بلوچستان کے ضلع گوادر کے یونیورسٹی کے وائس چانسلر ،اور پرو وائس چانسلر سمیت چار ملازمین لاپتہ ہوگئے ہیں ۔
سرکاری حکام نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گوادر سے کوئٹہ آتے ہوئے مستونگ کے علاقے سے لاپتہ ہو گئے۔
پولیس حکام نے اس شبے کا اظہار کیا کہ ان کو اغوا کر لیا گیا ہے ۔
محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے بتایا ان کی تلاش کے لیے اقداما ت جاری ہیں ۔
وائس چانسلر اور دیگر ملازمین کہاں سے لاپتہ ہوئے ؟
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے ملحقہ ضلع مستونگ کے ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر ، پرو وائس چانسلر سید منظور احمد ، ایک ملازم شکیل احمد اور وی سی کے ڈرائیور سرکاری گاڑی میں گوادر سے کوئٹہ آرہے تھے ۔
انھوں نے بتایا کہ ضلع میں کوئٹہ کراچی ہائی وے پر کھڈ کوجہ میں کنڈ عمرانی کے علاقے میں رات کو ان سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا ۔
پولیس اہلکار نے ان کے اغوا کے امکان کو مسترد نہیں کیا ۔
"سیکورٹی ادارے وائس چانسلر اور دیگر افراد کی تلاش میں مصروف ہیں”
حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے اس واقعہ کے حوالے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وائس چانسلر گوادر یونیورسٹی اور پرو وائس چانسلر گزشتہ روز مستونگ کے قریب لاپتہ ہوئے ۔
ان کا کہنا ہے وائس چانسلر اور پرو وائس چانسلر کے موبائل فونز بند جارہے ہیں جبکہ سیکیورٹی ادارے ان کی تلاش میں مصروف ہیں۔
معاون برائے میڈیا کے مطابق گوادر سے کوئٹہ سفر کے دوران وائس چانسلر اور دیگر ملازمین کا مستونگ کے قریب رابطہ منقطع ہوا۔
ان کا کہنا ہے سیکیورٹی ادارے اور ضلعی انتظامیہ مشترکہ طور پر ان کہ بازیابی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں جبکہ حکومت بلوچستان معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔
مستونگ کہاں واقع ہے ؟
مستونگ اگرچہ ضلع کوئٹہ سے ملحق ہے تاہم اس کا ہیڈ کوارٹر مستونگ شہر کوئٹہ سے اندازا پینتالیس کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مشرق میں واقع ہے ۔
اس ضلع کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سےمتائثر ہیں ۔
ضلع مستونگ میں جہاں سنگین بدامنی کے دیگر واقعات کمی و بیشی کے ساتھ رونما ہورہے ہیں وہاں 2024سے اس ضلع میں بھی کالعدم تنظیموں کی جانب سے شاہراہوں کی ناکہ بندی کی جارہی ہے ۔
ان ناکہ بندیوں کے دوران اب تک متعدد افراد اغوا ہوئے ہیں ۔