پشتون قوم کی اصل پہچان اسلام، غیرت اور اپنی زبان سے محبت

دنیا کی ہر قوم کسی نہ کسی شناخت پر فخر کرتی ہے۔ کوئی اپنی تاریخ پر ناز کرتا ہے، کوئی اپنی تہذیب پر، کوئی اپنی زبان پر اور کوئی اپنی بہادری پر۔ مگر پشتون قوم اُن چند اقوام میں شامل ہے جنہوں نے نہ صرف اپنی روایات اور ثقافت کو زندہ رکھا بلکہ دینِ اسلام کے ساتھ بھی اپنی محبت، وابستگی اور قربانیوں کی ایک روشن تاریخ رقم کی۔

آج بعض حلقوں کی طرف سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ پشتون قوم صرف قومیت، زبان یا قبائلی روایات کو اہمیت دیتی ہے، جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اگر تاریخ، معاشرت، دینی خدمات، جہاد، مدارس، علماء اور عام پشتون کی روزمرہ زندگی کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ پشتون قوم اپنی زبان اور ثقافت سے محبت ضرور کرتی ہے، لیکن دینِ اسلام کو اپنی زندگی کا مرکز سمجھتی ہے۔

پشتون جہاں بھی ہو، پاکستان میں ہو یا افغانستان میں، خلیجی ممالک میں ہو یا یورپ میں، اُس کی شناخت میں اسلام نمایاں نظر آتا ہے۔ اذان کی آواز پر مسجد کی طرف بڑھنا، علماء کا احترام، دینی مدارس کی خدمت، قرآن سے محبت اور دین کیلئے قربانی دینا پشتون معاشرے کی بنیادی خصوصیات ہیں۔

پشتون معاشرے میں ایک عام شخص بھی دین کے معاملے میں حساس ہوتا ہے۔ وہ اپنی زبان، قبیلے یا خاندان سے محبت ضرور کرتا ہے، مگر جب دینِ اسلام کی بات آئے تو اس کے جذبات اور غیرت مزید مضبوط ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ گواہ ہے کہ پشتون قوم نے ہر دور میں اسلام کے دفاع کیلئے قربانیاں دی ہیں۔

اسلامی تاریخ اور برصغیر کی تاریخ میں پشتون قوم کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں۔ جب بھی اسلام، آزادی یا عزتِ نفس پر حملہ ہوا، پشتون صفِ اول میں کھڑے نظر آئے۔
خوشحال خان خٹک نے اپنی شاعری میں پشتون غیرت اور اسلامی فکر دونوں کو زندہ رکھا۔
رحمان بابا نے پشتو زبان میں عشقِ الٰہی، اخلاق اور انسانیت کا درس دیا۔

اسی طرح تاریخ کے مختلف ادوار میں ہزاروں پشتون علماء، مجاہدین اور دینی رہنماؤں نے اسلام کی سربلندی کیلئے اپنی زندگیاں وقف کیں۔ مدارس قائم کیے، قرآن و حدیث کی تعلیم دی، دعوت و تبلیغ کی محنت کی اور عوام کو دین سے جوڑے رکھا۔

اگر صرف خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کے مدارس، مساجد اور دینی اداروں کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ پشتون معاشرہ دین سے کس قدر جڑا ہوا ہے۔ یہاں ہزاروں علماء دین کی خدمت کے ساتھ اپنی مادری زبان پشتو میں بھی اصلاحی اور دینی کام کرتے ہیں تاکہ عوام تک اسلام کا پیغام آسان انداز میں پہنچ سکے۔

بعض لوگ یہ تاثر دیتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی زبان یا قوم سے محبت کرے تو گویا وہ دین سے دور ہو رہا ہے۔ یہ سوچ درست نہیں۔ اسلام نے زبان یا قوم سے محبت کو منع نہیں کیا بلکہ تعصب، ظلم اور برتری کے غلط تصور کو منع کیا ہے۔

پشتون اپنی زبان سے محبت کرتے ہیں کیونکہ زبان صرف بولنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک تہذیب، تاریخ اور شناخت ہوتی ہے۔ پشتو زبان میں ادب، شاعری، حکمت، غیرت اور دینی فکر کا خزانہ موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پشتون علماء نے پشتو زبان میں دینی کتابیں لکھیں، بیانات کیے اور عوام کی رہنمائی کی۔

حقیقت یہ ہے کہ ایک سچا پشتون اسلام اور پشتو دونوں سے محبت کرتا ہے، مگر دونوں کی حیثیت الگ الگ سمجھتا ہے۔ اسلام اُس کا دین، ایمان اور آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے جبکہ پشتو اُس کی ثقافت، شناخت اور تہذیبی ورثہ ہے۔

پشتون معاشرے میں “پشتونولی” کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ اس میں عزت، وفاداری، جرأت، مہمان نوازی، وعدے کی پاسداری اور غیرت جیسے اصول شامل ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو ان میں سے اکثر اقدار اسلام کی تعلیمات سے قریب ہیں۔

اسلام بھی سچائی، عدل، امانت، وفاداری اور مہمان نوازی کا حکم دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پشتون معاشرے میں دینی اور ثقافتی اقدار ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔

البتہ اگر کسی رسم یا روایت میں اسلامی تعلیمات کے خلاف کوئی چیز موجود ہو تو ایک باشعور مسلمان پشتون کیلئے ضروری ہے کہ وہ اسلام کو ترجیح دے، کیونکہ مسلمان کی اصل کامیابی اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں ہے۔

پشتون قوم کی سب سے بڑی طاقت اس کے علماء رہے ہیں۔ مدارس، مساجد، دینی اجتماعات اور اصلاحی تحریکوں میں پشتون علماء کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ ہزاروں علماء نے دین کی خدمت کرتے ہوئے اپنی زندگیاں سادگی، تقویٰ اور دعوت میں گزار دیں۔

یہ علماء صرف اسلام کی بات نہیں کرتے بلکہ اپنی قوم کی اصلاح، تعلیم اور اخلاقی تربیت کیلئے بھی جدوجہد کرتے ہیں۔ انہوں نے پشتو زبان کو دینی پیغام پہنچانے کا ذریعہ بنایا تاکہ عام لوگ آسانی سے دین کو سمجھ سکیں۔

آج بھی اگر کسی پشتون علاقے میں جائیں تو وہاں مسجد اور مدرسہ معاشرتی زندگی کا مرکز نظر آتا ہے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ پشتون معاشرہ اسلام سے گہری محبت رکھتا ہے۔

آج کا دور سوشل میڈیا، قوم پرستی، لسانیت اور فکری انتشار کا دور ہے۔ نوجوانوں کو مختلف نعروں کے ذریعے تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کہیں قومیت کے نام پر دین کو کمزور کیا جا رہا ہے اور کہیں دین کے نام پر زبان اور ثقافت کو مکمل طور پر رد کیا جا رہا ہے۔

پشتون نوجوانوں کو سمجھنا ہوگا کہ اسلام اور اپنی زبان سے محبت ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ ایک نوجوان بیک وقت اچھا مسلمان، اچھا پشتون اور اپنی ثقافت کا محافظ ہو سکتا ہے۔ اصل خطرہ تب پیدا ہوتا ہے جب قومیت کو دین پر ترجیح دی جائے یا دین کے نام پر اپنی جائز ثقافتی شناخت کو مٹانے کی کوشش کی جائے۔
دنیا میں شاید ہی کوئی ایسی قوم ہو جس نے جنگوں، ہجرتوں، غربت اور قربانیوں کا سامنا پشتونوں کی طرح کیا ہو۔ مگر ان تمام مشکلات کے باوجود پشتون قوم نے اسلام، مسجد، مدرسہ اور دینی اقدار سے اپنا تعلق نہیں توڑا۔

پشتون مائیں اپنے بچوں کو قرآن سکھاتی ہیں، نوجوان مساجد سے وابستہ رہتے ہیں، علماء کا احترام کیا جاتا ہے اور دینی شعائر کو عزت دی جاتی ہے۔ یہ سب اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ پشتون معاشرے کی بنیاد اسلام ہے۔

اصل پیغام

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پشتون قوم کو آپس میں تقسیم کرنے کے بجائے اُن کی دینی اور اخلاقی طاقت کو مضبوط کیا جائے۔ پشتون اگر اپنی زبان، ثقافت اور روایات سے محبت کرتے ہیں تو یہ کوئی جرم نہیں، بلکہ یہ ایک فطری چیز ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ اُن کے دلوں میں اسلام کی محبت سب سے زیادہ گہری ہے۔

* اسلام اُس کا دین ہے
* پشتو اُس کی زبان ہے
* غیرت اُس کی روایت ہے
* اور اخلاق اُس کی خوبصورتی ہ
پشتون قوم کی تاریخ، علماء، قربانیاں، مدارس، مساجد اور معاشرتی اقدار اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں کہ اسلام ان کی اصل پہچان ہے۔ پشتون اپنی زبان اور ثقافت سے محبت ضرور کرتے ہیں، مگر دینِ اسلام کو اپنی زندگی، ایمان اور نجات کا راستہ سمجھتے ہیں۔

اس لئے پشتون قوم کو قومیت اور دین کے درمیان لڑانے کے بجائے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک سچا پشتون وہی ہے جو اسلام سے مضبوط وابستگی رکھے، اپنی زبان اور ثقافت کی حفاظت کرے، اور اپنے کردار سے دنیا کو یہ پیغام دے کہ دین اور تہذیب ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے