قوتیں بھی جواب دہ ہیں جو سیاسی یا سفارتی سطح پر ان اقدامات کی حمایت کر رہی ہیں یا خاموش تماشاٸی بنی ہوٸی ہیں۔

اب اصل سوال یہی ہے کیا عالمی عدالتیں اور ادارے واقعی انصاف کے لیے کھڑے ہوں گے؟ یا ایک بار پھر خاموشی اختیار کر لی جائےگی؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے