کل سے پڑھوں گا ؛ طالب علم کی لازوال کہانی

پاکستان میں اگر کسی جملے کو قومی نعرہ قرار دے دیا جائے تو شاید وہ ہوگا: “کل سے پڑھوں گا۔” یہ وہ تاریخی جملہ ہے جو ہر طالب علم اپنی زندگی میں ہزاروں بار بولتا ہے، مگر وہ “کل” آخرکار کبھی نہیں آتا۔ وقت بدل جاتا ہے، کلاسیں بدل جاتی ہیں، کتابیں بدل جاتی ہیں، لیکن طالب علم کا یہ عزم کبھی نہیں بدلتا۔

طالب علمی کا آغاز بڑے جذبے سے ہوتا ہے۔ نئے بستے، نئی کاپیاں، رنگ برنگے ہائی لائٹر اور دل میں بڑے بڑے خواب۔ ہر طالب علم سال کے شروع میں یہی سوچتا ہے کہ اس بار وہ روزانہ پڑھے گا، وقت ضائع نہیں کرے گا اور کلاس کا سب سے ذہین طالب علم بنے گا۔ مگر یہ جذبہ عموماً پہلے ہفتے تک ہی زندہ رہتا ہے۔ اس کے بعد موبائل فون، دوستوں کی محفلیں، کرکٹ میچ، ریلز اور نیند اپنی اصل طاقت دکھانا شروع کر دیتے ہیں۔

جب بھی پڑھنے کا وقت آتا ہے، انسان کو اچانک دنیا کے سارے ضروری کام یاد آنے لگتے ہیں۔ کبھی کمرہ صاف کرنا ضروری ہو جاتا ہے، کبھی الماری ترتیب دینا یاد آ جاتا ہے، اور کبھی ایسا لگتا ہے کہ اگر آج یوٹیوب نہ دیکھی تو شاید زندگی ادھوری رہ جائے گی۔ بعض طلبہ تو کتاب کھولتے ہی اتنی شدید نیند محسوس کرتے ہیں کہ لگتا ہے جیسے کتاب نہیں بلکہ نیند کی دوا سامنے رکھ دی گئی ہو۔

پاکستانی طالب علم کی زندگی میں “پانچ منٹ کا آرام” بھی ایک خطرناک چیز ہے۔ طالب علم سوچتا ہے کہ صرف پانچ منٹ موبائل استعمال کروں گا، مگر جب دوبارہ ہوش آتا ہے تو تین گھنٹے گزر چکے ہوتے ہیں اور وہ کسی بلی کی ویڈیو دیکھ کر ہنس رہا ہوتا ہے۔ پھر ضمیر جاگتا ہے اور انسان خود سے وعدہ کرتا ہے: “بس، اب واقعی کل سے پڑھوں گا۔”

امتحانات کے دنوں میں طالب علم کی اداکاری بھی دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔ پورا سال کتابوں سے دور رہنے والا انسان اچانک اتنا سنجیدہ ہو جاتا ہے جیسے اگلا نوبیل انعام اسی نے جیتنا ہو۔ سوشل میڈیا پر موٹیویشنل ویڈیوز دیکھی جاتی ہیں، اسٹڈی پلان بنائے جاتے ہیں اور دوستوں کو لمبے لمبے لیکچر دیے جاتے ہیں کہ “یار، وقت بہت قیمتی ہوتا ہے۔” مگر حقیقت یہ ہے کہ آدھا وقت پلان بنانے میں گزر جاتا ہے اور باقی آدھا یہ سوچنے میں کہ پڑھائی شروع کہاں سے کی جائے۔

ہاسٹل اور یونیورسٹی کے طلبہ کی حالت تو اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہوتی ہے۔ رات کو سب دوست بڑے جوش سے کہتے ہیں، “آج پوری رات پڑھیں گے۔” پھر کوئی چائے لے آتا ہے، کوئی کرکٹ کی بات شروع کر دیتا ہے اور کوئی پرانی یادیں سنانے لگتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ صبح اذان تک صرف مذاق، قہقہے اور چائے چلتی رہتی ہے، جبکہ کتابیں بیچارے ایک کونے میں پڑی رہتی ہیں۔

آج کل سوشل میڈیا نے طالب علم کی توجہ مزید کم کر دی ہے۔ پہلے زمانے میں کم از کم کتاب سامنے رکھ کر انسان سوچتا تھا، مگر اب موبائل ہاتھ میں آتے ہی وقت ہوا کی طرح اڑ جاتا ہے۔ ایک ریل دیکھنے سے آغاز ہوتا ہے اور پھر انسان ایسی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے جہاں نہ وقت کا پتہ چلتا ہے اور نہ ہی امتحان کی تاریخ یاد رہتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی طالب علم امتحان کے ایک دن پہلے گوگل پر سرچ کرتا ہے: “ایک رات میں پورا سلیبس کیسے یاد کریں؟”

والدین بھی طالب علم کی ان عادتوں سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ پاکستانی مائیں خاص طور پر ہر آدھے گھنٹے بعد یہی جملہ دہراتی ہیں: “بیٹا، تھوڑا پڑھ بھی لیا کرو۔” جبکہ ابو کا غصہ عموماً رزلٹ والے دن پوری شدت سے سامنے آتا ہے۔ تب طالب علم کے پاس صرف ایک ہی جواب ہوتا ہے: “اس بار حالات ٹھیک نہیں تھے، اگلے سمسٹر سے دل لگا کر پڑھوں گا۔”

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر طالب علم کے اندر کامیاب ہونے کی خواہش ضرور موجود ہوتی ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم اکثر وقت کی اہمیت کو دیر سے سمجھتے ہیں۔ اگر نوجوان تھوڑی سی مستقل مزاجی اور محنت کو اپنی عادت بنا لیں تو کامیابی کوئی مشکل چیز نہیں۔ دنیا میں کامیاب وہی لوگ ہوتے ہیں جو “کل” کا انتظار کرنے کے بجائے آج سے آغاز کرتے ہیں۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ “کل سے پڑھوں گا” صرف ایک جملہ نہیں بلکہ پاکستانی طالب علموں کی جذباتی کہانی بن چکا ہے۔ یہ وہ وعدہ ہے جو ہر رات کیا جاتا ہے اور ہر صبح بھلا دیا جاتا ہے۔ مگر شاید زندگی بدلنے کے لیے کسی بڑے معجزے کی نہیں، صرف اس ایک فیصلے کی ضرورت ہوتی ہے کہ “کل نہیں، آج سے پڑھوں گا۔”

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے