فرانز کافکا نے ایک بار ایک روتی ہوئی بچی سے کہا تھا:
"تمہاری گڑیا کھوئی نہیں، بس سفر پر گئی ہے۔”
کاش ہم بھی یہ کہہ سکتے۔ کاش ہمارے کھوئے ہوئے لوگ محض سفر پر گئے ہوتے۔ مگر جو لوگ 1971 کے بعد بنگلہ دیش کے تنگ و تاریک کیمپوں میں دھکیل دیے گئے، وہ سفر پر نہیں گئے تھے انہیں دھکیلا گیا تھا۔ انہیں بھلا دیا گیا تھا۔ اور ہم نے بطورِ قوم ان کے لیے کوئی خط نہیں لکھا۔
آج میں اپنی نئی ڈیجیٹل تالیف "1971: گمشدہ عشاقِ پاکستان اور شناخت کی موت” کے بارے میں لکھ رہی ہوں۔
یہ مجموعہ میرے ڈیڑھ سو سے زائد کالموں میں سے چھیالیس کالموں کا انتخاب ہے اور یہ عدد محض ایک شمار نہیں، بلکہ ایک تاریخی اشارہ ہے۔ 1946 وہ سال تھا جب بہار کے فسادات نے لاکھوں مسلمانوں کو ان کی جڑوں سے اکھاڑ پھینکا۔ وہی لوگ، وہی نسل، وہی خواب جو پھر 1971 میں دوسری بار بے وطن کر دیے گئے۔ چھیالیس کا انتخاب اس پورے سفرِ المناک کو خراجِ تحسین ہے۔
وہ جو بھلا دیے گئے
16 دسمبر 1971 کے بعد بنگلہ دیش میں تقریباً تین سے پانچ لاکھ اردو بولنے والے پاکستانی جنہیں عام فہم زبان میں "بہاری” کہا جاتا ہے اپنے ہی ملک کی شہریت سے محروم ہو گئے۔
آج بھی ڈھاکہ سمیت تیرہ سے چودہ شہروں اور قصبوں میں چھیاسٹھ سے ستر کے قریب "کیمپوں” میں، چار چار یا چھے چھے فٹ کے ڈربوں میں نسلیں پل رہی ہیں۔ نہ شہریت، نہ شناخت، نہ تحفظ، نہ عزتِ نفس۔
یہ اعداد و شمار بھی غیر یقینی ہیں کیونکہ کوئی باقاعدہ ڈیٹا بیس موجود نہیں اور یہی اس المیے کی سب سے بڑی علامت ہے: جن لوگوں کو گِنا نہیں گیا، انہیں انسان بھی نہیں سمجھا گیا۔
ایک سوال جو مجھے چین نہیں لینے دیتا
پاکستان میں سماجی کارکن خاموش ہیں۔ حقوقِ انسانی کے علمبردار خاموش ہیں۔ فیمنسٹ حلقے خاموش ہیں۔ بڑی بڑی صحافت نے ان کے قتلِ عام پر، ان کی بے وطنی پر، ان کی عورتوں کی اجتماعی بے حرمتی پر ایک سطر لکھنا گوارا نہیں کیا۔ جامعات کے کسی نصاب میں ان کی کہانی نہیں۔ خارجہ پالیسی کی بحث میں ان کی جگہ نہیں۔
جو بیانیہ پاکستان مخالف ہو، وہ جتنی آسانی سے قبول کر لیا جاتا ہے، اپنا دفاع کرنے والی آواز کو اتنی ہی آسانی سے نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ محض بے حسی نہیں، بلکہ ایک سیاسی انتخاب ہے۔ اور ریاست جب یہ چنتی ہے کہ کس کا درد قابلِ اعتراف ہے اور کس کا نہیں، تو وہ بھی ایک سیاسی عمل ہوتا ہے۔
یہ تالیف کیا ہے اور کیوں ہے
اس مجموعے کے کالموں کا دائرہ وسیع ہے۔
کچھ کالم براہِ راست بہاری شناخت اور "کیمپوں” کی زندگی پر ہیں۔ کچھ میں پاکستانی اور بنگلہ دیشی میڈیا کے اس المیے سے برتاؤ کو پرکھا گیا ہے — کہ کیسے خاموشی بھی ایک پالیسی ہوتی ہے، اور کچھ خبریں جان بوجھ کر خبر نہیں بنتیں۔
کچھ کالموں میں پاکستانی حقوقِ انسانی کی تحریک سے سوال کیا گیا ہے کہ انتخابی یکجہتی کس طرح کام کرتی ہے، اور کون سے مظلوم قابلِ ذکر ہیں اور کون نہیں۔ فیمنسٹ حلقوں سے بھی سوال ہے کہ جب پاکستانی بہاری عورتوں پر ہونے والے مظالم کی بات آتی ہے تو وہی آوازیں کیوں دب جاتی ہیں جو دوسری جگہوں پر بلند ہوتی ہیں۔
اردو ادب میں محصورین کی غیر موجودگی پر بھی لکھا گیا ہے۔ یہ برادری اردو کی امین رہی، اور خود اردو ادب نے انہیں کتنی جگہ دی، یہ اپنے آپ میں ایک المیہ ہے۔
ایک اعتراف
ان تحریروں میں "تعصب” ہے ، میں اس سے انکار نہیں کرتی۔ میں اس برادری سے ہوں جس کے بارے میں لکھ رہی ہوں۔ جو درد اندر سے آتا ہے، وہ کبھی کبھی قلم کو بھی بے قابو کر دیتا ہے۔
جو باتیں میں نے کئی بار کہی ہیں، وہ اس لیے نہیں کہ بھول گئی تھی، بلکہ اس لیے کہ جب تک سنی نہ جائیں، دہرانی پڑتی ہیں۔
یہ مجموعہ ادبی معیار کی کسوٹی پر نہ پرکھا جائے۔ نہ یہ کسی اعزاز کی درخواست ہے، نہ کسی ادارے کی توجہ کا طلبگار۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہے جن کے ضمیر ابھی سوئے نہیں۔
محبت کی واپسی
آج بنگلہ دیش اور پاکستان کرکٹ بھی کھیلتے ہیں۔ بنگالی اردو ڈرامے دیکھتے ہیں۔ اردو گانے انہیں پسند ہیں۔ محبت کی واپسی کا آغاز تو ہو چکا ہے — بس اس میں چند لاکھ گمشدہ عشاقِ پاکستان کو بھی شامل کر لیا جائے۔
میں امن چاہتی ہوں — مگر سچ کو تسلیم کرنے کے ساتھ۔ اور سچ یہی ہے کہ ہم نے پاکستان سے غیر مشروط عشق کیا اور تباہ ہوئے۔ اس کا اعتراف دونوں ریاستوں کو کرنا چاہیے۔
کافکا نے لکھا تھا:
"جس سے تم محبت کرتے ہو، وہ شاید کھو جائے مگر محبت کسی نہ کسی صورت میں واپس آ جاتی ہے۔”
ہم نے محبت کو واپس آنے کا راستہ نہیں دیا۔ یہ تالیف اسی بند دروازے کو ایک بار پھر کھٹکھٹانے کی کوشش ہے۔
تشکر
میں آئی بی سی اردو کی تہِ دل سے مشکور ہوں جس نے مکالمے، تنوعِ فکر، اور سماجی شعور کے فروغ کے لیے ہمیشہ اپنے صفحات کھلے رکھے اور میری تحریروں کو قارئین تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان تمام مدیران، قارئین، اور ساتھی لکھنے والوں کا بھی شکریہ، جن کے اعتماد اور حوصلہ افزائی نے اس فکری سفر کو جاری رکھنے کی طاقت دی۔
یہ ڈیجیٹل کتاب مفت ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہے:
[www.drrakhshinda.mystrikingly.com/publications](http://www.drrakhshinda.mystrikingly.com/publications)
ڈاکٹر رخشندہ پروین مصنفہ، سماجی ترقیاتی ماہر، اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اِنٹر سیکشنل فیمنسٹ ہیں۔ وہ پاکستان میں صنفی تشدد، امن سازی، اور مہاجر و بہاری شناخت جیسے حساس موضوعات پر کام کرنے والی چند نڈر آوازوں میں شمار ہوتی ہیں۔