مانسہرہ ہزارہ صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیب، روایت اور ثقافتی شناخت کا نام ہے ۔
یہاں کے لوگوں کی اپنی زبان، رہن سہن، رسم و رواج اور لباس ہے جو صدیوں سے اس خطے کی پہچان رہے ہیں۔ پگڑی بھی انہیں روایات میں شامل ایک اہم علامت ہے، جو عزت، وقار اور ثقافتی شناخت کی نمائندگی کرتی ہے۔ ہزارہ کی پگڑی اپنے انداز میں پشتون ثقافت سے جڑی ہوئی ضرور ہے، مگر اس کی اپنی الگ پہچان بھی موجود ہے۔
حال ہی میں وزیر اعلیٰ کو بلوچ سرداروں کی پگ پہنائی گئی، جس پر کئی لوگوں نے سوال اٹھایا۔ یقیناً بلوچستان ہمارا اپنا صوبہ ہے، بلوچ ثقافت ہماری مشترکہ قومی خوبصورتی کا حصہ ہے اور اس کا احترام ہم سب پر لازم ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ ہر علاقے کی اپنی ثقافتی علامتیں ہوتی ہیں جنہیں مقدم رکھا جانا چاہیے۔ جب کوئی قومی یا سیاسی شخصیت کسی خطے میں جائے تو وہاں کی مقامی ثقافت اور روایات کو نمایاں کرنا دراصل اس علاقے کے عوام کو عزت دینے کے مترادف ہوتا ہے۔
ہزارہ کے لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی ثقافت کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے، حالانکہ اس خطے کی اپنی تاریخی اہمیت اور تہذیبی شناخت موجود ہے۔ اگر وزیر اعلیٰ کو ہزارہ کی روایتی پگڑی پہنائی جاتی تو یہ نہ صرف مقامی ثقافت کی نمائندگی ہوتی بلکہ یہاں کے لوگوں کے جذبات کی بھی ترجمانی بنتی۔ ثقافتی احترام کا تقاضا یہی ہے کہ ہر علاقے کی پہچان کو اس کے اپنے انداز میں تسلیم کیا جائے۔
پاکستان کی خوبصورتی ہی اس کی ثقافتی رنگا رنگی میں ہے۔ پنجابی، سندھی، بلوچ، پشتون، مہاجر ، گلگت و بلتستان ، کشمیری اور ہزارہ وال سب اس ملک کے حسن کا حصہ ہیں۔ لیکن اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ مقامی شناختیں مٹادی جائیں، بلکہ اصل خوبصورتی اسی میں ہے کہ ہر ثقافت کو اس کے اصل رنگ کے ساتھ جگہ دی جائے۔