برطانیہ کی سیاست اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں 7 مئی 2026 کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات محض مقامی کونسلرز کا چناؤ نہیں بلکہ ایک بڑے سیاسی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ انگلینڈ کی 134 کونسلز کی 5 ہزار سے زائد نشستوں پر 25 ہزار سے زائد امیدواروں کا میدانِ عمل میں اترنا اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ یہ حالیہ برسوں کا سب سے بڑا سیاسی معرکہ ہے۔ اس بار کا انتخابی میدان جہاں معاشی بحران اور داخلی مسائل سے گھرا ہوا ہے، وہی عالمی سیاست اور کمیونٹی کے بدلتے ہوئے رجحانات بھی نتائج پر اثر انداز ہونے کو تیار ہیں۔
وزیراعظم کیر اسٹارمر کی قیادت میں لیبر حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تھا، تو عوامی توقعات کا بوجھ بہت زیادہ تھا۔ اب تقریباً دو سال بعد یہ انتخابات ان کی پالیسیوں پر پہلا بڑا عوامی ریفرنڈم ثابت ہوں گے۔ لیبر کے روایتی ووٹرز، جومہنگائی اور نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) کی بگڑتی صورتحال سے نالاں ہیں، اس بار خاموش احتجاج کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر لیبر پارٹی لندن، برمنگھم اور مانچسٹر جیسے اپنے مضبوط قلعوں میں پوزیشن برقرار رکھنے میں ناکام رہتی ہے، تو ویسٹ منسٹر کے ایوانوں میں اسٹارمر کی قیادت پر سوالات اٹھنا فطری عمل ہوگا۔
اس انتخابی معرکے میں برطانوی پاکستانی کمیونٹی کی اہمیت کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ برطانیہ کے طول و عرض، بالخصوص مڈلینڈز اور شمالی انگلینڈ کے شہروں میں پاکستانی نژاد برطانوی شہری ایک بڑی سیاسی قوت بن کر ابھرے ہیں۔ ماضی میں یہ کمیونٹی لیبر پارٹی کی آنکھ بند کر کے حمایت کرتی رہی ہے، لیکن حالیہ عالمی حالات، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ اور غزہ کی صورتحال پر لیبر کے مبہم موقف نے اس وفاداری کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس بار بریڈ فورڈ، اولڈھم اور برمنگھم جیسے شہروں میں بڑی تعداد میں پاکستانی نژاد آزاد امیدوار میدان میں ہیں، جو ”اپنی آواز، اپنا نمائندہ“ کے نعرے پر ووٹ مانگ رہے ہیں۔ یہ صورتحال لیبر پارٹی کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں، کیونکہ ان کا روایتی ووٹ بینک تقسیم ہونے کا واضح خطرہ موجود ہے۔
برطانیہ کی مقامی سیاست میں امیگریشن کا مسئلہ ہمیشہ سے حساس رہا ہے، لیکن اس بار یہ انتخابات کا مرکزی نقطہ بن چکا ہے۔ نائجل فراج کی”ریفارم یو کے“ نے امیگریشن کو اپنی انتخابی مہم کا بنیادی ایجنڈا بنا کر کنزرویٹو پارٹی کے لیے بقا کا مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔ دائیں بازو کے ووٹرز، جو غیر قانونی تارکین وطن کی آمد اور سرحدوں کی سیکیورٹی پر پریشان ہیں، وہ ریفارم یو کے کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔ اگر ریفارم یو کے بڑی تعداد میں نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہ برطانوی سیاست میں ایک نئے ”تیسرے ستون“ کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔ دوسری جانب، کنزرویٹو پارٹی اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا رہی ہے، لیکن ان کا مقابلہ صرف لیبر سے نہیں بلکہ اپنے ہی ووٹ بینک میں نقب لگانے والی چھوٹی جماعتوں سے بھی ہے۔
لندن کے 32 بوروز کی 1,817 نشستیں اور برمنگھم کی مقامی کونسل کے انتخابات اس بار سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ لندن میں میئر صادق خان کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ گرین پارٹی اور لبرل ڈیموکریٹس کے بڑھتے ہوئے اثر کو کیسے روکتے ہیں۔ برمنگھم میں جہاں کونسل مالی بحران کا شکار ہے اور ٹیکسوں میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا ہے، وہاں عوامی غصہ عروج پر ہے۔ ان شہروں کے نتائج یہ طے کریں گے کہ کیا لیبر اب بھی برطانیہ کے شہری مراکز کی نمائندہ جماعت ہے یا اب عوام تبدیلی کے لیے متبادل قیادت کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
ان انتخابات کا ایک خوش آئند پہلو خواتین اور نوجوانوں کی بڑی تعداد میں شرکت ہے۔ 25 ہزار امیدواروں میں سے ایک تہائی خواتین ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ برطانیہ میں سیاسی شعور نچلی سطح تک پہنچ چکا ہے۔ تاہم، انتخابی مہم کے دوران سوشل میڈیا پر غلط معلومات کا پھیلاؤ اور کمیونٹیز کے درمیان بڑھتی ہوئی تقسیم تشویشناک ہے۔ ووٹرز کے سامنے اس بار صرف مقامی مسائل جیسے کوڑا کرکٹ کی نکاسی یا سڑکوں کی مرمت نہیں ہیں، بلکہ وہ قومی اور بین الاقوامی پالیسیوں کو بھی مدنظر رکھ کر فیصلہ کریں گے۔
7 مئی کا معرکہ صرف کونسل کی نشستوں کی جیت ہار نہیں ہے، بلکہ یہ برطانیہ کے سیاسی مستقبل کی سمت کا تعین کرے گا۔ اگر کیر اسٹارمر اپنی پوزیشن بچانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو ان کی حکومت کو مزید استحکام ملے گا، لیکن اگر نتائج توقع کے برعکس آئے تو برطانیہ میں سیاسی عدم استحکام کی ایک نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔ پاکستانی کمیونٹی کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ جذباتی فیصلوں کے بجائے اپنی سیاسی طاقت کو منوانے اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سوچ سمجھ کر ووٹ کا استعمال کرے۔8 مئی کی صبح جب بیلٹ بکس کھلیں گے، تو ان میں سے نکلنے والے نتائج صرف برطانیہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے سیاسی مبصرین کے لیے حیران کن بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ مئی کا مہینہ برطانیہ میں ایک نئی سیاسی تاریخ رقم کرنے جا رہا ہے۔