معرکہ حق: شکر، وقار اور فتح

پاکستان میں اس وقت “عشرہ معرکہ حق” پورے قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے، جس کا نقطہ عروج 9 مئی کو “یوم تشکر” کی صورت میں سامنے آئے گا۔ یہ محض تقریبات کا سلسلہ نہیں بلکہ ایک ایسی اجتماعی یادداشت ہے جو قوم کو اپنے دفاع، اتحاد اور خودمختاری کی اہمیت کا احساس دلاتی ہے۔ اس موقع پر نہ صرف افواج پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے بل کہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیا جا رہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار، باوقار اور مضبوط ریاست ہے۔

گزشتہ برس کے حالات نے خطے کو ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار کیا۔ بھارت کی جانب سے جارحانہ حکمت عملی اور اشتعال انگیز اقدامات نے جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں ڈالا۔ مختلف بین الاقوامی تھنک ٹینکس جیسے International Crisis Group اور Stockholm International Peace Research Institute نے اپنی رپورٹس میں اس بات کی نشاندہی کی کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی تھی۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان نے نہایت ذمہ داری، تحمل اور حکمت کا مظاہرہ کیا۔

پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی ہمیشہ سے واضح رہی ہے کہ پہل نہیں کرنی، مگر دفاع میں کوئی کمزوری نہیں دکھانی۔ جب حالات نے تقاضا کیا تو افواجِ پاکستان نے نہ صرف اپنی سرحدوں کا مؤثر دفاع کیا بلکہ دشمن کو یہ باور کروایا کہ کسی بھی جارحیت کا جواب بھرپور انداز میں دیا جائے گا۔ عالمی ذرائع ابلاغ جیسے بی بی سی اور الجزیرہ نے بھی اپنی کوریج میں اس امر کو اجاگر کیا کہ پاکستان نے کشیدگی کے باوجود ایک متوازن اور ذمہ دارانہ موقف اپنایا۔

جہاں تک فضائی و دفاعی محاذ کا تعلق ہے، پاکستان نے نہایت حکمت عملی کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ مختلف رپورٹس میں دشمن کے فضائی اثاثوں کو نقصان پہنچنے کا ذکر بھی سامنے آیا، تاہم چونکہ اس نوعیت کی معلومات اکثر حساس اور متنازع ہوتی ہیں، اس لیے مستند اور سرکاری سطح پر تصدیق شدہ اعداد و شمار ہی کو حتمی مانا جاتا ہے۔

اسی تناظر میں یہ امر بھی نہایت اہم ہے کہ پاکستان کی جانب سے اس دفاعی ردعمل کو باقاعدہ طور پر “آپریشن بنیان المرصوص” کا نام دیا گیا۔ “بنیان المرصوص” ایک قرآنی اصطلاح ہے جس کا مفہوم ہے سیسہ پلائی ہوئی مضبوط دیوار، ایسی دیوار جو ناقابل تسخیر ہو اور جس میں کوئی کمزوری نہ ہو۔ پاکستان نے اس نام کو محض ایک عنوان کے طور پر اختیار نہیں کیا بلکہ عملی طور پر اسے ثابت بھی کر دکھایا۔ افواج پاکستان، ریاستی اداروں اور پوری قوم نے ایک “بنیان المرصوص” بن کر دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا اور یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستان ایک متحد، مضبوط اور ناقابلِ تسخیر ریاست ہے۔

یہ معرکہ صرف دفاعی میدان تک محدود نہیں تھا بلکہ سفارتی سطح پر بھی پاکستان نے بھرپور کامیابی حاصل کی۔ اقوام متحدہ جیسے عالمی فورمز پر پاکستان نے اپنا موقف مدلل انداز میں پیش کیا اور دنیا کو یہ باور کروایا کہ وہ امن کا خواہاں ہے مگر اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ عالمی برادری نے بھی پاکستان کے اس متوازن رویے کو سراہا، جس سے اس کی بین الاقوامی ساکھ مزید مضبوط ہوئی۔

“عشرہ معرکہ حق” دراصل اسی کامیابی کا تسلسل ہے، ایک ایسا پیغام جو نہ صرف ماضی کی یاد دلاتا ہے بلکہ مستقبل کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ 9 مئی کو “یوم تشکر” منانے کا مقصد اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا، افواج پاکستان کی خدمات کو سراہنا، اور قومی اتحاد کے عزم کو دہرانا ہے۔ یہ دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ جب قوم اور ادارے ایک صفحے پر ہوں تو کوئی بھی چیلنج ناقابل عبور نہیں رہتا۔

اس موقع پر افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہر پاکستانی کا فرض ہے۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت، قربانی اور وطن سے محبت وہ ستون ہیں جن پر ملک کی سلامتی قائم ہے۔ انہوں نے نہ صرف دفاعی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا بلکہ دنیا کو یہ بھی دکھایا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے جو امن کو ترجیح دیتی ہے۔

قیادت کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عسکری قیادت کی بصیرت، حکمت عملی اور بروقت فیصلوں نے اس تمام صورتحال کو سنبھالنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ قوم کی جانب سے فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر کی قیادت کو سراہا جا رہا ہے، جنہوں نے نہ صرف دفاعی محاذ پر مضبوط حکمتِ عملی اپنائی بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کیا۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے ایک نئی پہچان حاصل کی۔ ایک ایسا ملک جو مضبوط بھی ہے اور ذمہ دار بھی۔

تاہم، یہ بھی ضروری ہے کہ ہم جذبات کے ساتھ ساتھ حقیقت پسندی کو بھی مدنظر رکھیں۔ جنگ یا کشیدگی کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوتی۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ایسے حالات سے بچا جائے اور اگر پیدا ہو جائیں تو انہیں دانشمندی سے سنبھالا جائے۔ پاکستان کی پالیسی بھی یہی رہی ہے کہ وہ امن کو ترجیح دیتا ہے، مگر اپنی خودمختاری اور سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا۔

“یومِ تشکر” کے موقع پر پوری قوم سے یہ اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اپنے سیاسی، لسانی اور دیگر اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک قوم بن کر کھڑی ہو۔ یہی اتحاد ہماری اصل طاقت ہے اور یہی وہ پیغام ہے جو دنیا تک پہنچانا ضروری ہے۔ جب دنیا دیکھتی ہے کہ ایک قوم اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے تو اس کا وقار خود بخود بلند ہو جاتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ “عشرہ معرکہ حق” اور “یوم تشکر” ہمیں نہ صرف ماضی کی کامیابیوں کی یاد دلاتے ہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک واضح راستہ بھی متعین کرتے ہیں۔ یہ راستہ اتحاد، ایمان، نظم اور قومی مفاد کو ترجیح دینے کا ہے۔ اگر ہم ان اصولوں پر قائم رہیں تو کوئی بھی طاقت ہمیں ترقی اور استحکام کی راہ سے نہیں ہٹا سکتی۔

اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ امن، ترقی اور استحکام عطا فرمائے، اور ہمیں وہ حوصلہ دے کہ ہم ایک “بنیان المرصوص” بن کر ہر چیلنج کا مقابلہ کر سکیں۔ آمین۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے